بین الاقوامی سینما کے تناظر میں پاکستان کی پہلی بین الاقوامی فلم’’ٹائیگر گینگ‘‘ ہے، کیونکہ یہ واحد فلم ہے، جو پاکستان، جرمنی(مغربی) اور اٹلی کا مشترکہ فلمی منصوبہ تھی، اس فلم کی تکمیل میں ان تینوں ممالک کے علاوہ امریکی ہنرمندوں نے بھی حصہ لیا تھا۔ یہ فلم یورپ اور دنیا کے دیگر خطوں میں مقامی زبانوں کے ساتھ ڈب ہوکر دنیا بھر میں 1971 کو نمائش کے لیے پیش کی گئی جبکہ پاکستان میں اس کی ریلیز کا سال 1974 ہے۔
اس سہ ملکی مشترکہ فلمی منصوبے میں ایک دوسرے سے تکنیکی اور تخلیقی طور سے بھرپور تعاون کیا گیا تھا۔ اس فلم کو اردو، جرمن اور اطالوی تینوں زبانوں میں خاص طور پرڈب کیا گیا، چونکہ فلم کی کہانی کا تعلق ان ممالک سے تھا، اس لیے ان ممالک کی قومی زبانوں میں مکالمے بھی اسکرین پلے کا حصہ تھے۔ یہ پاکستانی فلمی صنعت کے لیے پہلا موقع ہی ہوگا کہ ہمہ وقت اتنی یورپی زبانوں کوپاکستانی پس منظر کی فلم میں استعمال کیاگیا۔ اس فلم کے پوسٹرز بھی تمام ملکوں کی زبانوں میں تیار کیے گئے۔ یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے، اس فلم نے پاکستانی فلمی صنعت کے لیے پہلی بارعالمی فلمی تجارت کا دروازہ کھولا تھا۔

پاکستان، جرمنی، اٹلی اور امریکا کے فنکاروں پر مبنی فلم، جس کی پروڈکشن تین مختلف براعظموں میں ہوئی، ایشیا، یورپ اور شمالی امریکا شامل ہیں۔
جرمن زبان میں بنائی گئی اس فلم کا جو ٹائٹل تھا، اس کے مطابق فلم کا نام’’کمشنر ایکس سرخ شیروں کے تعاقب میں‘‘ تھا۔ اس کو انگریزی زبان میں ڈب کر کے ریلیز کیا گیا، تو اس کا نام’’ایف بی آئی آپریشن پاکستان‘‘ رکھا گیا جبکہ اردو زبان میں اس کا نام’’ٹائیگر گینگ‘‘ تھا۔ ہدایت کاری، اداکاری، کہانی نویسی، عکس بندی، اشتہاری مہم اور دیگر شعبوں میں دونوں طرف سے مشترکہ طور پر کام ہوا تھا۔ فلم کی کہانی کو ان تینوں ممالک کے فلم بینو ں کے مزاج کو مدنظررکھتے ہوئے فلمایا گیا۔اس فلم کو بنانے میں جرمنی کی 3 پروڈکشن کمپنیاں، ڈیوینا فلم، ریگینا فلم اور ورجینیا سینماٹوگرافیکا شامل تھیں، جبکہ پاکستان سے مونٹانا فلمز کا اشتراک تھا۔
ان چاروں فلم ساز ادارو ںنے مل کر اسے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ مغربی جرمنی سے اس کے ہدایت کار’’ہیرالڈرینل‘‘ جبکہ پاکستان سے اقبال شہزاد نے ہدایت کاری کی ذمے داریاں نبھائیں۔ اس فلم کے پاکستانی فلم سازبھی اقبال شہزاد جبکہ جرمنی(مغربی) سے تھیو ایم وارنر تھے۔ یورپ کے 6 ممالک میں مقامی زبانوں میں اس فلم کو ریلیز کیا گیا۔ 1971 میں مغربی جرمنی 1972 میں اٹلی 1973 میں فرانس اور سویڈن 1974 میں اسپین اور فن لینڈ میں ریلیز ہوئی۔ پاکستان میں یہ فلم1974 میں نمائش کے لیے پیش کی گئی۔ فلم کا مرکزی خیال’’ایم ویگنر‘‘ کے ناول سے اخذ کیا گیا۔ اسکرین پلے لکھنے والوں میں 3 جرمن فلم نگار تھیو ماریہ وارنر، کیلس آر ای وان شیورز اور وارنر پی زیباسو شامل تھے۔

اس فلم کے ہدایت کاروں میں پاکستان سے اقبال شہزاد اور جرمنی سے ’’ہیرالڈرینل‘‘ شامل تھے
مثال کے طور پر برصغیر کے خطے میں فلم گیتوں کے بغیر ادھوری تصور ہوتی ہے، اس لیے پاکستان میں اس فلم کو ریلیز کرتے وقت معمولی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ گیتوں کا اضافہ کیا گیا، جبکہ امریکا، مغربی جرمنی اور دیگر یورپی ممالک میں یہ فلم گیتوں کے بغیر ریلیز ہوئی البتہ مجموعی طور پر فلم کی کہانی کو تبدیل نہیں کیا گیا تھا۔ اردو اور جرمن دونوں زبانوں میں اس فلم کے مختلف پوسٹر بھی تیار کیے گئے تھے۔
اس فلم کے موسیقاروں میں پاکستان سے دیبو اور خلیل احمد تھے، جرمنی سے فرانسیکودی ماسوکا اشتراک تھا جبکہ فلم کے تمام گیت ریاض الرحمن ساغر کے لکھے ہوئے تھے، سوائے ایک گیت کے، اس گیت کے بول تھے’’شمشیر برہنہ مانگ غضب‘‘ اور یہ بہادر شاہ ظفر کی غزل تھی، جس کو فلمی موسیقی کے سانچے میں ڈھال کر فلم میں شامل کیا گیا۔ اس فلم کے گلوکاروں میں حبیب ولی محمد، رونا لیلیٰ اور شہناز بیگم کی آوازیں شامل تھیں۔ فلم کے پاکستانی ورژن میں چونکہ گیت بھی شامل کیے گئے تھے، اس لیے فلم کی تشکیل میں گیت نگاری اور موسیقی سے تعلق رکھنے والے فنکار بھی شامل تخلیق ہوگئے۔
برطانوی سینما میں جس طرح جیمز بونڈ فلموں کی سیریز ہے، اسی طرح یہ فلم جرمنی (مغربی) کی بونڈ سیریز کہلاتی تھی، جس کے کل 7 پارٹس بنائے گئے، ان کی عکس بندی دنیا کے مختلف ملکوں میں ہوئی۔ اس فلم سیریز کا یہ ساتواں حصہ ،جو کہ آخری حصہ تھا، اس کو پاکستان اور امریکا میں فلمایا گیا جو باقاعدہ پاکستانی فلمی صنعت کے اشتراک سے پایہ تکمیل کو پہنچا۔
اس یادگار فلم کے فلمی ستاروں میں پاکستانی، اطالوی، جرمن اورامریکی اداکار شامل تھے۔ پاکستان سے محمد علی، زیبا، نشو، علی اعجاز، قوی خان، ساقی ، مینا چوہدری، روبینہ، طلعت صدیقی اور زرقا شامل تھے، جبکہ اٹلی سے ٹونی کینڈل اور جرمنی (مغربی)سے بریڈہریس، گیسیلہ ہان، ارنسٹ فرٹیز فوربرینگر، رائنربیسیڈو، نینوکوردا، روبریٹومیثینا، چارلس وکی فیلڈ، میک جارجرفلینڈرز اور دیگر شریک تھے۔ فلم میں پولیس افسر کا کردار’’محمد علی‘‘ نے نبھایا جبکہ’’شیریں‘‘ کے کردار میں’’زیبا‘‘ نے اداکاری کی تھی۔ انٹرپول اور ایف بی آئی کے ایجنٹس کے طور پر’’ٹونی کینڈل‘‘ اور’’بریڈ ہریس‘‘ نے اپنے اپنے کرداروں کو بخوبی ادا کیا تھا۔ یہ ایک روایتی کہانی ہے، جس پر کئی بار فلمیں بن چکی ہیں، مگر اس کی اہمیت اس لیے ہے کہ فلم کو تخلیقی اور تکنیکی دونوں طرح سے بناتے وقت مذکورہ ممالک کے فلم سازوں کا بتدریج اشتراک رہا۔
اس فلم کا ورلڈ پریمیر بھی ہوا، مختلف یورپی ممالک میں نمائش کی گئی ۔ حیرت کی بات ہے، پاکستان میں یہ فلم ناکام ہوئی۔

جرمنی کی جیمزبونڈ طرز کی فلم سیریز ، جو دنیا کے مختلف براعظموں اور ممالک میں عکس بند کی گئی
اردو زبان کے لیے اس فلم کے مکالمے سلیم چشتی نے لکھے اور جرمن زبان میں زباسکو نے انہیں لکھا۔ میک اپ کے شعبے میں جرمنی (مغربی)سے عرسلہ چنپیلی اور پاکستان سے ادریس اور احمد وفا نے ذمہ داریاں نبھائیں۔ فوٹوگرافی میں جرمنی(مغربی) سے ایف ایزاریلی اور پاکستان سے صادق موتی شامل تھے۔ فلم کی شوٹنگ تین ممالک میں کی گئی، جن میں افغانستان، پاکستان اور امریکا شامل ہیں۔ افغانستان میں اس کی شوٹنگ سرحدی علاقے کے پہاڑوں پر ہوئی، پاکستان میں پشاور اور لاہور میں مختلف مقامات اور امریکا میں اس کی عکس بندی نیویارک میں کی گئی۔ یہ شاید پاکستانی کی واحد فلم تھی، جس میں تقریباً تمام شعبوں میں ایسے افراد کی بھی اکثریت تھی، جنہوں نے نائب کی حیثیت سے کام کیا تھا۔ ’’ٹائیگر گینگ‘‘ ایک ایکشن فلم تھی، جس کی کہانی میں تجسس، رومان اور مزاح کے رنگ بھی شامل کیے گئے تھے۔

ایک سین میں پاکستانی فنکار محمد علی اور علی اعجاز غیرملکی فنکاروں کے ہمراہ ہیں
اس فلم کی کہانی کا خلاصہ یہ ہے، ایک عالمی شہرت یافتہ منشیات کا اسمگلر، جس کو انٹرپول، ایف بی آئی اور پاکستانی پولیس تلاش کر رہی ہے۔ اسمگلر کا سرغنہ’’ڈاکٹر ٹاواریا‘‘ معاشرے کے خلاف منفی سرگرمیوں میں ملوث ہوتا ہے، یہ امریکی مافیا کا سابقہ کارندہ بھی تھا۔ اس کی تلاش میں انٹرپول کا ایک ایجنٹ پاکستانی پولیس افسر کی معاونت کر رہا ہوتا ہے، اس پولیس افسر کا نام’’علی‘‘ ہوتا ہے۔ اس کا معاون ایجنٹ نامعلوم حملہ آوروں کے ہاتھوں قتل ہو جاتا ہے۔ جس کے بعد اس مشن کے لیے ایک مسٹر خان کہانی میں داخل ہوتا ہے۔ اس کا تعلق بھی انٹرپول سے ہوتا ہے۔ پاکستانی پولیس افسر اپنے معاونین کے ہمرا ہ اسمگلر اور اس کے گینگ کی تلاش میں رہتا ہے۔ اسی طرح کہانی میں کئی موڑ آتے ہیں، زیر زمین رہنے والے مختلف گروہ اور وہ طبقات جن کی سرگرمیاں مشکوک ہوتی ہیں، ان کا طرز زندگی بھی دکھایا گیا ہے۔ اسی دنیا میں کی ایک معصوم لڑکی’’شیریں‘‘ بھی اس فلم میں اہم کردار ہے، اس کا بھائی اسی گینگ کے ہاتھوں مارا جاتا ہے، پھر یہی شیریں انتقام کی غرض سے، اس گینگ کے مجرموں تک پہنچنے کے لیے پاکستانی پولیس افسر کی مدد کرتی ہے۔

پاکستانی اداکارہ زیبا ، جرمن اداکار بریڈ ہریس کے ساتھ ایک منظر میں محوِ گفتگوہیں
اس فلم کا شمار پاکستان کی ان چند فلموں میں ہوتا ہے، جو مغرب اور مشرق کی ثقافت کا ملاپ ثابت ہوئیں۔ اس میں کام کرنے والے تمام فنکار اپنے اپنے ملکو ں میں ایک شہرت رکھتے تھے۔ پاکستان سے محمد علی اور زیبا کی جوڑی تھی اور یہ وہ وقت ہے، جب دونوں کی شہرت آسمان سے باتیں کر رہی تھی۔ اسی طرح جرمن ،اطالوی اورامریکی اداکار بھی اپنے ملک کے مقبول فنکار تھے۔
اس فلم کی بازیافت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے، ہم آج بھی چاہیں تو عالمی معیار کی فلمیں بناسکتے ہیں اور دنیا کے کسی بھی ملک کے ساتھ مشترکہ طور پر بھی فلم بناسکتے ہیں۔ ہمارے موجودہ فلم ساز اور روایتی فلموں کے خالق یہی عذر تراشتے دکھائی دیتے ہیں کہ ہمارے پاس وسائل کی کمی ہے، جس کی وجہ سے معیاری فلمیں نہیں بناپاتے۔ ان کے لیے اقبال شہزاد کی یہ فلم’’ٹائیگر گینگ‘‘ ایک روشن مثال ہے۔
امید کرتے ہیں، آنے والے دنوں میں ٹائیگر گینگ کی جیسی، بین الاقوامی مشترکہ پروڈکشن جیسی فلم دوبارہ بھی بنائی جاسکے گی۔ یہ ایک خواب لگتا ہے، لیکن انہی کو خوابوں کی تعبیر ملتی ہے، جو خواب دیکھتے ہیں۔