اندر کا منظر؛ برلن میں مائیکل کا اپارٹمنٹ، دن ؛ صبح کا وقت ( کریڈٹس )
1995 ؛ جدید طرزکا اپارٹمنٹ، اجلا ،صاف ستھرااور قیمتی اشیاء سے آراستہ۔مائیکل برگ دو بندوں کے لئے ناشتہ بنا رہا ہے ۔ وہ گہرے بالوں والا ایک روکھے مزاج کا 51 برس کا آدمی ہے ۔ وہ شعوری کوشش کے ساتھ سب کام ایسے کر رہا ہے کہ شور پیدا نہ ہو ۔وہ وقفے وقفے کے ساتھ بیڈ روم کی طرف دیکھ رہا ہے کہ کہیں وہ زیادہ شور تو پیدا نہیں کر رہا۔ وہ ایک انڈا ابال رہا ہے جسے وہ ابلتے پانی سے نکال کر ایک صاف،چمکتی پلیٹ میں رکھتا ہے۔
مائیکل، اپنا ناشتہ کرکے ،احتیاط برتتے ہوئے خاموشی کے ساتھ زردی لگے انڈے کے کپ اور اس کی طشتری کو سِنک میں رکھتا ہے اور پانی کا نل کھول دیتا ہے ۔بیڈ روم کا دروازہ کھلتا ہے اور بریجیٹ باہر آتی ہے ۔ وہ مکمل طور پر عریاں ہے ۔وہ جوان اور پُرکشش و جاذب نظر ہے ( کریڈٹس ختم ہو جاتے ہیں )۔
بریجٹ ؛ ’’ تم نے مجھے جگایا نہیں؟‘‘
مائیکل ؛ ’’تم سو رہی تھیں ۔‘‘
یریجٹ؛’’ تم نے مجھے، اس لئے سوتے رہنے دیا کہ تمہارے لئے یہ بات ناقابل برداشت ہے کہ تم میرے ساتھ ناشتہ کر سکو ۔‘‘
یہ ایک نیم سنجیدہ جملہ ہے ۔ مائیکل اس پر کسی رد عمل کا اظہار نہیں کرتا ۔
مائیکل؛ ’’سچی بات تو یہ ہے کہ میں نے تمہارے لئے انڈہ ابالا ہے۔ یہ دیکھو؟‘‘
مائیکل دوسرے کپ میں رکھا ابلا ہوا انڈہ ، ایک شعبدہ باز کی طرح ، یک دم سامنے کرتا ہے اور اسے میز پر رکھ دیتا ہے ۔
مائیکل؛’’ اگر میں تمہیں دیکھنا نہ چاہتا تو میں تمہارے لئے انڈہ ابالتا ہی نہ ۔ چائے یا کافی؟‘‘
بریجٹ دوبارہ بیڈ روم سے باہر آتی ہے۔ اب اس نے ڈریسنگ گائون پہن رکھا ہے ۔ وہ ابھی بھی نیم سنجیدہ ہے ۔
بریجٹ؛’’کیا کبھی کوئی عورت تمہارے ساتھ اتنی دیر ساتھ رہی کہ یہ جان سکے کہ تمہارے ذہن میں کیا پکتا رہتا ہے ؟‘‘
مائیکل اپنے آپ میں ہی مسکرادیتا ہے ۔
بریجٹ؛’’ تم آج رات کیا کر رہے ہو؟‘‘
مائیکل؛’’ میں اپنی بیٹی کو ملوں گا ۔‘‘
بریجٹ؛ ’’تمہاری بیٹی؟ تم نے اس کا پہلے تو کبھی ذکر نہیں کیا ۔‘‘
مائیکل؛’’کیا واقعی ؟، وہ سال بھر بدیس میں رہی ہے ۔ کیا تم نے چائے کہا تھا ؟‘‘
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ برلن میں مائیکل کا اپارٹمنٹ، دن ؛ صبح کا وقت
مائیکل رخصت ہوتی بریجٹ کے گال کا بوسہ لیتا ہے ۔
بریجٹ ؛ ’’میں جا رہی ہوں ۔ اپنی بیٹی کو میرا پیار دینا ۔‘‘
وہ دروازہ بند کرتا ہے ، ہے اور بیڈ روم کے کھلے دروازے کی طرف واپس مڑتا ہے۔گزری رات میں کی گئی ہم بستری کی وجہ سے پھیلی بے ترتیبی کو نظر بھر کر دیکھتا ہے اور پھر کھڑکی میں جا کر کھڑا ہو تا ہے اور باہر دیکھنے لگتا ہے ۔ وہاں پیلے رنگ کی ’ یو۔بان ‘ ( لوکل ٹرام)گزر رہی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ ٹرام ۔دن کا وقت
دسمبر 1958 ء ؛ پندرہ سالہ مائیکل ٹرام میں بیٹھا ہے ۔اس نے ایک اچھی تراش خراش والاسوٹ جو اسے وراثت میں ملاہے اور اس کے جسم پر صحیح طور پر فِٹ نہیں ہے، دو رنگے جوتوں کے ساتھ پہن رکھا ہے۔ اس کے بھاری بال بے ترتیب اور آپس میں الجھے ہوئے ہیں ۔اس کے سارے چہرے پر پسینہ ہے ۔ ایک عورت اسے گھورے جا رہی ہے۔ وہ دیکھنے میں بیمار نظر آ رہا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ مائیکل کا اپارٹمنٹ، دن ؛ صبح کا وقت
1995 ء ؛ مائیکل کھڑکی میں کھڑا ہے اور باہر دیکھ رہا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ ٹرام ۔دن کا وقت
1958 ؛ مائیکل مضطرب ہو کر اٹھتا ہے ، گھنٹی بجاتا ہے اور اگلے سٹاب پر ٹرام سے اتر جاتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ مائیکل کا اپارٹمنٹ، دن ؛ صبح کا وقت
1995 ؛ مائیکل کھڑکی کو بند کر دیتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
باہر کا منظر؛بان ہوف سٹراسے ۔ دن کا وقت
1958 ؛ بارش ہو رہی ہے ۔ مائیکل سڑک پر چل رہا ہے اور اس کی بیماری بڑھتی جا رہی ہے ۔وہاں ایک محرابی راستہ ہے جو ایک عمارت کے صحن میں جا تا ہے ۔ مائیکل اضطراری طور پرتیزی سے اس محراب کے نیچے بڑھتا ہے تاکہ بارش سے بچ سکے ۔ اسے قے آتی ہے ۔اس کے سامنے کھلے صحن میں لکڑی کا ایک کارخانہ ہے ۔ ٹرام کی ایک کنڈکٹریونیفارم پہنے اس کے پاس سے گزرتی ہے ۔ مائیکل کا رُخ دوسری طرف ہے ۔اس کاچہرہ نظر نہیں آ رہا ۔ اس کا ہاتھ اس کے منہ پر ہے ۔وہ اپنی ٹکٹ مشین پختہ راہدری پر ایک طرف رکھتی ہے اور اس کا بازو زورسے پکڑتی ہے۔
ہانا ؛ ’’ ارے ۔ ارے ! ‘‘
ہانا شمیٹز راکھ جیسے سنہرے بالوں والی تیس کے پیٹے کی عمر والی عورت ہے ۔ وہ منظر سے ہٹ جاتی ہے ۔وہ پھر سے قے کرتا ہے ۔ ہانا دوبارہ منظر میں داخل ہوتی ہے ۔ اس کے ہاتھ میں پانی کی بالٹی ہے جس سے وہ راہداری میں پانی بہا تی ہے ۔ وہ مائیکل کا چہرہ ایک گیلے کپڑے سے صاف کرتی ہے۔ وہ اورایک بالٹی کو پانی سے بھرکر اسے بہاتی ہے ۔
ہانا ؛’’ ارے ، بچے ، ارے ‘‘ ( مائیکل رو رہا ہے )
مائیکل ؛ ’’ میںمعذرت خواہ ہوں ۔ میں معذرت خواہ ہوں ۔‘‘
ہانا ، کسی ہچکچاہٹ کے بغیر ، مائیکل کو باہوں میں لے لیتی ہے ۔وہ اس کے سر کو اپنی چھاتیوں کے ساتھ بھینچ لیتی ہے ۔ مائیکل اس کے ساتھ چمٹا کھڑا رہتا ہے آہستہ آہستہ سسکیاں لینا بند کرتاہے اور پھر اپنا سر اٹھاتا ہے ۔
ہانا؛ ’’ تم کہاں رہتے ہو۔‘‘
۔۔۔۔۔۔
باہر کا منظر ؛ گلی ۔ دن کا وقت
ہانا اور مائیکل مناسب رفتار سے ایک گلی، جس پر نئی عمارتیں ہیں،میں چلتے جا رہے ہیں۔ ہانا ہاتھ میں اس کا بستہ تھامے اسے بازو سے گھسیٹ رہی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
باہر کا منظر ؛ بلومن سٹراسے ۔ دن کا وقت
وہ ایک سڑک پر پہنچتے ہیں۔اب برفباری ہو رہی ہے ۔مائیکل اس عمارت کے پاس پہنچ کر رک جاتا ہے جس میں اس کا گھر ہے ۔ وہ اس بات پر نروس ہے کہ وہ کہیںاس کے ساتھ گھر میں داخل نہ ہو جائے ۔
مائیکل ؛ میرا گھر یہیں ہے ۔ میں اب بہتر ہوں ۔ آپ کا شکریہ ۔‘‘
ہانا؛ ’’اپنا خیال رکھنا ۔‘‘
۔۔۔۔۔۔
مائیکل مسکراتا ہے ، ’’ شکریہ‘‘ کہتا ہے اور اندر چلا جاتا ہے ۔ہانا اب اکیلی ہے ۔وہ چاروں طرف دیکھتی ہے ۔ اس کے ماتھے پر بل ابھرتے ہیں ۔ پھر وہ چل دیتی ہے ۔ چوک میں پہنچ کر وہ بے یقینی کے عالم میں رکتی ہے، ادھر ادھر دیکھتی ہے کہ وہ کس طرف سے آئی تھی ۔مائیکل مڑکر اس کے بے یقینی کے عالم کو تجسس بھری نظر سے دیکھتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر ؛ برگ کا اپارٹمنٹ ۔ بلومن سٹراسے ۔ رات کا وقت
کلارا برگ باورچی خانے میں چولہے کے پاس ہے ۔وہ برگ خاندان کے لئے رات کا کھانا لے کرآتی ہے اور اس روایتی اپارٹمنٹ میں بچھی ڈائننگ ٹیبل پر رکھتی ہے جس کے اوپر پیتل کا پانچ موم بتیوں والا فانوس لٹک رہا ہے ۔مائیکل کا باپ ، پیٹر ، ایک غیر حاضر دماغ اور گنجا ہوتا ہوا آدمی ہے ، جو بوجھل خاموشی میں کھانا کھا رہا ہے ۔ اس کے ساتھ ، مائیکل کا اٹھارہ سالہ بڑا بھائی ، بیٹھا ہے جس کے ساتھ اس کی بڑی بہن انجیلا اور چھوٹی بہن ایملی بیٹھی ہے ۔مائیکل کے سامنے اس کی ایک کتاب پڑی ہے ۔ وہ کھانے کو ہاتھ بھی نہیں لگا رہا ۔
کلارا ؛ ’’مجھے اس کی فکر ہے ۔ یہ مجھے بیمار لگ رہا ہے ۔‘‘
پیٹر ؛ ’’ لڑکے کا کہنا ہے کہ اسے ڈاکٹر کی ضرورت نہیں ہے ۔‘‘
ایملی؛’’ اسے ضرورت ہے ۔‘‘
مائیکل ؛ مجھے ڈاکٹر کی ضرورت نہیں ہے ۔‘‘
پیٹر؛ ’’ تب تویہ اچھی بات ہے ۔‘‘
کلارا کی نظروں میں ملامت نمایاں ہے ۔
کلارا؛ ’’ پیٹر ۔ ۔ ۔‘‘
پیٹر؛ ’’ ہم اس بارے میں بحث نہیں کریں گے ۔ لوگوں کو اپنی زندگیوں کی ذمہ داری خود ہی اٹھانا ہو گی ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر ؛ برگ کا اپارٹمنٹ ۔ دن کا وقت
مائیکل ایک اکہرے بستر پر لیٹا ہے ۔ اس کا چہرہ بری طرح دہک رہا ہے ۔کلارا کے ساتھ ایک ڈاکٹر ہے جو خاصا بوڑھا ہے ۔
ڈاکٹر؛ ’’ مجھے ذرا یاد کرائوکہ تم کتنے سال کے ہو؟‘‘
کلارا؛ ’’ مائیکل پندرہ برس کا ہے ۔‘‘
ڈاکٹر ؛ ’’ یہ لال بخار ہے ۔ اسے، کم از کم، کئی مہینے بستر میں ہی رہنا ہو گا ۔ ‘‘
مائیکل اپنا منہ تکیے میں چھپا لیتا ہے ، جس سے، اس کے سر کے نیچے کا، تکیے کا وہ گیلا حصہ سامنے آ جاتا ہے جو پسینے کی وجہ سے بھیگا ہوا ہے ۔بخار کی وجہ سے پیدا ہوئی نیم بے ہوشی میں اسے محسوس ہوتا ہے کہ دروازے پر کوئی کھڑا ہے۔وہ منہ موڑ کر دیکھتا ہے ۔ وہاں ایملی کھڑی ہے ۔ لیکن کلارا کا ہاتھ ایک دم اسے پیچھے کھینچ لیتا ہے ۔
کلارا؛ ’’ اس سے دور رہو ۔ اسے متعدی بیماری ہے ۔‘‘
وہ منظر سے ہٹ جاتے ہیں ۔ دروازہ بند ہو جاتا ہے ۔ راہداری سے ڈاکٹر کی آواز آتی ہے ۔
ڈاکٹر؛ اس کے بستر کی چادروں کو جلا دیں ۔ اسے مکمل طور پر الگ رکھیں۔اور ایسا کرنا کم از کم تین ماہ کے لئے ضروری ہے ۔‘‘
۔۔۔۔۔۔
اندر اور باہر کا منظر ؛ برگ کا اپارٹمنٹ ۔ دن کا وقت
1959 ، مارچ کا ایک دھوپ بھرا دن ۔ مائیکل کا بستر ایک کھلی کھڑکی کے پاس بچھا ہے تاکہ وہ دھیمے سورج کی روشنی اور تپش سے فائدہ اٹھا سکے ۔وہ بستر میں بیٹھا ، ٹکٹوں کے اپنے ذخیرے کے ساتھ مصروف ہے ۔کلارا اس کے اردگرد گھوم پھر کر کمرے کی چیزوں کو ترتیب دے رہی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
کلارا؛ ’’ تم اب کیسا محسوس کر رہے ہو؟‘‘
مائیکل ؛ ’’ بہتر ہوں ۔ مجھے ویسے یاد آیا ہے کہ میں آپ کو بتانا چاہتا تھا، جس دن میں بیمار ہوا تھا۔۔۔ اس روز ایک عورت نے میری مدد کی تھی۔ وہ گلی کی ایک عورت تھی ۔‘‘
کلارا؛ ’’ اس نے تمہاری مدد کی تھی ؟‘‘
مائیکل؛ ’’ ہاں ، وہی مجھے گھر تک لائی تھی ۔‘‘
کلارا؛ ’’ کیا تمہارے پاس اس کا پتہ ہے ؟‘‘
۔۔۔۔۔۔
باہر کا منظر ؛ ببان ہوف سٹراسے ۔ دن کا وقت
مائیکل ہاتھوں میں ایک گلدستہ تھامے کھڑا ہے ۔ وہ گھنٹیوں کی قطار کے ساتھ لکھے نمبروں کو دیکھ کر الجھن میں گرفتار ہے ۔ صحن میں لکڑی کے کارخانے میں لوگ کام کر رہے ہیں ۔ کچھ کارندے عمارت سے باہر آتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر ؛ سیڑھیاں اور چوکا ۔بان ہوف سٹراسے۔ دن کا وقت
مائیکل سیڑھیاں چڑھتا ہوا اوپر آتا ہے ۔ یہ سیٹرھیاں کبھی شاندار ہوں گی لیکن اب خستہ حال ہیں ، جن کا لال رنگ مدہم پڑ چکا ہے اور ان پر سبز موم جامہ لگا ہے ۔ایک چھوٹے سے اپارٹمنٹ کے کھلے دروازے سے ایک جذباتی گانے کی آواز آ رہی ہے ۔ اندر ، ہانا بغیر بازوئوں کی نیلے اور لال پھولوں والی لمبی کرتی پہنے کپڑے استری کر رہی ہے ۔ اس کے بال ایک کلپ میں بندھے ہوئے ہیں ۔ وہ ایک لمحے کے لئے اسے دیکھتی ہے ۔
ہانا ؛ ’’ اندر آ جائو ۔‘‘
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر ؛ ہانا کا اپارٹمنٹ ۔ دن کا وقت
یہ فلیٹ سجاوٹی چیزوں سے خالی ہے اور چھوٹے چھوٹے کمروں پر مشتمل ہے ۔ایک چولہا ، ایک سِنک، نہانے کا ایک ٹب ، ایک ابال دان ، ایک میز ، کچھ لکڑی کی کرسیاں ۔ وہاں کوئی کھڑکی نہیں ، صرف بالکونی میں کھلنے والا دروازہ ہے جس کے شیشوں سے کمرے میں روشنی آ رہی ہے ۔ ہانا کپڑے استری کرتی رہتی ہے ۔
مائیکل؛ ’’ میں شکریہ ادا کرنے کے لئے یہ پھول لایا ہوں ۔‘‘
ہانا؛’’ انہیں وہاں رکھ دو ۔‘‘
مائیکل پھولوں کو سِنک کے ساتھ رکھ دیتا ہے ۔ ہانا نے میز پر کمبل بچھا رکھا ہے جس پر ایک کپڑا پڑا ہے ؛ وہ اپنی دھن میں کپڑے استری کرنے میں مصروف ہے ۔ وہ دھلے ہوئے کپڑوں میں سے ایک اٹھاتی ہے ، اسے استری کرتی ہے اور تہہ کرکے کرسیوں میں سے ایک پر رکھتی جاتی ہے ۔
مائیکل ؛ ’’ میں پہلے آ جاتا ، لیکن مجھے تین ماہ تک بستر میں رہنا پڑا ۔‘‘
ہانا؛ ’’ تم اب بہتر ہو ؟‘‘
مائیکل ؛ ’’ ہاں، شکریہ ‘‘
ہانا؛ ’’ کیا تم ہمیشہ سے کمزور ہو؟‘‘
مائیکل؛’’ اوہ، نہیں۔ میں اس سے پہلے کبھی بیمار نہیں ہوا ۔ بیمار ہونا بہت ہی اکتا دیتا ہے ۔ کرنے کو کچھ بھی نہیں ہوتا ۔ میں تو اپنی پڑھائی کے بارے میں بھی نہ سوچ سکا۔‘‘
ہانا کپڑے استری کرتی رہی ہے۔مائیکل بھی خاموشی میں ویسے ہی سکون محسوس کرنے لگتا جیسا کہ ہانا سکون میں ہے ۔وہ اپنی ایک چڈی استری کرنا شروع کرتی ہے ۔ مائیکل اس کے آگے پیچھے حرکت کرتے ننگے بازو کو دیکھتا رہتا ہے ۔ ہانا چوڑی چکلی اور توانا نظر آ رہی ہے ۔اسے ، مائیکل کے یوں دیکھنے پر کوئی الجھن نہیں ہو رہی ۔وہ استری کرکے چڈی نیچے رکھ کر دوسری اٹھا لیتی ہے اور اسے
استری کرکے استری بند کر دیتی ہے ۔
ہانا؛ ’’ مجھے اب کام پر جانا ہے ۔ میں تمہارے ساتھ چلوں گی ۔ جب تک میں کپڑے بدلوں تم ہال میں انتظار کرو ۔‘‘
مائیکل باہر ہال میں چلا جاتا ہے ۔ باورچی خانے کا دروازہ ذرا سا کھلا ہے ۔ہانا اپنی کرتی اتارتی ہے ۔ اب وہ سبز رنگ کی شمیز میں ہے ۔ اس کی سٹاکنگز ایک کرسی کی پشت پر لٹکی ہوئی ہیں ۔وہ ان میں سے ایک اٹھاتی ہے ، اس کا گولا بناتی ہے اور پھر اسے پنڈلی پر چڑھاتی گھٹنے کے اوپرتک لے آتی ہے اور پھر اپنے گارٹر کی پیٹی سے نتھی کر دیتی ہے۔ وہ دوسری اٹھانے کے لئے بڑھتی ہے ۔ ٹانگوں کے درمیان اس کی جلدننگی ہے ۔ مائیکل ٹکٹکی باندھے دیکھتا رہا ہے ۔ ہانا اپنے اردگرد سے غافل ہے ۔ لیکن جب وہ دوسری سٹاکنگ چڑھانے لگتی ہے تو مائیکل کو دیکھتی ہے ۔ سٹاکنگ اس کے ہاتھ سے گر جاتی ہے اور سیدھی کھڑی ہو کر اسے تکتی رہتی ہے۔ مائیکل کا چہرہ اس کے یوں دیکھنے پر سرخ ہو جاتا ہے ، وہ گھبرا جاتا ہے اور فلیٹ سے باہربھاگ جاتا ہے اور دروازہ بند کر دیتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ سیڑھیاں ۔ دن کا وقت
خوف اور شرم کا مارامائیکل سیٹرھیوں سے پھلانگتا ہوا نیچے اترتا ہے اور عمارت کے دروازے سے باہر نکل جاتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
باہر کا منظر ؛ صحن ۔ دن کا وقت
لکڑی کے کارخانے میں کام کرنے والے نظر اٹھا کر ، تجسس سے مائیکل کو بھاگتے اور باہر والے دروازے کو دھاڑ سے بند کرتے ہوئے دیکھتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر ؛ بیڈ روم ۔ صبح سویرے کا وقت
مائیکل بستر پر لیٹا ہے اور باہر سے آتی ٹرام کی آواز سن کر اوپر کی طرف دیکھتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔

English Translater Carol Brown Janeway

German Writer Bernhard Schlink
باہر کا منظر ؛ گلی ۔ صبح سویرے کا وقت
ٹرام خاموش گلی میں اپنے راستے پر آگے بڑھ رہی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر ؛ بیڈ روم ۔ صبح سویرے کا وقت
مائیکل جلدی سے اٹھتا ہے اور جلدی جلدی کپڑے بدلتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر ؛ ٹرام ۔ دن کا وقت
مائیکل، خود کو ہانا سے چھپائے ، ایک کتاب پڑھتے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے مسحور ہوتا رہتا ہے۔ ہانا ٹکٹیں اکٹھی کر رہی ہے ۔ وہ اگلے سٹاپ کا نام پکار رہی ہے ۔ وہ کام کرتے ہوئے اسے دیکھ نہیں پاتی ۔
۔۔۔۔۔۔
باہر کا منظر بان ہوف سٹراسے ۔ دن کا وقت
مائیکل ہانا والی عمارت کے صحن کے سامنے گلی کی دوسری طرف کھڑا ہے ۔ وہ تذبذب میں ہے کہ اندر جائے یا نہ جائے ۔ترکھان ایک گاڑی پر سامان لاد رہے ہیں ۔وہ انتظار میں ہے کہ وہ اپنا کام ختم کریں تووہ محرابی دروازے سے اندر گھس کر سیڑھیوں پر چڑھ سکے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر ؛ ڈیوڑھی ۔ ہانا کا اپارٹمنٹ ۔ دن کا وقت
مائیکل سیٹرھیاں چڑھ کر ان کے پہلے چوکے پر بیٹھا ہے ۔ہانا اچانک اس کے پیچھے آ کرکھڑی ہو جاتی ہے؛ اس نے یونیفارم پہن رکھا ہے ، اس کے ایک ہاتھ میں کوئلوں کا ایک ڈبہ ہے ،دوسرے میں کوئلوں بھری ایک بالٹی ہے ۔وہ تھکی ہوئی تو نظر آتی ہے لیکن مائیکل کو دیکھ کر حیران نہیں ہے ۔
ہانا؛ ’’ نیچے دو بالٹیاں اور پڑی ہیں ۔ انہیں بھرو اور اوپر لے آئو ۔‘‘
ہانا اس کے پاس سے سیدھی گزر جاتی ہے۔ ایک لمحے کے لئے وہ تنا ہوابیٹھا رہتا ہے کہ شاید وہ اس سے چھو جائے لیکن ایسا نہیں ہوتا ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر ؛ تہہ خانہ ۔دن کا وقت
مائیکل دروازہ کھولتا ہے ۔ وہ بتی جلاتا ہے جس کی روشنی مدہم ہے۔وہاں لکڑی کی ایک سیٹرھی ہے جو کوئلے کے ایک بڑے ڈھیر تک جاتی ہے جسے باہر گلی سے انڈیلا گیا ہے ۔وہ نیچے جاتا ہے اور ایک بالٹی اٹھاتا ہے ۔وہ بیلچے سے اس میں کوئلہ ڈالنے لگتا ہے۔ اسی وقت کوئلے کے چھوٹے بڑے ٹکڑے نیچے گرنے لگتے ہیں اور اس کے گرد سیاہ گرد کا بادل چھا جاتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر ؛ ہانا کا اپارٹمنٹ ۔دن کا وقت
ہانا باورچی خانے میں میز کے پاس کرسی پر بیٹھی گلاس میں دودھ پی رہی ہے ۔اس نے اپنی جیکٹ اتار رکھی ہے اور ٹائی کو بھی ڈھیلا کر رکھا ہے ۔مائیکل کوئلے سے بھری دو بالٹیاں لئے اندر داخل ہوتا ہے ۔ اس کا چہرہ اور کپڑے سیاہ گرد سے اٹے ہوئے ہیں ۔ہانا کے منہ سے ایک بھرپور قہقہہ نکلتا ہے ۔
ہانا؛ ’’بچے! خود کو دیکھو ، تم مضحکہ خیز لگ رہے ہو ۔‘‘
مائیکل خود کو آئینے میں دیکھتا ہے ۔ وہ اس سے پہلے ہی اٹھ چکی ہے اور باورچی خانے کے کونے میں پڑے نہانے والے ٹب کی طرف بڑھتی ہے ۔
ہانا؛ ’’ تم اس طرح تو گھر نہیں جا سکتے ۔ مجھے اپنے کپڑے دو، میں تمہارے نہانے کا بندوبست کرتی ہوں ۔‘‘
ہاناپانی کی ٹونٹی کھولتی ہے ۔ وہاں ایک ابال دان بھی ہے جس سے بھاپ بھرا گرم پانی باہر نکلتا ہے ۔ مائیکل اپنا سوئیٹر اتارتا ہے اور پھر رک جاتا ہے ۔
ہانا؛ ’’ کیا ہوا، کیا تم ہمیشہ پتلون پہنے پہنے ہی نہاتے ہو؟‘‘
ہانااس سے سوئیٹرلیتی ہے اور بالکونی میں چلی جاتی ہے ۔ مائیکل کپڑے اتارتا ہے ۔ ہانا اس کا سوئیٹر جنگلے پر رکھتی ہے ۔
ہانا؛’’ فکر نہ کرو ، میں تمہاری طرف نہیں دیکھتی ۔‘‘
لیکن وہ اس کے برعکس مڑتی ہے اور سیدھا اس کی طرف بڑھتی ہے ۔مائیکل ننگا کھڑا ہے ۔ ہانا اس کے کپڑے کرسی سے اٹھاتی ہے ۔ مائیکل ٹب میں گھس جاتا ہے ۔ہانا بالکونی میں واپس جاتی ہے ۔ مائیکل ٹب کے پانی میں خود کوڈبو دیتا ہے ۔ ہانا باہر بالکونی میں اس کے کپڑے کھلی فضا میں جھاڑتی ہے ۔جب وہ اپنا سر پانی سے باہر نکالتا ہے تو ہانا اس کے کپڑے واپس کرسی پر رکھ رہی ہوتی ہے ۔ وہ شیمپو اٹھاتی ہے اور اسے پکڑاتی ہے ۔
ہانا ؛ ’’ اپنے بال بھی دھو لو ، میں تمہارے لئے تولیہ لاتی ہوں ۔‘‘
مائیکل اپنے بال دھوتا ہے ، پھر سے پانی میں ڈبکی لگاتا ہے اور جب دوبارہ پانی سے اوپر آتا ہے تو ہانا ایک بڑا تولیہ لئے ٹب کے پاس کھڑی ہے ۔وہ اٹھتا ہے اور گھوم جاتا ہے تاکہ اپنے نفس کے تنائو کو چھپا سکے ۔ہانا اسے پیچھے سے تولیے میں لپیٹ کر اس کے جسم کو رگڑ کر خشک کرتی ہے ۔پھر وہ تولیے کو گرنے دیتی ہے اور اپنے جسم کو مائیکل کے جسم کے ساتھ لگا دیتی ہے ۔ مائیکل کو احساس ہوتا ہے کہ وہ بھی ننگی ہے ۔وہ مڑتا ہے اور اس کے چہرے کو دیکھتا ہے ۔
ہانا؛ ’’ اچھا، تو تم اس لئے واپس آئے ۔‘‘
مائیکل اسے ستائشی نظروں سے دیکھتا ہے ۔
مائیکل؛ ’’ تم حیرت انگیز حد تک خوبصورت ہو ۔‘‘
ہانا؛ ’’ دیکھو، بچے! تمہیں معلوم ہے کہ یہ سچ نہیں ہے ۔‘‘
وہ یک دم مائیکل کے گرد بانہیں ڈال دیتی ہے اور دونوں بوس وکنار کرتے ہیں ۔ مائیکل فرش پر لیٹ جاتا ہے ، ہانا اس کے اوپر ہے ۔ ہانا سارا وقت اس کی آنکھوں میں دیکھتی رہتی ہے ۔ مائیکل اسے برداشت نہیں کر پاتا اور آنکھیں بند کر لیتا ہے ۔ جیسے ہی وہ ’انتہا‘ کے قریب پہنچتا ہے تو وہ چیخنے لگتا ہے ۔ ہانا اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیتی ہے تاکہ اس کی چیخ کے شور کو کم کر سکے ۔
جاری ہے