اندر کا منظر؛ حوالات ۔دن کا وقت
ہانا اپنے بستر کے کنارے پر بیٹھی ہے ۔ ایک محافظ دروازے پر آتا ہے ۔
محافظ ؛ ’’ تمہارا ایک ملاقاتی آیا ہے ؛ مائیکل برگ ‘‘
ہانا ایک لمحے کے لئے حیران ہوتی ہے ۔ پھر وہ اٹھ کھڑی ہوتی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
باہر کا منظر؛ حوالات کی انتظار گاہ۔ دن کا وقت
مائیکل انتظار گاہ میں کھڑا سگریٹ پی رہا ہے ۔بہت سارے ملاقاتی جن میں بوڑھے ، بچے اور کنبے شامل ہیں ، منتظر ہیں ۔کچھ بچے فٹ بال سے کھیل رہے ہیں ۔پھر ایک گارڈ آتا ہے اور لوگوں کے نام پکارتا ہے ۔ مائیکل کا نام بھی پکارا جاتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ حوالات کا ملاقاتی کمرہ۔ دن کا وقت
ہانا کو جلدی جلدی حوالات کی راہداری سے ملاقاتی کمرے میں لے جایا جاتا ہے ۔ وہ ایک ڈیسک کے پاس بیٹھ کر انتظار کرنے لگتی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
باہر کا منظر؛ حوالات کی انتظار گاہ۔دن کا وقت
مائیکل کو دوسرے ملاقاتیوں کے ہمراہ ملاقاتی کمرے میں لے جایا جاتا ہے ۔جیسے جیسے وہ کمرے کی طرف بڑھتا ہے وہ دل چھوڑ دیتا ہے ۔وہ اپنا ارادہ بدل دیتا ہے ۔ باقی لوگ آگے بڑھتے جاتے ہیں جبکہ وہ انہیں دیکھتاپیچھے ہٹتا جاتا ہے اور پھر واپس جانے کے لئے مڑ جاتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ حوالات کا ملاقاتی کمرہ۔ دن کا وقت
ہانا خالی ڈیسک کے پاس بیٹھی انتظار کر رہی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
باہر کا منظر؛ حوالات کی انتظار گاہ۔ دن کا وقت
مائیکل مڑ کر اسی طرف بڑھ جاتا ہے جدھر سے وہ آیا ہوتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ حوالات کا ملاقاتی کمرہ۔ دن کا وقت
ہانا ادھر ادھر دیکھتی ہے ۔ کوئی نہیں آ رہا ۔ وہ مزید انتظار کرتی ہے ۔
گارڈ؛ ’’ وقت ختم ہو گیا ہے ۔‘‘
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ حوالات کا ملاقاتی کمرہ۔ دن کا وقت
ہانا ابھی بھی منتظر ہے ۔ پھر اسے واپس اس کی کوٹھری کی طرف لے جایا جاتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ مارتھی کا کمرہ۔طلباء کے کمرے۔ رات کا وقت
مائیکل مارتھی کے دروازے کے سامنے آتا ہے ۔ وہ ڈیسک پر بیٹھے کام کر رہی ہے ۔ وہ اسے دیکھ کر مسکراتا ہے اور دروازہ بند کر دیتا ہے ۔
مارتھی؛ ’’تم نے اپنے تئیں وقت لے ہی لیا ۔‘‘
وہ ایک دوسرے کا بوسہ لیتے ہیں ۔ وہ عجلت سے اس کے کپڑے اتارنا شروع کر دیتی ہے ۔ وہ اسے ایسا کرنے دیتا ہے لیکن اس کے کپڑے اتارنے کی کوشش نہیں کرتا ۔ مارتھی اس کے کپڑے اتارتی رہتی ہے یہاں تک کہ وہ ننگا ہو جاتا ہے جبکہ وہ خود کپڑوں میں ہی ہے ۔ وہ ایک لمحے کے لئے اسے دیکھتا ہے اور پھر اسے بانہوں میں بھر لیتا ہے ۔وہ بستر پر جاتے ہیں اور پیارکرتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ مارتھی کا کمرہ ۔ رات کا وقت
مارتھی سوتی نظر آ رہی ہے جبکہ مائیکل جاگ رہا ہے ۔ مائیکل ممکنہ خاموشی سے بستر سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے ۔
مارتھی؛ ’’ تم کہاں جا رہے ہو؟‘‘
مائیکل؛ ’’ میں معذرت خواہ ہوں ۔ میں اکیلے سونا چاہتا ہوں ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ حوالات ۔ ہانا کی کوٹھری ۔ صبح کا وقت
ہانا چلمچی کے پاس عریاں کھڑی ہے اور تیار ہو رہی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ طلباء کے کمرے۔مائیکل کا کمرہ۔ صبح کا وقت
مائیکل اپنے بستر پر لیٹا چھت کو گھور رہا ہے ، وہ رات بھر سو نہیں پایااور نیند ابھی بھی اس سے کوسوں دور ہے ۔ وہ بے دِلی سے لحاف ایک طرف کرتا ہے اور عریاں ہی بستر سے اٹھ جاتا ہے ۔پھر وہ آہستہ آہستہ کپڑے پہنتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ حوالات ۔ ہانا کی کوٹھری ۔ صبح کا وقت
ہانا عریاں کھڑی خود کو پانی سے صاف کررہی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ طلباء کے کمرے۔مائیکل کا کمرہ ۔ دن کا وقت
مائیکل اب تیارہو چکا ہے ۔ وہ آئینے کے سامنے کھڑا اپنی ٹائی ٹھیک کر رہا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ حوالات ۔ ہانا کی کوٹھری ۔ دن کا وقت
ہانا آئینے کے سامنے کھڑی ، اپنی ٹائی باندھ رہی ہے ۔ وہاں ایک چھوٹا اور ناکافی عکس دکھانے والا آئینہ ہے جس میں وہ اپنے لباس کا جائزہ لینے کی کوشش کرتی ہے ۔۔۔اس نے کالا سوٹ پہن رکھا ہے اس کا بلائوز سفید ہے جبکہ ٹائی کالی ہے ۔ وہ دیکھنے میں باقاعدہ طور پر تیار ہوئی لگتی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ حوالات ۔ دن کا وقت
ایک محافظ ہانا کو حوالات سے لئے جا رہا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
باہر کا منظر؛ ٹائون ہال ۔ دن کا وقت
بہت سے لوگ کمرہ عدالت کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔ جیسے ہی سیمینار والا گروپ اندر داخل ہوتا ہے تو مائیکل پیچھے رہ جاتا ہے ۔ روہل دروازے میں داخل ہوتے ہوئے اس پر نظر ڈالتا ہے ۔ مائیکل باہر ہی رہتا ہے اور پھر وہ آگے بڑھ کر قیدیوں کی گاڑیوں کو آتے دیکھتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ کمرہ عدالت۔ ٹائون ہال ۔ دن کا وقت
ہانا اور دوسری قیدی عورتوں کو کمرہ عدالت میں لایا جاتا ہے ۔ ہانا کاوردی نما لباس دیکھ کر عوامی بینچوں پر بیٹھے لوگ آوازیں لگاتے ہیں ؛ ’ نازی ! نازی ! ‘ ڈائٹر مارتھی کی طرف جھکتا ہے ۔ ہانا چلتی ہوئی اپنی جگہ پر پہنچتی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ کمرہ عدالت ۔ دن کا وقت
جیسے ہی جج اپنی جگہوں پر بیٹھنے کے لئے کمرہ عدالت میں آتے ہیں ، سب کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ ہانا کا چہرہ تاثرات سے خالی ہے جیسے راضی بہ رضا ہو ۔جج بیٹھ جاتے ہیں ۔ کمرہ عدالت میں خاموشی چھا جاتی ہے ۔
جج؛’’ یہ عدالت مدعاعلیہان ریٹا بیخہارٹ ، کیرولینا سٹائنہوف ،ریجینا کریٹز، انجیلازائبر اور آندریہ لوہمان کو مشترکہ طور پر قتل کے تین سو مقدمات میں اہانت اورمدد کے لئے قصوروار ٹھہراتی ہے ۔ اسی طرح عدالت ہانا شمیٹز کو بھی قتل کے تین سو مقدمات میں مجرم قرار دیتی ہے ۔‘‘
یہ سب دیکھتے ہوئے ، مائیکل کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں ۔
جج؛ ’’عدالت مجرموں کو یہ سزا سناتی ہے ؛ ریٹا بیخہارٹ ، کیرولینا سٹائنہوف ،ریجینا کریٹز، انجیلازائبر اور آندریہ لوہمان،تم میں سے ہر ایک کو چار سال اور تین ماہ کے لئے جیل میں قید کاٹنا ہو گی۔‘‘
روہل ، مارتھی ، ڈائٹڑ اور دوسرے طلباء جج کو سزا سناتے دیکھ رہے ہیں جبکہ مائیکل رو رہا ہے ۔
جج؛’’ ہانا شمیٹز ، تمہارے اپنے اعترافات اور خصوصی کردار کی وجہ سے تم ایک الگ زمرے میں آتی ہو ۔ عدالت مجرمہ ہانا شمیٹز کو عمر قید کی سزا سناتی ہے ۔‘‘
ہانا بے حس ہے اور کسی رد عمل کا اظہار نہیں کرتی ۔ پھر وہ مڑتی ہے اور گیلری کی طرف دیکھتی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
باہر کا منظر ؛ عدالت کی عمارت ۔ دن کا وقت
مائیکل فوٹو گرافروں اور اخباری رپورٹروں کے درمیان سے راستہ بناتا چل رہا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ ریل گاڑی ۔ دن کا وقت
مائیکل ریل گاڑی میں بیٹھا ہے اور سوچ میں ڈوبا ہوا ہے ۔ جوان مائیکل اب ادھیڑ عمر کا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ ریل گاڑی ۔ دن کا وقت
1976 ؛ مائیکل جولیا کے ساتھ بیٹھا ہے ۔ مائیکل کی عمر 32 سال ہے ۔ جولیا چار سال کی ایک ذہین بچی ہے اور وہ کوٹ پہنے ہوئے ہے ۔ کھڑکی سے باہر مضافاتی منظر تیزی سے الٹی سمت میں بڑھ رہا ہے ۔
جولیا؛ ’’ ہم کہاں جا رہے ہیں ؟‘‘
مائیکل؛ میں نے کہا تھا؛ میں تب بتائوں گا جب ہم وہاں پہنچ جائیں گے ۔ تم نے مجھے بتایا تھا کہ تمہیںوہ باتیں پسند ہیں جو یک دم حیران کر دیں ۔
جولیا؛ ’’ مجھے ایسی باتیں اچھی لگتی ہیں ۔‘‘
۔۔۔۔۔۔
باہر کا منظر؛ بلومن سٹراسے ۔ دن کا وقت
مائیکل جولیا کو لئے اپنے آبائی گھر کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ وہ اِدھر اُدھر دیکھتا ہے ۔ اسے ہانا یاد آتی ہے جس نے 18 برس پہلے بیمار مائیکل کو گھر پہنچایا تھا ۔ یہ وہی جگہ ہے ۔
اندر کا منظر؛ ڈائنگ روم ۔ برگ کا اپارٹمنٹ ۔ دن کا وقت
تینوں کھانے کی میز پر بیٹھے ہیں اور روسٹ کی ہوئی ایک چھوٹی مرغی کھا رہے ہیں ۔
مائیکل؛ ’’ یہ بڑی ہو گئی ہے ، ایسا نہیں ہے کیا؟‘‘
کلارا؛ ’’میں یہ نہیں جانتی ۔ مائیکل، میں نے اسے مدتوں سے نہیں دیکھا ، میں کیسے بتا سکتی ہوں ؟‘‘
مائیکل؛ ’’ میری غلطی ہے ۔ ہمیں بِنا اطلاع کے نہیں آنا چاہیے تھا ۔‘‘
جولیا؛ ’’ ڈیڈی ، یہ ناراض کیوں ہیں ؟ ‘‘
مائیکل مسکراتا ہے ۔ اور کلارا بھی ہلکے سے مسکرا دیتی ہے ۔
مائیکل؛ ’’ مجھے افسوس ہے کہ میں آپ کو ایک بری خبر سنانے لگا ہوں ۔ جولیا کو اس کا پتہ ہے ۔ہم نے اسے پہلے ہی بتا دیا ہے۔گرٹروڈ اور میں ایک دوسرے سے طلاق لے رہے ہیں ۔‘‘
جولیا؛ ’’ اب ڈیڈی اپنے گھر میں رہیں گے ۔‘‘
کلارا ؛ تم اپنے باپ کے مرنے پر نہیں آئے تھے ، لیکن یہ بات بتانے کے لئے آ گئے ہو ۔‘‘
مائیکل؛ آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ اس قصبے میں آنا میرے لئے آسان نہیں ہے ۔‘‘
کلارا؛ ’’ کیا تم یہاں سچ مچ ناخوش تھے ؟‘‘
مائیکل؛ ’’ میں یہ نہیں کہہ رہا ۔ اور نہ ہی میرے کہنے کا یہ مطلب ہے ۔‘‘
کلارا؛’’ اچھا تو پھرٹھیک ہے؟‘‘
کلارامائیکل کو سخت نظروں سے دیکھتی ہے ۔
مائیکل؛’’ آپ کو گرٹروڈ کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ میں اس کا خیال رکھوں گا ۔ اور ، خیر چھوڑیں ، اب اس کا سامنا تو کرنا ہی ہے ۔ ویسے بھی وہ اب ایک ریاستی پراسیکیوٹر ہے اور مجھ سے کہیں زیادہ کماتی ہے ۔
کلارا؛ ’’ مائیکل، میں گرٹروڈ کے بارے میں پریشان نہیں ہوں ۔ میں تمہارے لئے فکرمند ہوں ۔‘‘
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ ریل گاڑی ۔ شام کا وقت
سارے دن کی تھکاوٹ کے بعد ، جولیا مائیکل کی گود میں سو رہی ہے ۔وہ اس پر جھک کرا سے دیکھتا ہے ۔ اس کی نظروں میں بھرپور محبت ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
باہر کا منظر ؛ شونے برگ ، برلن۔ رات کا وقت
برلن کی ٹریفک بھری ایک مصروف سڑک پر، مائیکل ، ایک محبتی باپ ، جولیا کا ہاتھ تھامے سڑک پار کرتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر ؛ گرٹروڈ کا اپارٹمنٹ ، باہر کا چوکا ، برلن ۔ رات کا وقت
گرٹروڈ دروازے پر آتی ہے ۔ وہ دیکھنے میں ایک ہوشیار ، ذہین عورت لگتی ہے ۔ وہ مائیکل سے کچھ بڑی ہے ۔ دبلی پتلی ہے ۔ اس نے ڈھیلا پاجاما اور بلائوز پہن رکھا ہے ۔مائیکل جولیا کے ساتھ باہر
کھڑا ہے ۔
جولیا ؛ ’’ ہیلو ، ممی ‘‘
گرٹروڈ ؛ ’’ ہیلو ،میری پیاری۔‘‘
گرٹروڈ جھکتی ہے اور جولیا کو گود میں اٹھا لیتی ہے اور اس کا بوسہ لیتی ہے۔ مائیکل چوکے پر کھڑا آگے پیچھے ہوتا رہتا ہے ۔
گرٹروڈ؛ ’’ اگر میں تمہیں اندر آنے کے لئے نہ کہوں تو تم بُرا تو نہیں مانو گے ؟‘‘
مائیکل؛ ’’ میں بالکل بھی برا نہیں منائوں گا ۔ اصل میں مجھے بھی بہت سا کام نبٹانا ہے ۔‘‘
لیکن ایسا لگتا نہیں ۔ وہ جاتا نہیں بلکہ کھڑا رہتا ہے ۔
مائیکل؛ ’’ میں اسے وہاں لے کر گیا تھا جہاں میں پلا بڑھا تھا ۔‘‘
گرٹروڈ ؛ ’’ میرے خدایا، تم مغرب کی طرف گئے تھے ۔ اتنا لمبا سفر ۔‘‘
جولیا؛ ’’ ہم دادی کو ہیلو کہنے گئے تھے ۔‘‘
گرٹروڈ؛ ’’اوہو ۔ ڈیڈی تمہیں کلارا سے ملانے لے گئے تھے ، ایسا ہے کیا؟‘‘
جولیا؛ ’’ وہ عجیب تھیں ۔‘‘
گرٹروڈ ؛ چلو ، دیکھتے ہیں کہ ٹی وی پر کیا چل رہا ہے ۔‘‘
گرٹروڈ جولیا کو کھانا دیتی ہے اور اسے ٹی وی کے سامنے بٹھا دیتی ہے ۔پھر وہ مائیکل کے پاس واپس آتی ہے ۔
گرٹروڈ ؛ ’’ میں شرط لگاتی ہوں کہ وہ عجیب تھیں ۔‘‘
مائیکل؛ ’’ تم ایسا کہہ سکتی ہو ۔‘‘
گرٹروڈ؛ ’’ وہ ہمیشہ سے ایسی ہی تھیں ۔ تم نے جولیا کو وہاں لے جانے کا فیصلہ کیسے کر لیا ؟‘‘
مائیکل؛ ’’ مجھے معلوم نہیں ہے ۔ شاید من میں کسک اٹھی تھی ۔‘‘
گرٹروڈ کچھ نہیں بولتی ۔
مائیکل؛ ’’ اگر میں ایمانداری سے کہوں تو میرا خیال ہے کہ ہم وہاں اس لئے گئے تھے کہ میں تعلق بحال کرنا چاہتا تھا ۔‘‘
گرٹروڈ؛ ’’ اپنی ماں سے ؟ اور کیا تم اس میں کامیاب رہے ؟‘‘
وہ دونوں مسکراتے ہیں ۔
مائیکل؛ ’’ کیا تم ٹھیک ہو ؟‘‘
وہ اس کے بازو کو چھوتا ہے ۔
گرٹروڈ ؛ ’’ مائیکل تم ایک ذہین آدمی ہو۔ تمہیں یہ بات معلوم نہیں کہ رابطے کی وصولی اس وقت بہت ہی مشکل ہوتی ہے جب آپ اپنا رابطہ دینے کے لئے تیار نہ ہوں؟‘‘
گرٹروڈ کی نظر عام سی ہے اس میں عداوت نہیں ہے ۔
گرٹروڈ ؛ ’’ جولیا کو الوداع کہو ۔‘‘
جولیا؛ ’’ الوداع ، ڈیڈی ۔‘‘
مائیکل مڑتا ہے اور الوداع کہتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ مائیکل کا اپارٹمنٹ ، کریوزبرگ۔ رات کا وقت
مائیکل ایک خالی کمرے میں کھڑا ہے ۔ خوفناک خاموشی ہے ۔ وہ اپنی کتابوں کے بکسے کی طرف جاتا ہے ۔ وہ کتابوں کے پشتوں پر اپنی انگلیاں پھیرتا جیسے کبھی ہانا نے پھیریں تھیں ۔وہ اوڈیسی کا پیپر بیک ایڈیشن اٹھاتا ہے ۔ اسے ایک نظر دیکھتا ہے اور پھر اونچی آواز میں خود کو ہی سنانے لگتا ہے ۔
مائیکل؛ ’’ اے دیوی ، مجھے اس انسان کا قصہ سنائو
جوپیچ دار اور مشکل پسند ہے
جو وقت کے چکر ویو میں کبھی آگے بڑھتا ہے اور کبھی پیچھے
جس نے ایک بار ٹرائے کی اونچی بلندیوں ۔۔۔۔‘‘
پھر وہ ٹیک لگا کر بیٹھ جاتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ ہانا کی کوٹھری ۔ صبح سویرے کا وقت
ہانا اپنی کوٹھری میں کمبل تہہ کر رہی ہے ۔وہ اب 53 سال کی ہے ۔ اس پر نئی طرح کی سادگی اور سرمئی پن چھایا ہے ۔ اس کی کوٹھری جدید ہے لیکن اس میں کوئی آرائشی سامان نہیں ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ جیل، راہداری ۔دن کا وقت
ایک محافظ عورت راہداری میں ’ ڈاک‘ کی آواز لگا رہی ہے ۔ وہ ہانا کی کوٹھری کے پاس رک کر ہانا کو بتاتی ہے کہ اس کے لئے ’ ڈاک‘ آئی ہے ۔ہانا اس بات پر حیران ہوتی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ ڈاک کی تقسیم کا کمرہ، جیل۔ دن کا وقت
ہانا ڈاک والے کمرے میں جاکر اپنی شناخت کرواتی ہے ۔ وہاں اس کے لئے ایک بڑا پیکٹ موجود ہے ۔ اسے کہا جاتا ہے کہ وہ اسے کھولے ۔ پیکٹ میں بہت ساری کیسٹیں اور ایک ٹیپ ریکارڈر ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ کوٹھری ۔ دن کا وقت
ہانا پیکٹ کھولتی ہے اور اس میں سے کیسٹیں نکالتی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ مائیکل کا اپارٹمنٹ ۔ شام کا وقت
مائیکل ایک ٹیپ مشین نکالتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ کوٹھری ۔ دن کا وقت
ہانا ٹیپ مشین نکالتی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ مائیکل کا اپارٹمنٹ۔ شام کا وقت
مائیکل نے ہاتھ میں مائیکروفون پکڑا ہوا ہے ۔
مائیکل؛ ٹیسٹنگ ۔ ٹیسٹنگ ۔ ایک ۔ دو۔ تین۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ کوٹھری ۔ دن کا وقت
ہانا مشین میں ایک کیسٹ ڈالتی ہے ۔
مائیکل کی آواز ؛ ’’ اوڈیسی از ہومر ‘‘
ہانا گھبرا کر مشین بند کر دیتی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ مائیکل کا اپارٹمنٹ۔ شام کا وقت
مائیکل ریکارڈنگ کا بٹن دباتا ہے اور مشین میں بولتا ہے ۔
مائیکل؛ ’’ اے دیوی ، مجھے اس انسان کا قصہ سنائو
جوپیچ دار اور مشکل پسند ہے
جو وقت کے چکر ویو میں کبھی آگے بڑھتا ہے اور کبھی پیچھے
جس نے ایک بار ٹرائے کی اونچی بلندیوں کو تاراج کیا تھا
جس نے بہت سے شہر دیکھے اور وہاں کے لوگوں کے ذہنوں کو پڑھا
جس نے کھلے سمندروں میں کئی تکلیفیں سہیں اور جس کا دل کئی بار ٹوٹا
جس نے اپنے ساتھیوں اور خود کو محفوظ رکھنے اورگھر واپس لانے کے لئے لڑائیاں لڑیں ۔۔۔‘‘
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ مائیکل کا اپارٹمنٹ ۔ رات کا وقت
بعد ازاں ۔ مائیکل کمرے میں ٹہل رہا ہے ۔ اس نے نیکراور ٹی شرٹ پہن رکھی ہے ۔ اس کے ہاتھ میں مائیکروفون ہے اور وہ پڑھے جا رہا ہے ۔
مائیکل؛ ’’ آہ ، کتنی بے شرمی کی بات ہے ۔۔۔ جس طرح یہ فانی خدائوں کومورد ِ الزام ٹھہراتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی مصیبتوں کا سبب صرف ہم ہی ہیں ۔۔۔‘‘
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛بیڈ روم ۔ رات کا وقت
نصف شب کا وقت ہے ۔ مائیکل بستر پر لیٹا ابھی بھی پڑھے جا رہا ہے ۔
مائیکل؛’’ تم کون ہو ؟ اور کہاں سے آئے ہو ؟تمہارا شہر کونسا ہے ؟ اور تمہارے والدین کون ہیں ؟ میں حیران ہوں ۔۔۔ تم نے میری دوائیاں پی لی ہیں ، پھر بھی تم مسحور نہیں ہوئے ۔۔۔ ‘‘
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر ؛ لیونگ روم ۔ دن کا وقت
مائیکل ایک کیسٹ نکالتا ہے اور اسے اس کے سفید بکسے میں رکھتا ہے ۔ وہ اس کی پشت پر ’ اوڈیسی6 ‘ لکھتا ہے ۔ پھر وہ بکسوں کے پاس رکھی شیلف کے پاس پہنچ کر اسے وہاں رکھ دیتا ہے جہاں پہلے سے کیسٹیںپڑی ہیں جن پر الگ الگ سے ’ اوڈیسی 1 ، 2 ،3 ، 4 ، 5 ‘ لکھا ہے ۔پھر وہ ایک چھوٹی نوٹ بُک نکالتا ہے اور اس میں نئی تیار کردہ ٹیپ کا نام ہاتھ سے لکھی ہوئی فہرست کے سامنے لکھ دیتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر ؛ کوٹھری۔ رات کا وقت
اندھیرا ہے ۔ ہانا بستر پر لیٹی ہے ۔
مائیکل کی آواز؛ ’’ زیوس ، طوفانوں کا بادشاہ شروع سے ہی ایٹریس کی نسل سے نفرت کرتا تھا اور انتقام لینا چاہتا تھا ۔۔۔اور اس کا سب سے زیادہ قابل اعتماد ہتھیار عورتوں کو ورغلانے والی صلاحیت تھی ۔ ۔ ۔ ‘‘
ہانا مائیکل کی قرأت پرمسرت سے مسکراتی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندراور باہر کا منظر؛ مرکب تصویر سازی ۔ دن اور رات کے اوقات
مائیکل کی قرأت اور ہانا کے سننے کی مرکب تصویر سازی چلتی ہے ۔ مائیکل مختلف کتابیں پڑھتا ہے ۔ وہ متحرک ہے اور پرجوش ہے ۔ ہیمنگوئے کی ’بوڑھا اور سمندر ‘، شنیٹزلر کی ’اناطول ‘، زویگ کی ’ گزرے کل کی دنیا‘ اور پیسٹرنک کی ڈاکٹر ژواگو سے اقتباسات پڑھے جاتے ہیں ۔ مائیکل اپنے کئے پر خوشی کی آگ میں بھڑک رہا ہے ۔ ہانا ڈاک والے کمرے سے کیسٹوں کو وصول کرتی جاتی ہے انہیں اپنی شیلفوں پر ترتیب سے رکھتی جاتی ہے ۔۔۔ اس کی لائبریری پھل پھول رہی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ کوٹھری ، رات کا وقت
ہانا بستر پر لیٹی ایک نئی ٹیپ سن رہی ہے ۔
مائیکل کی آواز ؛ ’’ ننھے کتے والی خاتون ، از انتن چیخوف ۔۔۔گفتگو یہ تھی کہ پیدل چلنے والوں کی پٹڑی پر ایک نیا چہرہ نظرآیاتھا۔ یہ ایک خاتون تھی جس کے ساتھ ایک ننھا کتا تھا ۔۔۔‘‘
۔۔۔۔۔۔
باہر کا منظر؛ ورزش کا میدان۔ جیل۔ دن کا وقت
ہانا دوسری قیدی عورتوں کے ساتھ ترتیب میں چکر لگا رہی ہے ۔ اچانک وہ بُت کی طرح ساکت ہو جاتی ہے ۔ اس کے دماغ میں ایک خیال آتا ہے ۔
(جاری ہے )
جاری ہے