اندر کا منظر؛ ڈائننگ روم ، برگ کا اپارٹمنٹ۔ رات کا وقت
مائیکل کا خاندان کھانا کھا رہا ہے ۔ مائیکل انہیں کھانا کھاتے ہوئے دیکھ رہا ہے اور ہانا کے ساتھ پیار کرنے کے عمل کے بارے میں سوچ رہا ہے ۔
پیٹر: ’’ تم نے اپنی ماں کو دکھ پہنچایا ہے ۔‘‘
مائیکل؛ ’’ میں اور کتنی بار معذرت کروں ؟ میں پہلے ہی معذرت کر چکا ہوں ۔‘‘
پیٹر؛ ’’ تم نے اسے ڈرا دیا تھا۔‘‘
مائیکل ؛ ’’ اس میں میری غلطی کچھ زیادہ نہیں ہے ۔ میں گم گیا تھا ، اسی لئے مجھے دیر ہوئی ۔ کیا میں کچھ اور کھانا لے سکتا ہوں؟‘‘
مائیکل شوربے کے ڈونگے کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے ۔ تھامس کھانا کھاتارہتا ہے ۔ اس کے چہرے پر حقارت ہے اور برتری کا احساس بھی ، جیسے اس گفتگو میں حصہ لینا اس کے لئے باعث توہین ہو ۔
ایملی؛ ’’ کوئی ، بھلا ، کیسے ، اپنے ہی وطنی شہر میں گم ہو سکتا ہے ؟‘‘
مائیکل؛ ’’ ڈاکٹر نے مجھے چہل قدمی کے لئے کہا تھا ۔‘‘
ایملی؛ ’’ تو؟‘‘
مائیکل؛ ’’ میں قلعے کی طرف جانا چاہتا تھا اور میں کھیل کے میدان میں جا پہنچا ۔‘‘
ایملی؛ ’’ یہ دونوں متضاد سمتوں میں ہیں ۔‘‘
مائیکل؛ ’’ اس بات کا تم سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔‘‘
ایملی؛ ’’ یہ جھوٹ بول رہا ہے ۔‘‘
کلارا؛ ’’ وہ جھوٹ نہیں بول رہا ۔ مائیکل کبھی جھوٹ نہیں بولتا ۔‘‘
کلارا شفقت سے مسکراتی ہے ۔ ایملی کو پتہ ہے کہ وہ ٹھیک کہہ رہی ہے ۔ وہ سب کچھ دیر کھانا کھانے میں مصروف رہتے ہیں ۔
مائیکل؛ ’’ ڈیڈی ، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں کل سے سکول جاناشروع کر وں گا ۔ ‘‘
کلارا ؛ ’’ ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ تمہیں تین ہفتے اور آرام کی ضرورت ہے ۔‘‘
مائیکل؛ ’’ خیر، میں بہرحال کل سے سکول جا رہا ہوں ۔‘‘
کلارا؛ ’’ پیٹر ؟‘‘
پیٹر؛ ’’ اگر وہ جانا چاہتا ہے تو اسے ضرور جانا چاہیے۔‘‘
مائیکل یہ سن کر سانس لینا بھول جاتا ہے جیسے وہ اپنی زندگی میں کسی فیصلہ کُن لمحے پر پہنچ گیا ہو ۔ پیٹر کی نظریں اس پر جمی ہیںجیسے وہ یہ جاننا چاہ رہا ہوکہ مائیکل پر کیا بیت رہی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
باہر کا منظر؛ سکول ۔ دن کا وقت
یہ بھورے پتھروں والی ایک بڑی عمارت ہے ۔سکول کے سارے بچے باہر نکل رہے ہیں جن میں مائیکل سب سے پہلا ہے ۔ وہ خاصی عجلت میں ہے اور اپنے دوستوں کو ہاتھ ہلا کر الوداع کرتے ہوئے دوڑتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر ؛ سیڑھیاں اور چوکا ۔بان ہوف سٹراسے ۔ دن کا وقت
مائیکل تیزی سے سیڑھیاں چڑھتا ہے ۔ ہانا کے اپارٹمنٹ کے دروازے کے پٹ بند ہیں ۔ وہ ہتھی سے اسے دھکیل کر کھولتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر ؛ ہانا کا اپارٹمنٹ ۔ دن کا وقت
ہانا چلمچی کے پاس ہے ۔ مائیکل اندر داخل ہوتا ہے ۔ وہ پسینے میں بھیگا ہوا ہے ۔ وہ کپڑے اتارتے ہوئے ہانا کے ساتھ لپٹتا ہے ۔ پتلون اتار کر اسے اٹھا کر چلمچی پر بٹھاتا ہے اور خود کو ہانا میں داخل کر دیتا ہے ۔ وہ لگ بھگ بیس سیکنڈ میں فارغ ہو جاتا ہے ۔ وہ پسینے میں بھیگا کھڑا ہے ۔
ہانا؛ ’’ بچے، ٹھیک ہے ، لیکن یہ صرف تمہارے لئے ہی نہیں ہے ۔‘‘
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ ہانا کا اپارٹمنٹ ۔ دن کا وقت
ہانا اور مائیکل بستر میں ہیں ۔ وہ ہانا کے نیچے لیٹا ہے ۔ وہ ہاتھوں سے اس کے چہرے کو چھوتی ہے اور پھرانہیں نیچے اس کے جسم پر لے جاتی ہے ، پھر وہ حرکت کرنا شروع کرتی ہے جس کے رد عمل میں مائیکل بھی حرکت کرتا ہے ۔ وہ اسے تب تذبذب اورحیرت سے دیکھتا ہے جب وہ عروج سے زوال پر آتی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ ہانا کا اپارٹمنٹ ۔ دن کا وقت
ہانا لیٹی مائیکل کی چھاتی پر سر رکھے سو رہی ہے ۔ مائیکل جاگ رہا ہے اور ہانا کے بائیں کندھے پر پیدائشی نشان کو دیکھ رہا ہے ۔ نیچے صحن سے آرا چلنے کی آواز آ رہی ہے ۔ وہ ہانا کے پیدائشی نشان کو
چومتا ہے ۔ وہ جھرجھری لیتی ہے ۔
مائیکل؛ ’’ تمہارا نام کیا ہے ؟‘‘
وہ آنکھیں کھولتی ہے ۔ اس کی نظروں میں شک ہے ۔
ہانا؛ ’’ کیا ؟‘‘
مائیکل؛ ’’ تمہارا نام ؟‘‘
ہانا؛ ’’ تم یہ کیوں جاننا چاہتے ہو؟‘‘
مائیکل ؛ ’’ میں یہاں تین بار آ چکا ہوں اور تم نے اب تک مجھے اپنا نام نہیں بتایا ۔‘‘
مائیکل کچھ لمحے انتظار کرتا ہے ۔
ہانا؛ ’’ میرا نام ہانا ہے ۔ اور بچے! تمہارا کیا ہے ؟‘‘
مائیکل؛ ’’ مائیکل‘‘
ہانا؛ ’’ مائیکل۔ ہمم ۔ تو میں ایک مائیکل کے ساتھ ہوں ۔
ہانا مسکراتی ہے ، جیسے یہ کوئی مزاحیہ بات ہو۔
’مائیکل‘
’ہانا‘
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ کلاس روم ۔ سکول ، دن کا وقت
ایک استاد جو ساٹھ کے پیٹے میں ہے ، تختہ سیاہ پر ’ اوڈیسیس ‘ ، ہیملٹ ‘ اور ’ فائوسٹ ‘ کے الفاظ لکھتا ہے ۔ کلاس میں بیٹھے لڑکے متوجہ ہیں ۔ اس کے ساتھ اس کا دوست ’ہولگر شلٹر‘بیٹھا ہے جبکہ گلیاری کے پار روڈلف بیٹھا ہے ۔
استاد ؛ ’’ مغربی ادب میں’ راز رکھنا یا آشکار نہ کرناایک مرکزی خیال ہے ۔ آپ اسے یوں بھی دیکھ سکتے ہیں کہ فکشن میں ’کردار ‘ کا تعین وہ لوگ کرتے ہیں جو اس کے بارے میں جانکاری رکھتے ہیں
اور مختلف وجوہات کی بِنا پر ، چاہے وہ گمراہی کے لئے یا پھرنجابت کی خاطر ہوں ، ’ کردار‘ کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتے ۔مائیکل مطمئن نظر آتا ہے ۔ گھنٹی بجتی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ راہداری ۔ سکول ۔ دن کا وقت
لڑکے ہنسی مذاق کرتے ہوئے کمروں سے باہر نکلتے ہیں اور رہداری میں چلتے ہوئے دوسری کلاسوں میں جا رہے ہیں ۔ مائیکل کی وضع قطع بدل چکی ہے ۔ اس کے چہرے پر جانکاری اور اعتماد کا نیااحساس ہے جس کی وجہ سے وہ تن کر چل رہا ہے۔وہ ایک لمحے کے لئے رکتا ہے اور پھر الٹی سمت میں اکیلا ہی چلنا شروع کر دیتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
باہر کا منظر؛ سکول ۔ دن کا وقت
مائیکل سکول کے عقبی دروازے سے باہر نکلتا ہے ۔ اسے کوئی نہیں دیکھ رہا ۔ وہ جنگلا پھلانگتا ہے اور گلی میں دوڑنا شروع کر دیتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ ہانا کا اپارٹمنٹ ۔ شام کا وقت
بعد میں اندھیرا چھا جاتا ہے ۔ مائیکل تقریباً سو رہا ہے ۔ ہانا جاگ رہی ہے ۔
ہانا؛ ’’ تم نے مجھے کبھی نہیں بتایا کہ تم کیا پڑھتے ہو؟‘‘
مائیکل ۔ ’’ پڑھائی َ‘‘
ہانا؛ ’’ سکول میں ۔ کیا تم وہاں ’ زبانیں‘ سیکھ رہے ہو؟‘‘
مائیکل ؛’’ ہاں ‘‘
ہانا؛ ’’ کونسی زبانیں ؟‘‘
مائیکل؛ ’’ لاطینی‘‘
ہانا؛ ’’ لاطینی میں کچھ کہو ؟‘‘
مائیکل؛ ’’ او۔۔۔‘‘
مائیکل ایک لمحے کے لئے سوچتا ہے ۔
مائیکل ؛ ’’ پاگلو، تم کہاں بھاگے جا رہے ہو ۔۔۔۔ کہاں ؟ اورتم نے اپنے دائیں ہاتھوں میںپھر سے تلواریں کیوں پکڑ رکھی ہیں ؟ ( مائیکل یہ لاطینی میں کہتا ہے ۔)
مائیکل ہولے سے مسکراتا ہے ۔
مائیکل؛ ’’ یہ ہوریس ہے ۔‘‘
ہانا؛ ’’ یہ بہت عمدہ ہے ۔‘‘
مائیکل؛ ’’ کیا تم کچھ یونانی میںبھی سننا چاہتی ہو ؟‘‘
مائیکل دانت نکال کر ہنستا ہے ۔ وہ اس بات پر خوش ہے کہ اس نے کچھ کر دکھایا ہے ۔ وہ جاتا ہے اور اپنا بستہ لاتا ہے ۔ ہانا بتی جلاتی ہے ۔
مائیکل ؛ Oi men ippeon stroton oi de pesedon
oi da naon phais epi gan malainan
emmenai kalliston, ego de ken otto
tis eratai. ( اوڈیسی سے لاطینی میں ایک پیرا )
ہانا؛ ’’ یہ بہت خوبصورت ہے ۔‘‘
مائیکل؛ ’’ تم ایسا کیسے کہہ سکتی ہو؟ جب تم اس کا مطلب ہی نہیں جانتیں تو تم کیسے جان سکتی ہو کہ یہ خوبصورت ہے ؟‘‘
ہانا اسے ایک نظر دیکھتی ہے ۔
ہانا؛ ’’جرمن میں کچھ لکھے کے بارے میں کیا خیال ہے ؟‘‘
مائیکل؛ ’’ جرمن میں ؟‘‘
ہانا؛ ’’ ہاں ، کیاتمہارے پاس کچھ ہے؟ ْ‘‘
مائیکل؛ ’’ اچھا ،میں ایک مضمون لکھ رہا ہوں ۔ یہ ایک ڈرامے کے بارے میں ہے ۔ جسے گوٹہولڈ ایفریم لیسنگ نامی ادیب نے لکھا ہے ۔ شاید تم نے اس کا نام سنا ہو؟‘‘
ہانا اس پر کسی رد عمل کا اظہارنہیں کرتی۔
مائیکل؛ ’’ ڈرامے کا نام ہے ’ ایملیا گیلوٹی ‘
ہانا؛ ’’ کیا یہ تمہارے پاس ہے ؟‘‘
مائیکل جھک کر بستے میں سے ایک کتاب نکالتا ہے ۔
مائیکل؛ ’’ یہ ہے ۔ تم اسے پڑھ سکتی ہو ۔‘‘
ہانا؛ ’’ میں تم سے سننا زیادہ پسند کروں گی ۔‘‘
خاموشی چھا جاتی ہے اور مائیکل پڑھنے کے عمل پر غور کرتا ہے ۔
مائیکل؛ ’’ ٹھیک ہے ۔ لیکن میں ایک اچھا قاری نہیں ہوں ۔‘‘
مائیکل؛ ’’ایکٹ ایک۔ منظر ایک۔ سیٹنگ؛ شہزادے کے چیمبرز میں سے ایک۔شکایتیں ۔۔۔ شکایتوںکے سوا کچھ نہیں ، درخواستیں۔۔۔ اور درخواستوں کے سوا اور کچھ نہیں ۔خدا کے لئے ذرا سوچو کہ لوگ اصل میں ہم سے جلتے ہیں۔۔ ۔‘‘
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ باورچی خانہ۔ رات کا وقت
بعد میں؛ وہ ٹب میں اکٹھے ہیں ۔ہانا صابن کا ٹکڑا اٹھاتی ہے اور محبت سے مائیکل کے گال پر ملتی ہے ۔ پھر وہ اسے اس کے پیٹ پربھی ملتی ہے ۔
ہانا؛ ’’ تم اس میں اچھے ہو، کیا ایسا نہیں ہے ؟‘‘
مائیکل؛ ’’ کس میں اچھا ہوں ؟‘‘
ہانا؛ ’’ اونچی آواز میں پڑھنے میں ۔‘‘
مائیکل مسکراتا ہے ۔
ہانا؛ ’’ تم مسکرا کیوں رہے ہو؟‘‘
مائیکل؛’’ اس لئے کہ میرا خیال تھا کہ میں کسی بھی چیز میں اچھا نہیں ہوں ۔‘‘
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ کھیلوں کا ہال ۔ دن کا وقت
مائیکل زبردست جسمانی اعتماد کے ساتھ ہینڈ بال کھیل رہا ہے ۔ اسے ایک دو جسمانی چوٹیں بھی آتی ہیں ۔ ہولگر ، روڈولف اور مائیکل مل کر ہنستے ہیں ۔ سیٹی بجتی ہے ۔ کھیل ختم ہو جاتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
باہر کا منظر؛ ٹرام ۔ پو پھٹنے کا وقت
ایک خالی ٹرام گلی میں پراسرار یت کے ساتھ حرکت میں ہے ۔ مائیکل چلتے ہوئے منظر میں سامنے آتا ہے۔ ٹرام کے ساتھ ساتھ چلتا ہے اور اس پر چڑھتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ ٹرام۔ پوپھٹنے کا وقت
مائیکل دوسری بوگی میں بیٹھا ہے ۔وہ اوپر دیکھتا ہے ۔ٹرام کی کنڈکٹر ہانا ہے ۔ اسے پہلے مائیکل کی موجودگی کا احساس نہیں ہوتا ۔مائیکل اسے دیکھتا رہتا ہے اور منتظر رہتا ہے کہ ہانا اسے دیکھے ۔ وہ مڑتی ہے اور اسے دیکھتی ہے ۔وہ خوش آمدیدی انداز میں مسکراتا ہے لیکن وہ بالکل بھی اسے کوئی ردعمل نہیں دیتی ۔وہ مڑ کر آگے چلی جاتی ہے ۔ مائیکل کے ماتھے پر بل پڑتے ہیں اور وہ حیران ہوتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
باہر کا منظر؛ٹرام ۔ دن کا وقت
ٹرام قصبے سے باہر نکل رہی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر ؛ ٹرام ۔ دن کا وقت
ہانا اب ڈرائیور سے گرم جوشی سے باتیںکر رہی ہے ۔وہ دونوں ہنستے ہوئے ایک دوسرے سے گپ شپ کر رہے ہیں ۔مائیکل ابھی بھی دوسری بوگی میںہونقوں کی طرح موجود ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
باہر کا منظر ؛ ٹرام ۔ دن کا وقت
ٹرام رکتی ہے اور مسافر اس میں چڑھتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ ٹرام ۔ دن کا وقت
ہانا اب دوسری بوگی میں ٹکٹ جمع کرنے میں مصروف ہے ۔مائیکل اسے متوقع نظروں سے دیکھتا ہے اور جب اپنی ٹکٹ ہاتھ میں پکڑے اسے اونچا کرتا ہے تووہ اس میں سوراخ کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کرتی ۔ وہ کچھ بولے بِنا مڑ جاتی ہے ۔ ٹرام پھر سے رکتی ہے ۔ مائیکل احساس ذلت کے ساتھ دروازے کی طرف بڑھتا اور نیچے اتر جاتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
باہر کا منظر؛ سڑک ۔ دن کا وقت
مائیکل ٹرام کو پہاڑیوں میں گم ہوتے دیکھتا ہے ۔ وہ اِدھر اُدھر دیکھتا ہے جیسے کسی انجان جگہ پر گم گیا ہو ۔ پاس ہی ایک ٹریکٹر گزر رہا ہے ۔ کسان اپنے کھیتوں کی طرف جا رہے ہیں ۔مائیکل قصبے کی
طرف واپس بڑھنا شروع کر دیتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ سیٹرھیوں کا چوکا ۔ ہانا کا اپارٹمنٹ ۔ دن کا وقت
مائیکل سیڑھیوں پر بیٹھا ہے ۔ یونیفام پہنے ہانا منظر میں داخل ہوتی ہے
مائیکل؛ ’’ یہ سب کیا تھا ؟‘‘
ہانا کوئی جواب دئیے بِنا اپنے اپارٹمنٹ میں داخل ہو جاتی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ ہانا کا اپارٹمنٹ۔ دن کا وقت
ہانا باورچی خانے میں میز پر اپنی چیزیں رکھتی ہے ۔مایوس مائیکل بیتابی سے اس کے پیچھے پیچھے اندر آتا ہے ۔
مائیکل؛ ’’ میں صبح سویرے اٹھا ۔۔۔ساڑھے چار بجے ۔۔۔خاص طور پر ، یہ میری پہلی چھٹی تھی ۔ میںنے تمہیں حیران کرنے کا منصوبہ بنایا تھا ۔۔۔‘‘
ہانا؛’’ بیچارہ ننھا بچہ۔ اپنی پہلی چھٹی والے دن بھی ساڑھے چار بجے اٹھا ۔‘‘
مائیکل؛ ’’ یہ کیا بات ہوئی؟ میں ٹرام میں تھا !اور تم نے مجھے مکمل طور پر نظر انداز کیا!میں وہاں کیا کر رہا تھا ؟ تم کیا سمجھتی ہو کہ میں وہاں کیوں تھا ؟‘‘
مائیکل مایوسی میں اس پر چلاتاہے ۔ہانا سیدھے اس کی آنکھوں میں دیکھتی ہے ۔
ہانا؛ ’’ مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں ہے ۔ اور تم جو کرتے ہو یہ تمہارا معاملہ ہے میرا نہیں ۔‘‘
ہانا مڑتی ہے اور پرے ہٹ جاتی ہے ۔
ہانا؛ ’’ اور اگر تم مجھ سے بات کرنا چاہتے تھے تومیں پہلی بوگی میں تھی ۔ تم دوسری بوگی میں کیوں چڑھے اور اس میں بیٹھے ؟‘‘
ہانا جاتی ہے ٹب میں پانی کی ٹونٹی کھول دیتی ہے ۔
ہانا؛ ’’ اور اب ، تمہارا شکریہ ، میں کام کرتی رہی ہوں ، مجھے نہانا ہے ۔ یہاں سے باہر نکلو ، میں اکیلے رہنا چاہتی ہوں ۔‘‘
مائیکل ؛’’ میرا مقصد تمہیں پریشان کرنا نہیں تھا۔‘‘
ہانا؛ ’’ تم میں اتنی طاقت ہی نہیں ہے کہ تم مجھے پریشان کر سکو ۔ مجھے پریشان کرنے کے لئے تمہاری حیثیت ہی کیا ہے ۔‘‘
وہ اپنے کپڑے اتارتی ہے اور ٹب میں گھس جاتی ہے ۔ جیسے ہی وہ ایسا کرتی ہے مائیکل اٹھتا ہے اور دوسرے کمرے میں چلا جاتا ہے ۔وہ اس کے نہانے کی آوازیں سنتا ہے ۔ پھر وہ واپس باورچی خانے میں جاتا ہے ۔ وہ ابھی بھی نہا رہی ہے ۔
مائیکل؛ ’’ مجھے معلوم نہیں کہ میں کیا کہوں ۔ میں پہلے کبھی کسی عورت کے ساتھ نہیں رہا ۔ ہم چار ہفتوں سے ساتھ ہیں اور میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ میں ایسا نہیں کر سکتا ۔ مجھے اس کا خیال ہی مارے ڈالتا ہے ۔‘‘
ہانا سوچتے ہوئے اسے دیکھتی ہے ۔
مائیکل؛ ’’ میں دوسرے بوگی میں اس لئے بیٹھا تھا کہ میرا خیال تھا کہ تم شاید میرا بوسا لو گی ۔‘‘
ہانا؛ ’’ بچے ! کیا تم نے سوچا تھا کہ ہم ٹرام، میں پیار کر سکتے تھے ؟‘‘
دونوں مسکرائے ۔ لیکن مائیکل نے جلدی سے پوچھا۔
مائیکل؛ ’’ کیا یہ سچ ہے کہ میں تمہارے لئے اہم نہیں ہوں ؟‘‘
ہانا غسل کرتے ہوئے سر ہلاتی ہے ۔
مائیکل؛ ’’ کیا تم نے مجھے معاف کر دیا ہے ؟‘‘
ہانا ہاں میں سر ہلاتی ہے ۔
مائیکل ؛ ’’ کیا تم مجھ سے پیار کرتی ہو ؟‘‘
ہانا اسے دیکھتی ہے اور پھر ہاں میں سر ہلا دیتی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ بیڈ روم۔ ہانا کا اپارٹمنٹ ۔ دن کا وقت
مائیکل بستر پر ایک طرف بیٹھا ہے ۔ ہانا اندر آتی ہے ۔ اس نے تولیہ لپیٹ رکھا ہے ۔
ہانا ؛ ’’ کیاتمہارے پاس کتاب ہے ؟
مائیکل؛ او، ہاں میرے پاس ہے ۔ میں صبح سے ہی اسے ساتھ لے آیا تھا ۔
ہانا؛ ’’ کیا ہے وہ ؟‘‘
مائیکل؛ ’’ یہ ایک اور ڈرامہ ہے ۔‘‘
مائیکل جیب سے کتاب نکالتا ہے ۔ ہانا بستر پر لیٹ جاتی ہے ۔ وہ مکمل طور پر پرسکون ہے ۔
ہانا؛ ’’ ہم ترتیب بدل رہے ہیں ۔ بچے!پہلے مجھے کچھ پڑھ کر سنائو۔ پھر ہم پیار کریں گے ۔‘‘
مائیکل بستر کے پاس زمین پر بیٹھ جاتا ہے اور پڑھنا شروع کر دیتا ہے ۔
مائیکل؛ ’’ محبت اور سازش ، فریڈرچ شِلر کا ایک ڈرامہ ۔۔۔‘‘
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ ہانا کا اپارٹمنٹ ۔ دن کا وقت
ہانا تندور میں روٹی پکا رہی ہے ۔ مائیکل اس کے پاس ایک کرسی پر بیٹھا ہے ۔ اس کے ہاتھ میں ایک کتاب ہے ۔
مائیکل؛ ’’ اوڈیسی از ہومر ‘‘
ہانا؛ ’’ اوڈیسی کیا ہوتا ہے ؟‘‘
مائیکل؛ ’’ یہ ایک سفر ہوتا ہے ۔ وہ سفر پر نکلتا ہے ۔ ‘‘
وہ پڑھنا شروع کر دیتا ہے ۔
مائیکل؛ ’’ اے دیوی ، مجھے اس انسان کا قصہ سنائو
جوپیچ دار اور مشکل پسند ہے
جو وقت کے چکر ویو میں کبھی آگے بڑھتا ہے اور کبھی پیچھے
جس نے ایک بار ٹرائے کی اونچی بلندیوں کو تاراج کیا تھا
جس نے بہت سے شہر دیکھے اور وہاں کے لوگوں کے ذہنوں کو پڑھا
جس نے کھلے سمندروں میں کئی تکلیفیں سہیں اور جس کا دل کئی بار ٹوٹا
جس نے اپنے ساتھیوں اور خود کو محفوظ رکھنے اورگھر واپس لانے کے لئے لڑائیاں لڑیں ۔۔۔‘‘
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ ہانا کا اپارٹمنٹ۔ شام کا وقت
ہانا نہا رہی ہے ۔ مائیکل اسے شیکسپئیر کا ایک سونٹ پڑھ کر سنا رہا ہے ۔
مائیکل؛ ’’ اور ہم کچھ نئی لذتوں سے آشنا ہوں گے
جو سنہری ریت اور شفاف ندیوں کی مانند ہیں ،
جن کی ریشمی اور چاندی سی چمک دمک دل موہ لیتی ہے ۔۔۔‘‘
ہانا؛’’ یہاں آئو۔‘‘
اور وہ اسے ٹب میں گھسیٹ لیتی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ ہانا کا اپارٹمنٹ ۔ اندر روشنی ہے ۔
ہانا کچھ سی رہی ہے ۔ مائیکل اس کے لئے ’ ہکل بیری فِن‘ پڑھ کر سنا رہا ہے۔
مائیکل؛ ’’ میں اس جگہ میں گھستا چلا گیا اور پھر میرے سامنے ایک کھلا ٹکڑا آیا جو ایک بیڈ روم کے سائز کے برابر تھا ۔ اس پر انگوروں کی بیلیں لٹک رہی تھیں ۔ مجھے وہاں ایک آدمی سویا ہوا نظر آیا ۔جس سے ذرا ہٹ کر میرا پرانا جِم ۔۔۔۔‘‘
مائیکل جِم جیسی اداکاری کرنے لگتا ہے اور دونوں ہنسنے لگتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر ؛ ہانا کا اپارٹمنٹ ۔ دن کا وقت
مائیکل بستر کے پاس فرش پر بیٹھا ہے ۔ ہانا بستر پر لیٹی ہے ۔ مائیکل اس کے لئے ’ لیڈ چیٹرلی‘ز لورر‘ پڑھ رہا ہے ۔
مائیکل؛ ’’ لیڈی چیٹرلی نے، اس وقت، جب وہ اس میں داخل ہوا، اپنی جلد کے ساتھ اس کی ننگی جلدکو محسوس کیا۔ ایک لمحے کے لئے وہ اس کے اندر ساکت رہا ۔۔۔‘‘
ہانا؛ ’’ یہ گھنائونی تحریر ہے ۔ یہ تمہیں کہاں سے ملی ؟‘‘
مائیکل؛ ’’میں نے یہ ناول سکول میں کسی سے مستعار لیا تھا ۔‘‘
ہانا؛ ’’تمہیں شرم آنی چاہیے ۔ ۔۔آگے پڑھو۔‘‘
جاری ہے