تعارف
عہدِ حاضر میں فاران طاہر کا شمار امریکی تھیٹر ، ٹیلی وژن اور ہالی وڈ کے نمایاں ایشیائی اداکاروں میں ہوتا ہے۔ امریکی مسلمانوں میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے پیشہ ورانہ اورذاتی رویے سے امریکیوں کی سوچ پاکستان اورمسلمانوں کے بارے میں مثبت طورسے تبدیل کی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ، کراچی پہنچنے پر ، ان کوکراچی پریس کلب میں بھی مدعو کیاگیا۔ 2015 میں سابق امریکی صدر بارک اوباما نے ان کی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئےچائے پر بھی مدعو کیا تھا۔ وہ ہالی وڈ میں تقریباً 25 فلموں میں اپنی اداکارانہ صلاحیتوں کاجادو جگا چکے ہیں، ان کی چند ایک معروف فلموں میں،جن میں ”اسکیپ پلان ون“ اور”آئرن مین ون“ شامل ہیں، ان بہترین اور مشہور فلموں میں انہوں نے آرنلڈ شوازنیگر، سلورس اسٹائلون اور رابرٹ ڈونی جونیئر جیسے معروف فنکاروں کے ساتھ کام کیا ہے۔ ان کی دیگر فلموں میں فلائٹ ورلڈ وار ٹو،ایلزیم،اسٹار ٹریک،چارلی ولسنز وار،جنگل بک وغیرہ شامل ہیں۔جنگل بک فلم سے ان کےکیرئیر کی ابتدا ہوئی تھی۔ ہالی ووڈ سے عالمی شہرت حاصل کرنے والے فاران طاہر امریکا میں پیدا ہوئے، ابتدائی پرورش،تعلیم و تربیت پاکستان میں ہوئی۔ 1980 کو 17 برس کی عمر میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے دوبارہ امریکا لوٹ گئے۔ ہارورڈ یونیورسٹی سے تھیٹر کے شعبے میں سند یافتہ ہونے کے بعد اداکاری کے شعبے میں قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا اور وقت نے ان کے اس فیصلے پر کامیابی کی مہر ثبت کی۔ انہوں نے رائل شیکسپیئر تھیٹر کمپنی کے علاوہ متعدد تھیٹر کے گروہوں کے ساتھ مختلف کھیلوں میں کام کیا، جن کو بہت پسند کیا گیا ، ان کے سب سے مقبول کھیلوں میں سے ایک کھیل ”اوتھیلو“ تھا، جس کو امریکا میں بہت پسند کیا گیا۔ وہ اب تک 70 کے قریب تھیٹر کے کھیلوں میں اپنے ہنر کو پیش کرچکے ہیں۔ 1989 میں فاران طاہر نے امریکی ٹیلی وژن سے فنی کیرئیر کی ابتدا کی،ڈراما سیریز”مڈ نائٹ کالر“میں کام کیا۔ وہ اب تک 180 ڈراما سیریز میں کام کرچکے ہیں۔ 70 کی دہائی میں پاکستان ٹیلی وژن پر اپنی والدہ کے ہمراہ مختصر کردار بھی ادا کیا تھا،یہ ان کی اداکاری کی ابتدا تھی۔ ان کا تعلق ایک علمی و ثقافتی خانوادے سے ہے۔ ان کے والد نعیم طاہر ایک اداکار اور مصنف ہیں۔ والدہ یاسمین طاہر ریڈیو پاکستان کی ممتاز صداکار رہیں، جبکہ ان کے نانا امتیاز علی تاج اردو دنیا کی معروف ادبی شخصیت اور مشہور زمانہ ڈرامے انار کلی کے خالق تھے۔ ان کے بھائی علی طاہر بھی اداکار ہیں۔ گزشتہ دنوں فاران طاہر اپنے پہلے اردو تھیٹر کھیل’’بھائی بھائی‘‘کے سلسلے میں کراچی میں موجود تھے، جو کہ انگریزمصنف’’سیم شیفرڈ‘‘ کے کھیل’’ٹروویسٹ‘‘ سے ماخوذ شدہ ہے۔ انہوں نے اس کھیل میں اداکاری کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی ہدایات بھی دیں۔ ہم نے ان سے ملاقات میں تفصیلی گفتگو کی، جس میں ہالی وڈ، امریکی ٹیلی وژن اور تھیٹر، پاکستانی سینما اور تھیٹر سمیت کئی دیگر اہم موضوع گفتگو کا حصہ بنے۔ کچھ عرصہ پہلے ”فاران طاہر“ پاکستان کے شہر کراچی تشریف لائے تھے،ان سے جب مکالمہ کیا گیا،وہ نذرِ قارئین ہے۔

کراچی میں فاران طاہر کی میزبانی کے فرائض خرم سہیل نے انجام دیے ۔ ان کو کراچی پریس کلب مدعو کیا اور اجرک کا تحفہ بھی پیش کیا ۔ اس موقع کی یادگار تصاویر
س: اچانک یہ خیال کیسے آیا، امریکا میں شوبز کی مصروفیات سے وقت نکال کر پاکستان آئیں، اپنے ملک میں اداکاری کے کیرئیر کودوبارہ شروع کریں اور اس کی ابتدا بھی تھیٹر کے کھیل سے ہو، پھر اس سلسلے کی شروعات کے لیے کراچی شہر کا انتخاب بھی کیا جائے، یہ سب کیسے وارد ہوا؟
ج: پاکستان میں فلم اور ٹیلی وژن کے شعبے میں تو نیا کام ہو رہا ہے، شوبز میں جدت دیکھنے کو مل رہی ہے، لیکن تھیٹر کا شعبہ ابھی اس سطح تک نہیں پہنچا، جس کے بارے میں کہا جاسکے کہ اس میں کوئی بہت جدید قدروں کے مطابق کام ہو رہا ہے۔ اس شعبے میں کام کرنے کی سخت ضرورت ہے، ورنہ جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا والی بات ہے، ہمیں اپنے اس شعبے کو فعال کرنے کی اشد ضرورت ہے اور کراچی سے تھیٹر کے کھیل کی پیشکش اسی سلسلے کی پہلی کڑی ہے، یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔ یہ کھیل کسی کو پسند آئے یا نہ آئے، لیکن اس شعبے میں اپنے حصے کا عملی کام کرنے کی غرض سے میں یہاں آپہنچا ہوں۔
س: کراچی میں قائم نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس (ناپا) جس کے چیئرمین ضیا محی الدین ہیں، انہوں نے بھی مغربی تھیٹر اورہالی ووڈ کی چند فلموں میں مختصر کردار نبھائے، تو اس اکادمی کے ہونے کے باوجود بھی آپ سمجھتے ہیں، پاکستان میں تھیٹر کے شعبے میں تسلی بخش کام نہیں ہو رہا؟
ج: وہ توصرف ایک ادارہ ہے، ایک کے ہونے سے کچھ نہیں ہوسکتا، تھیٹر کو صنعت کی شکل دینا پڑے گی، جس کے لیے بہت سارے لوگوں کو مل کر کام کرنا پڑے گا، صرف ایک فلم بنانے سے فلمی صنعت کے بنانے کا دعویٰ تو نہیں کیا جاسکتا، اس لیے اگر فلم اور ٹیلی وژن میں نیا کام ہو رہا ہے، تو تھیٹر کے شعبے میں بھی ایسی کوششیں کرنا پڑیں گی تاکہ ناظرین کو اندازہ ہوسکے کہ اس شعبے میں بھی نیاکام ہو رہا ہے۔
س: آپ نے کراچی میں جو کھیل پیش کیا، اس کا نام’’بھائی بھائی‘‘ہے، جو انگریز مصنف’’سیم شیفرڈ‘‘ کے کھیل’’ٹروویسٹ‘‘سے ماخوذ شدہ ہے۔ اس سے ہی پاکستان میں اپنے تھیٹر کیرئیر کی ابتداکرنے کا کیوں سوچا؟
ج: پیشہ ورانہ طورپر تواس کی وجہ یہ ہے، اس کھیل کی کہانی اور مزاج، پاکستان میں پیش کیے جانے والے تھیٹر کے کھیلوں سے ذرا مختلف تھا، میں نے شعوری طور پر اس کہانی کا انتخاب کیا، لیکن یہ اتنابھی الگ نوعیت کا نہیں تھا کہ دیکھنے والا بیزار ہوجائے۔ میں نے اس کھیل کو اپنے بھائی علی طاہر کے ساتھ مل کر لکھا اور ہم دونوں نے ایک دوسرے کے مدمقابل اداکاری بھی کی ہے۔ اس کھیل میں دیگر دو فنکار عامر قریشی اور حنا دلپذیر بھی شامل ہیں، جنہوں نے اپنے کام سے خوب انصاف کیا۔ بہت عرصے سے میں اور میرا بھائی علی اس نکتے پر بات کر رہے تھے کہ ہمیں ایک ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔

کراچی میں پیش کیے گئے تھیٹر کے اس کھیل کا پوسٹر ، جس کی خاطر فاران طاہر امریکا سے تشریف لائے
ہمیں دو چار مرتبہ ایسے مواقع بھی ملے، جس میں ساتھ کام کیا، لیکن اس میں بھی ایک دوسرے کے مدمقابل اداکاری نہ کرسکے، اگر میں اداکاری کر رہا ہوتا تو وہ ہدایت کاری کر رہا ہوتا تھا لیکن ایک ساتھ مل کراداکاری کرنے کی خواہش پوری نہیں ہو رہی تھی، پھر اب جاکے اس کھیل کے ذریعے وہ خواہش پوری ہوسکی۔ اس کھیل کو علی طاہر نے پروڈیوس کیا،میں نے اس کی ہدایت کاری کے فرائض انجام دیئے جبکہ دونوں نے ساتھ مل کر لکھا اور اس میں کام کیا، اس لیے یہ بھرپور بھائی چارے کی عکاسی کرتا ہوا کھیل ہے، جس کو ہم نے کراچی کے ناظرین کے لیے پیش کیا، اس سے زیادہ بھائی چارے کا کیا ثبوت دیا جاسکتا ہے۔ (مسکراتے ہوئے)

تھیٹر کے ناٹک ”بھائی بھائی“ میں اپنے اداکار بھائی کے سنگ
س: لیکن اس کھیل’’بھائی بھائی ‘‘کی کہانی ہی کیوں آپ کو پسند آئی ؟
ج: یہ کھیل چونکہ دوبھائیوں کے بارے میں تھا، جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا، ہم دونوں بھائی ایک ساتھ کام کرنا چاہتے تھے، لہٰذا یہ کھیل اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے بہترین تھا، پھر یہ بہت کم ہوتا ہے کہ دو بھائیوں پر کھیل ہو، اس میں کام بھی دو حقیقی بھائی ہی کریں، اس لحاظ سے یہ منفرد بات ہوگئی۔ پرفارمنگ آرٹس میں ایک دوسرے پر انحصار اور اعتبار بہت ضروری ہوتا ہے تاکہ اگرپرفارم کرتے ہوئے کہیں پھنس جائیں تو ایک دوسرے کو اتنا جانتے ہوں کہ کہانی میں بنا کسی پریشانی کے اس صورتحال سے باہر نکل سکیں، اب میں اپنے بھائی سے زیادہ کس کو یہ اعتماد اوراعتبار دے سکتا تھا، یہ ذاتی وجہ ہے، لیکن معاشرتی پہلو سے دیکھا جائے، تو کھیل بظاہر مزاحیہ ہے، لیکن اس میں بہت سنجیدہ پیغام پوشیدہ ہے۔ دو بھائی، جو ایک دوسرے سے مختلف مزاج کے ہیں، ایک بھائی امریکا میں رہتا ہے، دوسرا پاکستان میں قیام پذیر ہے، ایک سنجیدہ مزاج ہے ، تو دوسرا شوخ طبیعت اور چالاک بھی، پھر دونوں لکھنے کے کام سے منسلک ہوتے ہیں، اس صورتحال میں ڈرامائی موڑ آتے ہیں، جس سے کہانی آگے بڑھ کر اپنے انجام کو پہنچتی ہے۔
اس کھیل کا ایک مقصد یہ بھی تھا، پاکستان میں تھیٹر کے فروغ کے لیے عملی کوششیں کی جائیں۔ میں چاہتا ہوں، ہمارے اس تھیٹرکے کھیل پر بات کی جائے، آپ اس کو پسند کریں یا ناپسند، لیکن اس کے متعلق بات ضرور کریں۔ اس کھیل میں ہم نے پاکستان میں انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کی موجودہ صورتحال کو بھی موضوع بحث بنایا ہے، پھر آپ نے دیکھا ہوگا، اس کھیل میں کردار انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں بات کرتے ہیں، ہمارا مقصد تھااردو زبان کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی جائے۔ اردو زبان کو فروغ دینا بھی ہماری ترجیح ہے، کیونکہ یہ ہماری قومی زبان ہے اور آہستہ آہستہ اس میں دیگر زبانوں بشمول انگریزی آمیزش ہو رہی ہے، جس سے اس کا حسن خراب ہو رہا ہے اور نئی نسل بھی اس سے ناآشنا ہوتی جا رہی ہے۔ اس کھیل کا سب سے بڑا مقصد یہی تھا، ان موضوعات پر بھی دیکھنے والے ضرور سوچیں، جن کا تعلق براہ راست ہماری زندگی سے ہے۔
س: آپ تقریباً گزشتہ چالیس برسوں سے امریکا میں رہ رہے ہیں، انگریزی تھیٹر، ٹیلی وژن اور سینما میں کام کر رہے ہیں اور آپ یہ بات کر رہے ہیں، ذرا حیرت ہو رہی ہے اس بات کو سن کر، کیونکہ پاکستان میں تو سب سے زیادہ پیسے اس بات پر خرچ ہو رہے ہیں کہ ہم انگریزی بولنے والے بن سکیں؟
ج: اردو زبان ہم سب کی گھٹی میں ہے اس کو نکالا نہیں جاسکتا، چاہے آپ دنیا میں کہیں بھی چلے جائیں، لیکن میں نہیں جانتا، وہ کون لوگ ہیں، جو ایسا کرنے کی خواہش رکھتے ہیں، کیونکہ یہ توہماری قومی زبان ہے، اس سے کیسے کنارہ کشی ممکن ہے۔ یہ صرف زبان ہی نہیں تہذیب سے لگاؤ کی بات بھی ہے۔ اب میں نے ایک دن کراچی آرٹس کونسل میں اپناکھیل ختم کرنے کے بعد ایک ہوٹل پر جا کر نہاری کھائی۔ زبان، غذا، رسم و رواج یہ سب ہماری تہذیب ہے، اس کو بھول جانا ایسے ہی ہے، جس طرح کوئی اپنے والدین کو بھول جائے۔ میں ان خیالات کو اپنے اندر زندہ نہیں رکھوں گا ، تو میرے اندر کا انسان مردہ ہوجائے گا۔ امریکا میں گزاری ہوئی میری زندگی بھی اہم ہے، وہاں اور یہاں میں بہت فرق ہے، لیکن ان دونوں جہتوں نے مل کر میری شخصیت کو بنایا ہے، دونوں کے مثبت نکتے میری سوچ کی اساس ہیں اور ان کو یکساں اہمیت دیتا ہوں۔

آرٹس کونسل آف پاکستان، کراچی میں کھیل کے اختتام پر فنکاروں اور مہمانوں کے ہمراہ
س: میں نے بھی یہ کھیل دیکھا ہے اور دیگر صحافی دوستوں نے بھی، ان کا خیال یہ ہے، آپ اور دیگر اداکاروں نے کھیل میں اچھی اداکاری کی، لیکن اس کھیل کی کہانی کمزور ہے، اس میں پاکستانی ناظرین کے لیے ذومعنی جملے اورصورتحال کا استعمال بھرپور طور سے نہیں کیا گیا، پھر کہانی بھی طویل محسوس ہوئی، اس کھیل میں کہی گئی کچھ باتیں بھی ہمارے معاشرے سے غیر متعلقہ تھیں، اس فیڈ بیک پر آپ کی کیا رائے ہے؟
ج: جن تمام پہلوئوں کی طرف آپ کا اشارہ ہے، وہ کسی حد تک درست ہے، کیونکہ میں نے جان بوجھ کر اس کھیل کو پاکستان میں ہونے والے روایتی کھیلوں کی طرح نہیں بنایا، ہمیں اپنے دیکھنے والوں کا ذائقہ بدلنا ہے۔ ہر روز اگر آپ لڈو کھائیں گے تو آپ کا ذائقہ صرف لڈو ہی بن کر رہ جائے گا، کسی اور ذائقے سے لطف اٹھانے کی صلاحیت سے محروم رہیں گے، یہ چیلنج صرف ہمارے لیے نہیں بلکہ ناظرین کے لیے بھی ہے کہ وہ ان روایتی حربوں سے باہر آئیں، جن کے ذریعے ان کو کھیل دکھایا جاتا ہے۔ انور مقصود ہوں یا چاہے دیگر لوگ، جو پاکستان میں تھیٹر کر رہے ہیں، میں سب کا کام پسند کرتا ہوں، ان سب کی کوششیں قابل تعریف ہیں، لیکن میرا راستہ مختلف ہے، اس پر جانا مشکل لگتا ہے، لیکن ناممکن نہیں ہے۔
میں ہمیشہ ایک مثال دیا کرتا ہوں، نیچے سے جب آپ کسی پہاڑی کو دیکھیں، تو لگتا ہے، اس کی چوٹی ایک نوک ہے، جس پر شاید ایک فرد ہی کھڑا ہوسکتا ہے، لیکن جب اوپر پہنچیں تو پتہ چلتاہے، کافی جگہ ہے، اس پر کئی لوگ ایک ساتھ کھڑے ہوسکتے ہیں۔ تو میرے کہنے کا مطلب یہ ہے، تھیٹر کے شعبے میں یہ خواہش میں اکیلا نہیں رکھتا کہ تھیٹر کو فروغ حاصل ہوبلکہ یہ کام ہم سب مل کریں گے، اس چوٹی پر ایک ساتھ کھڑے ہوکر، تھیٹر کو اس کی بلندی تک پہنچائیںگے۔ مغربی تھیٹر اسی لیے کامیاب ہے، وہاں ہر رنگ میں کام ہو رہا ہے، سائنس فکشن ہو چاہے کامیڈی یا پھر چاہے رومانوی اور ٹریجڈی موضوعات ہوں، سب پر کام ہو رہا ہے، ہمیں بھی سب کو اپنے اپنے رنگ میں لیکن مسلسل کام کرنا ہوگا تب ہی تھیٹر ایک صنعت کی شکل اختیار کر سکے گا۔

امریکا میں ایک اور انگریزی کھیل میں اپنی اداکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے
س: آپ کے خیالات اور خواہشیں قابل تعریف ہیں، لیکن جس شہرمیں بیٹھ کر آپ یہ بات کر رہے ہیں، وہاں پاکستان کی واحد تھیٹر کی سرکاری اکیڈمی’’ناپا‘‘ گزشتہ 14 سال سے تمام تر سرکاری وسائل اور تجربہ کار ٹیم کے باوجود کمرشل طور سے ناکام رہی ہے، دیگر تھیٹر کرنے والے بھی بہت زیادہ کامیاب نہیں ہوسکے، تو ایسے میں جب پرانے لڈو بھی لطف نہیں دے رہے، تو آپ نیاذائقہ دے سکیں گے، کیا یہ آسان ہدف ہے؟
ج: بالکل آسان ہدف نہیں ہے، لیکن اگر ہدف آسان تو پھر اس کو مرکزبنانے کا خواہش بنانے کا فائدہ کیا ہوگا۔ مجھے اگر صرف روزی روٹی کمانی ہے تو میں کما ہی رہا ہوں اور اس سے بہت بہتر کما سکتا ہوں، اگر لگی بندھی ہی کمائی کرنی ہے، میں یہ سب اس لیے نہیں کر رہا کہ مجھے اس سے منافع ہوگا بلکہ شاید اس میں گھاٹا ہی ہو، لیکن آپ جب بھی مختلف کام کرنے جاتے ہیں تو اس میں معاشی گھاٹے اور فائدے کا نہیں سوچتے، میں یہاں ایک بار کام کرکے غائب نہیں ہوجائوں گا، اب میں پاکستان میں تھیٹر کے فروغ کے لیے کوشش کرتا رہوں گا۔ مجھے اگر ایک بار ناکامی ہوئی تو میں دوبارہ کروں گا اور مسلسل کرتا رہوں گا کیونکہ میں نے ہمت ہارنا نہیں سیکھا، اس لیے ایسے تجربات کرنے اور ان کی ناکامیوں سے مجھے خوف نہیں آتا ہے۔
س: آپ نے ہالی وڈ میں بھی یہی سوچ کر قدم رکھا تھا اور ایسی ہی مشکلات کا سامنا وہاں بھی کرنا پڑا تھا؟
ج: اس سے بھی بدترین حالات تھے۔ میرے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ میں اپنا گھرلے سکتا، گاڑی میں سوتا تھا اور کھانے کو اتنا بھی میسر نہیں تھا کہ پیٹ بھر سکتا، کئی بار فاقہ کرتا تو کئی بار صرف کھانے کی جگہ دو اُبلے ہوئے انڈہ کھاتا تھا، میں قسم کھا کر یہ کہہ رہا ہوں، میں نے امریکا میں ایسے حالات سے اپنے کیرئیر کی ابتدا کی۔ کامیابیاں تو اپنی جگہ لیکن درحقیقت مجھے آگے بڑھانے میں میری ناکامیوں نے کلیدی کام کیا۔ میری ناکامیاں مجھے آگے لے جاتی ہیں، اس لیے میرا یہ کھیل پسند کر لیا گیا تو بہت اچھی بات ہوگی لیکن اگر ایسا نہ بھی ہوا تو کوئی بات نہیں، میں اس تجربے سے بھی سیکھوں گا۔ میرا ایک ٹیچر کہا کرتا تھا کہ’’اگر تم پیچھے کی طرف گرتے ہو تو تم دفاع کر رہے ہو، لیکن اگر تم آگے کی طرف گر رہے ہو تو تم تجسس کو تلاش رہے ہو۔‘‘ اس لیے ناکامی کا خوف میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، البتہ میری خواہش ہے کہ ناظرین کھلے دل اور دماغ سے میرے کھیل کو دیکھنے آئیں اور چاہے تنقید کریں، کیونکہ حقیقی تخلیق ہمیشہ اسی رویے سے جنم لیتی ہے۔
س: آپ سے مل کر مجھے خوشی سے زیادہ حیرت ہو رہی ہے، پاکستان میں اگر ہمارا کوئی فنکار بھارت یا ہالی ووڈ میں ایک سین بھی فلما کر آجائے تو اسٹار ڈم کے مارے اس کے پیر زمین پر نہیں ٹکتے، بلکہ ہمارے ملک میں ایک اداکار جنہوں نے مغربی تھیٹر اور سینما میں کچھ محدود کام کیا، ہالی وڈ کی ایک دو فلموں میں مختصر کردار نبھائے، لیکن آج تک ان کی گردن میں تکبر کا سریا پھنسا ہوا ہے، انہوں نے کل ملا کر ڈیڑھ دو فلموں میں کام کیا، لیکن ان سے کوئی ملاقات کرنا چاہے تو وہ صرف وقت دینے کے لیے ڈیڑھ دو ہفتے اوردو مہینے بھی لے سکتے ہیں، آپ نہ صرف ہالی وڈ، بلکہ ٹیلی وژن اور تھیٹر میں گزشتہ 25سال سے کام کررہے ہیں، مرکزی کرداروں کو نبھایا، ہاروڈ یونیورسٹی سے تھیٹر کی تعلیم بھی حاصل کی، آپ کا دماغ ابھی تک کیوں خراب نہیں ہوا؟
ج: میرے نزدیک، جس دن آپ یہ سوچ لیں کہ آپ کو اپنے فن پر عبور حاصل ہوگیا ہے، اُس دن آپ کی جدوجہد اور سیکھنے کے عمل کاخاتمہ ہوجاتا ہے۔ آج میں اگریہ سمجھ لوں، میں اس فیلڈ کا ماسٹر ہوں اور اسٹار ہوں تو اس کے بعد پھر میں کہاں جاؤں گا اور کیا سیکھوں گا۔ میں نے جب تھیٹر پڑھایا بھی، تو اپنے طالب علموں سے ہمیشہ یہی کہا کہ تم کبھی ماسٹر نہیں ہوسکتے، تمہیں اپنے شعبے میں ہمیشہ سیکھتے رہنا ہے، تب ہی تم آگے بڑھ سکو گے۔ میں آج تک سیکھ رہا ہوں، کراچی میں بھی اس تھیٹر کرنے کے تجربے سے میں نے یہاں بہت سارے لوگوں سے بہت کچھ سیکھا۔ میرا کام کسی کو پسند آجاتا ہے اور مجھے کوئی عزت دے دیتا ہے تو یہ اللہ کا کرم ہے، اس میں میرا کوئی کمال نہیں ہے۔

اپنی ایک فلم ”الیزیم“ میں ساتھی اداکاروں میٹ ڈیمن ، جوڈی فوسٹر ، شارلٹو کوپلی، ایلس براگا، ڈیاگو لونا اور دیگر کے ساتھ پریمئیر کے موقع پر موجود ہیں
لہٰذا جن لوگوں کے دماغ پر کچھ سوار ہو جائے کہ وہ بہت کچھ ہیں، ان کا رویہ مجھے یہ بتاتا ہے، وہ پھرشاید اس شعبے میں یوں نہیں آئے تھے، اپنے آپ کو بہتر کرسکیں بلکہ اس لیے آئے تھے کہ وہ شہرت حاصل کرسکیں تو پھر وہ صرف شہرت ہی حاصل کر پاتے ہیں۔ میرے لیے اس فیلڈ میں پیسہ اور شہرت بائی پروڈکٹ ہے نہ کہ پروڈکٹ، میرے لیے پروڈکٹ صرف اور صرف میرا کام اور مثبت رویہ ہے۔ مجھ سے پوچھا جاتا ہے، آپ کی بہترین فلم کون سی ہے یا کردار کون سا ہے تو میں یہی کہتا ہوں، سب کام میرے لیے اہم ہے، میں نے ہمیشہ کام کرتے ہوئے محنت اور ایمانداری کو اپنایا ہے۔ میرے لیے سب سے بہترین وہ آخری کردار ہے جو میں نے اب تک کیا ہے، اب جب بھی آگے کام کروں گا اور وہ جو آخری کردار نبھائوں گا وہی میرا پسندیدہ ہوگا۔ اس سے پہلے کوئی اور تھا اور آج اس موجودہ لمحہ میں بھائی بھائی والا کردار ہے، کیونکہ میں اپنے کرداروں کے ساتھ انصاف نہیں کروں گا تو یہ خود سے بے ایمانی ہوگی۔

فاران طاہر کی 2013 میں ریلیز ہونے والی مشہور ترین فلم ”اسکیپ پلان ون“ کاایک منظر ، جس میں وہ معروف امریکی اداکاروں سلورسز اسٹائلون اور آرنلڈ شوازنیگر کے ساتھ محو ہیں
س: آپ نے امریکا میں ہارورڈ یونیورسٹی سے تھیٹر کی تعلیم حاصل کی، اس کے بعد کیسے طے کیا، تھیٹر کی کس قسم کے ساتھ اس کیرئیر کو آگے بڑھانا ہے، روایتی تھیٹر کی طرف جانا ہے یا کلاسیکی تھیٹر میں شامل ہونا ہے، جیسا کہ آپ نے رائل اکیڈمی آف شیکسپیئر تھیٹر میںبھی کام کیا، آپ واحد جنوب ایشیائی اداکار ہیں، جنہوں نے اس تھیٹر کمپنی کے ساتھ مرکزی کردار ’’اوتھیلو‘‘ میں بطور ’’اوتھیلو‘‘ کام کیا اور بہت ساری کامیابیاں بھی سمیٹیں۔ یہ سب کیسے طے کیا؟
ج: اچھا سوال ہے، مجھے واقعی اس موقع پر بیٹھ کر سوچناپڑا تھا کہ میں اپنے کیرئیر کو کس سمت میںا ٓگے بڑھائوں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی، جب میں نے وہاں کام شروع کیا تو تھیٹر کے شعبے میں کوئی ایسا اداکار موجود نہیں تھا، جس کو دیکھ کر میں اندازہ کرسکتا کہ اگرکوئی پاکستان انڈیا اور ایشیا سے آئے تو وہاں کس طرح اپنے کیرئیر کو آگے بڑھائے، لہٰذا میں نے باقاعدہ سوچا کہ کیسے آگے بڑھوں، کیونکہ وہاں کھیلوں میں شمولیت کے لیے دیکھا جاتا تھا، آپ کون سے خطے سے آئے ہیں اور آپ کی جلد کی رنگت کیا ہے، اس مناسبت سے کردار آسانی سے مل جاتے تھے، مگر میرے لیے وہ کردار بھی ناپید تھے۔
پھر میں نے کلاسیکی تھیٹر اور بالخصوص شیکسپیئر تھیٹر سے منسلک ہونے کا سوچا کیونکہ شیکسپیئروہ مصنف ہے، جس کے کھیل آج بھی بناکسی رنگ ونسل کے کھیلے جاتے ہیں، جو اچھا پرفارم کرسکتا ہے، وہ ان کھیلوں کا حصہ بنتا ہے۔ آپ کی صلاحیتیں دیکھی جاتی ہیں، کیا آپ شیکسپیئر کے کھیلوں کی زبان کو اپنا سکتے ہیں؟ میں نے سمجھا کہ میں یہ کام کرسکتا ہوں، یہ بہت کٹھن انتخاب تھا لیکن میں نے اس راستے پر جانے کی ٹھانی اور کامیاب رہا۔ شیکسپیئر، یونانی المیہ، چیخوف، ابسن کے کھیلوں میںاُس وقت وہاں رنگت کی بجائے صلاحیت کو دیکھا جاتا تھا، میں نے اپنی صلاحیتیں پیش کیں اور کامیابی مل گئی، اگر میں ناکام بھی ہوتا تو کوئی بات نہیں تھی، میں اس ناکامی سے بھی سیکھتا، جس طرح میں کامیابی سے بھی سیکھا ہے۔ میں نے اپنی بنیاد بنائی اور اس سے کیرئیر آگے بڑھا، اب میں تھیٹر کے شعبے میں ہر نوعیت کا کام کرتا ہوں۔
س: امریکی ٹیلی وژن پر کیے ہوئے ڈرامے ، امریکی شوبز کیرئیر میں آپ کا سب سے نمایاں کام ہے، اس شعبے میں آپ نے سب سے زیادہ کام کیا۔ 1989 میں آپ نے اپنے پہلے ڈرامے’’مڈ نائٹ کالر‘‘ سے ٹیلی وژن کے کیرئیر کا آغاز کیا، اس بارے میں کچھ بتائیے؟
ج: دیکھیں، مجھے کچھ لوگ پوچھتے ہیں، آپ کو فلم کے میڈیم میں کام کرکے زیادہ لطف آتاہے یا پھر ٹیلی وژن میں؟ تو میں ان کو یہی جواب دیتا ہوں، ہم فنکار بنیادی طور پر کہانی کار ہوتے ہیں، ہمارا کام کہانی سنانا ہے، چاہے میڈیم کوئی بھی ہو، البتہ کہانی کے لحاظ سے میڈیم کا انتخاب ہوتا ہے، جس طرح میری فلم ’’اسٹار ٹریک‘‘ ہے، اس کو اگر اسٹیج پر پیش کریں تو شاید وہ مضحکہ خیز کہانی بن جائے گی، تو ہر میڈیم کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں، جن کے مطابق کام کرنا پڑتا ہے۔ چند ایک وجوہات ہیں، جن کی وجہ سے امریکا میں ٹیلی وژن میڈیم بہت برق رفتار ہے، اس سے مراد یہ ہے، ہم اداکار دس دنوں میں ایک قسط کا کام ختم کرلیتے ہیں۔ فلم کا کام چھ سات اور اس سے بھی زیادہ مہینوں میں ختم ہوتا ہے۔ ٹیلی وژن کے کئی پلیٹ فارمز تخلیق ہوگئے ہیں، جن کی وجہ سے موضوعات میں مزید وسعت پیدا ہوگئی ہے، جس کی ایک مثال’’نیٹ فلیکس‘‘ ہے، اس طرح اور کئی پلیٹ فارمز ہیں، جن کے ذریعے ٹیلی وژن کے میڈیم کی شہرت اور ساکھ میں زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

فاران طاہر کی وہ امریکی فلم ، جو پاکستان میں ریلیز نہ ہوسکی
ناظرین کی تعداد میں بھی بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے۔ فلم کے میڈیم میں جو کہانی چھ سات مہینوں میں فلمائی جائے گی، ٹیلی وژن کے لیے وہ دس دنوں میں بن جائے گی۔ ٹیلی وژن نے ہمیں یہ سہولت فراہم کی ہے، ہم کم وقت میں زیادہ اور نت نئے موضوعات پر کام کرسکیں۔ میں نے ٹیلی وژن میں اس لیے بھی زیادہ کام کرلیا کیونکہ اس میں کم وقت میں زیادہ کام کرنے کا موقع ملا، اس میں بھی مشکلات ہوتی ہیں، جس طرح ایک جادوگر کے کردار کے لیے میرے میک اپ کو ہونے کے لیے نو گھنٹے درکار ہوتے تھے، لیکن اس کے باوجود میں ساتھ ساتھ دیگر ڈراموں میں بھی کام کر رہا ہوتا تھا۔ ایک ہفتے وہ کردار کرتا تھا تو دوسرے ہفتے کوئی دوسرا کردار ادا کرتا تھا، یہ میرے لیے چیلنج تھا لیکن مجھے اس میں لطف ملتا تھا۔
س: پاکستان میں اکثر سینئر اداکاروں سے ہم نے یہ سنا، کردار ہم پر حاوی ہوجاتے ہیں، کئی کئی دن ہمارے ساتھ رہتے ہیں تو پھر آپ کس طرح بیک وقت اتنے کردار نبھا لیتے ہیں؟ یہ معمہ حل کیجیے۔
ج: میرے خیال میں فن صرف یہ نہیں ہے، آپ نے ایک کردار ادا کیا اور آپ کسی کردار میں داخل ہوگئے تو وہ کمال ہوگیا، بلکہ جتنی تیزی سے آپ کسی کردار میں داخل ہوتے ہیں، اتنی ہی تیزی سے اس کردار سے نکل آنے کی مہارت بھی ہونی چاہیے، لیکن اس کے لیے آپ کو اپنے کام میں بہت گہرائی سے شامل ہونا پڑتا ہے، تب آپ یہ کرسکتے ہیں۔ وہ کردار جس کو آپ نبھا رہے ہیں، اس میں اتنی گرہیں لگادیں، جب کرنے کے بعد واپس آنا چاہیں تو ایک ایک کرکے وہ گرہ کھولتے جائیں اور اس سے باہر آجائیں، اتنا مشاہدہ، ریاضت اور بے پناہ توجہ دینا ہوگی۔
س: امریکا میں ٹیلی وژن ناظرین کی تعداد زیادہ ہے،ان کی پسند ناپسند کا معیار بھی خاصابلند ہے تو کیرئیر کو آگے بڑھایا؟
ج: میری تربیت چونکہ تھیٹر کی رہی ہے، وہ بھی کلاسیکی تھیٹر کی، تو ایسے اداکار جن کی تربیت تھیٹر کی ہوتی ہے، وہ زیادہ بہتر کام کرلیتے ہیں، بہ نسبت دیگر شعبوں میں اداکاری کرنے والوں سے، کیونکہ ان کی بنیاد بہت مضبوط ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے، تھیٹر کا کینوس بہت بڑا ہے، بہت سارے کام ایک ساتھ کرنے کی مہارت اور کہانی پر گرفت رکھنے کی مشق ہوتی ہے۔ تاثرات اور کیفیات کو سنبھالنا بھی آجاتا ہے، جس کو شیکسپیئر’’میتھڈ ٹو مائی میڈنیس‘‘ کہتا ہے، جس کے مطابق کسی ایک چیز کو بنیاد بنانا ہوتا ہے، جو میں نے ٹیلی وژن میں سائنس فکشن کو بنایا، وہ میری ٹیلی وژن کیرئیر کی بنیاد ہے، اس کے ذریعے میں نے اس میڈیم میں اپنا کیرئیر آگے بڑھایا، یہ کوشش کی، کرداروں کی یکسانیت سے بچ سکوں، نت نئے اور منفرد کرداروں میں دکھائی دوں۔

شریک حیات اور شریک اداکاری کے سنگ
س: ہالی ووڈ اور امریکی شوبز کی صنعت میں انڈین لابی بہت اثر و رسوخ رکھتی ہے، اس ماحول میں آپ کا بطور پاکستانی اداکار پھر نائن الیون کے ہولناک حادثے کے بعد آپ کا پاکستانی اور مسلمان ہونا، وہاں امریکا میں کام کرنا، ان سارے معاملات کی موجودگی میں کیسے آگے بڑھے ؟
ج: بالکل انڈین لابی وہاں بہت اثر رکھتی ہے اور اس منظر نامے میں کام تو کیا، کچھ ایسے کردار بھی نبھائے جو منفی نوعیت کے تھے، لیکن میں اس صورتحال کو پورے پس منظر کے ساتھ دیکھتا ہوں، اس کی ایک مثال دیتا ہوں، جس طرح مجھے ہالی وڈکی فلم’’آئرن مین ون‘‘ میں کام کرنے کی پیشکش ہوئی اور اس کا جب اسکرپٹ پڑھا، تو انہوں نے غیر شعوری طور پر اس فلم میں کچھ ایسی چیزیں شامل کی تھیں، جو ہمارے لحاظ سے غلط تھیں، لیکن وہ چونکہ ہمارے بارے میں زیادہ نہیں جانتے تھے، اس لیے جو کچھ انہیں شاید انٹرنیٹ کے ذریعے ملا، وہ انہوں نے اس فلم میں شامل کرنے کا سوچا۔
میرا فرض تھا، میں وہاں ان کو بتاتا، چاہے وہ بات ابھی نہ مانتے یا بعد میں ہی سوچتے ، مگر ان کی اصلاح ہوجاتی کیونکہ یہ سوچ ایسی ہی ہے جیسے کہ جھڑپ اور جنگ میں فرق ہوتا ہے، وقتی طور پر کوئی بات یا اختلاف جھڑپ کی صورت ہوسکتی ہے مگر دیرپا اس کا اثر ایک جنگ کے نقصانات یا فوائد کی طرح ہی ہوگا، اس لیے میں نے فرض سمجھا کہ اس اسکرپٹ میں، جہاں کچھ عربی زبان میں آیات وغیرہ کو انہوں نے ولن کے پس منظر میں دکھانے کی تجویز دی تھی، انہیں اصلاح دوں کہ ایک سپر ہیرو فلم کو مذہبی رنگ میں رنگنے کی کیا ضرورت ہے اور ولن کا تعلق تو کسی بھی مذہب یا رنگ و نسل سے ہوسکتا ہے، ہاں اگر کوئی اصل واقعہ ہوتا ، تو پھر شاید اس کو اسی انداز میں شامل کیا جاسکتا تھا، جس طرح وہ وقوع پذیر ہوا، لیکن یہاں تو ایسا نہیں تھا۔
اس لیے جب انہیں تجویز دی تو انہوں نے میری بات مان کر وہ سینز فلم میں تبدیل کردیے۔ اپنی بات یا موقف بہت محتاط انداز میں بتانا پڑتا ہے، جب ایسا ماحول ہو مگر آپ کا انداز اچھا تو آپ کی بات سنی اور سمجھی جاتی ہے، اس لیے امریکیوں کو بھی گزرتے وقت کے ساتھ اندازہ ہوگیا کہ اصل حقیقت کیا ہے۔ اس کردار پر کافی بحث کرنے کے بعد میرے اس کردار اوراس کے پس منظر میں تبدیلیاں کی گئیں اور انہوں نے میری بات مان لی اور اس کو صرف ایک سپرہیرو کے کردار تک محدود کردیا گیا، جس پر کسی طرح کی مذہبی چھاپ نہیں تھی۔
نائن الیون کے تناظر میں بھی میں نے اسی طرح بات کی، چند لوگوں پر مبنی گروہ تھا، جس نے یہ فعل کیا، لیکن سارے مسلمان اس سوچ کے حامل نہیں ہیں، اس بات کو انہوں نے اب کافی حد تک تسلیم کرلیا ہے کیونکہ یہ غلط فہمیاں اس لیے پیدا ہوئیں کیونکہ وہ ہمارے ثقافتی اور تہذیبی پہلو سے واقف نہیں تھے، تو کہنے کا مقصد یہ ہے ہمیں یہ بے خبری کی دیواریں گرانی چاہیے، ایک دوسرے کے بارے میں جاننا چاہیے، امریکی معاشرے میں بھی عام لوگ بہت صاف دل کے ہیں، میں امریکا میں مسلمانوں کے لیے اور پاکستان میں امریکیوں کے اچھے پہلوؤں پر میں ہمیشہ بات کرتا رہا اور کرتا رہوں گا کیونکہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتی ہیں۔
س: آپ نے ہالی ووڈ میں اپنے کیرئیر کی ابتدا 1994 میں بننے والی فلم’’جنگل بک‘‘ سے کی۔ اس کے بعد سے اب تک آپ بے شمار کرداروں میں اپنے فن کا لوہا منوا چکے ہیں، گزشتہ تین دہائیوں سے فلموں میں کام کر رہے ہیں، ان میں کیا تجربات رہے، مثال کے طور پر آپ کی ایک فلم’’اسکیپ پلان ون‘‘ تھی، جس میں آپ نے ہالی وڈ کے عالمی شہرت یافتہ اداکاروں’’آرنلڈ شوازنیگر‘‘ اور’’سلورس اسٹائلون‘‘ کے ساتھ کام کیا، تو وہ دونوں کتنے اچھے اداکار ہیں، یہ توہمیں بھی پتہ ہے، لیکن وہ بطور انسان اور ساتھی فنکار کیسے ثابت ہوئے؟ ہم یہ جاننا چاہیں گے۔
ج: انسان بھی اچھے ہیں اور کام کے جنونی ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں، وہ دونوں ایکشن فلموں کے آئی کونز ہیں۔ وہ جب فلم کے سیٹ پر آتے ہیں، تو اپنی شہرت اسٹوڈیو سے باہر ہی چھوڑ کر آتے ہیں، ان کی توجہ صرف اور صرف اپنے کام پر ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر اسی فلم میں ہمارا ایک سین تھا، جس میں ہم نے سات آٹھ منزلہ ایک سیڑھی تھی، جس سے چڑھ کر فرار ہونا تھا۔ اُس وقت جب یہ فلم عکس بند کی جا رہی تھی، ان دونوں کی عمر تقریباً 72 سال تھی، وہ ایک مشکل سین تھا اور ہمیں معلوم تھا کہ اس سین کو کم ازکم تیس مرتبہ تو دھرایا جائے گا، کیونکہ کیمرے تبدیل ہوتے ہیں، منظر کو مختلف پہلوئوں سے عکس بند کرنا ہوتا ہے، اس لیے اتنی اچھی صحت ہونے کے باوجود وہ ودونوں اداکار تب عمررسیدہ ہی تھے، لہٰذا جب وہ سین شروع ہوا اور تین چار مرتبہ عکس بند کرلیا گیا، تو اس کے بعدان کے گھٹنوں میں درد ہونے لگا، انہوں نے اپنے ڈاکٹرز کو بلوایا، انجکشن لگوائے اور اپناکام مکمل کروایا، اُف تک نہ کی۔
وہ سین 35 بار وہ سین عکس بند کیا گیا، ان سے جب جب کہا گیا کہ سین اور کرنا ہے تو انہوں نے خوشدلی سے وہ کام کروایا۔ اسی طرح ہمارا ایک اور سین تھا، جس میں ہمیں ڈربوں میں بند کر دیا جاتا ہے، وہاں یخ پانی تھا، تین دن تک اس سین کی شوٹنگ جاری رہی، روز بارہ گھنٹے کبھی پندرہ گھنٹے ہم اس پانی میں بیٹھے، مجال ہے کسی نے کوئی معمولی نخرہ بھی کیا ہو، وہ اپنے کام سے اتنی محبت کرتے ہیں۔ میری ان سے ذاتی طور پر بھی ملاقاتیں رہیں، لیکن ظاہر بات ہے زیادہ ملاقات کام کے دوران ہی ہوئی اور انہیں رویے کے اعتبار سے بہت بااخلاق پایا۔ اس لیے اگر اب دونوں کی عالمی شہرت ہوئی ہے تو یہ ایسے ہی کوئی حادثاتی نہیں ہے، اس کے پیچھے ان کی انتھک محنت شامل ہے۔ اسی طرح جب میں اپنے کام کی طرف دیکھتاہوں تو میں بھی سمجھتا ہوں، میرا کام ہے کام کرنا، اب کوئی اس کو ڈھونڈ لے تو بڑی اچھی بات ہے، مجھ سے جب تک پوچھا نہ جائے، میں اپنے کام کے بارے میں زیادہ بات نہیں کرتا، اب آپ نے تفصیل سے پوچھا تو میں بات کر رہا ہوں۔
س: ہالی وڈ اور امریکی شوبز کے دیگر حلقوں میں، آپ کی دوستی کن لوگوں سے زیادہ ہے؟
ج: میں اس معاملے میں خاصا محتاط ہوں، پیشہ ورانہ طور پر تو سب سے ملتا جلتا ہوں، لیکن ذاتی حیثیت میں بہت کم لوگوں سے دوستی کرتا ہوں اور جن سے دوستی ہوتی ہے، ان میں یہ دیکھتاہوں کہ وہ کتنے مخلص ہیں۔ ویسے بھی ہمارا کام بہت عجیب کام ہے، اب جیسے ہم اس کھیل میں کافی سارے لوگ مل کر کام کر رہے ہیں، ایک خاندان کی طرح کام کرتے ہیں، لیکن کام ختم کرنے کے بعدکسی اور کام کی طرف چلے جاتے ہیں، وہاں کوئی اور خاندان بنتا ہے، پھر شاید ان لوگوں سے کبھی بہت دیر میں بعد ہو، ہماری صنعت میں ہر روز کا تعلق ہونا لازمی نہیں ہوتا، جب کبھی دوبارہ ملیں گے تو اسی اپنائیت کے ساتھ کام کریں گے، دوستی مضبوط ہوتی ہے کیونکہ ہم ایک دوسرے کو جانتے ہیں، ایک دوسرے کے کام کی نوعیت بھی سمجھتے ہیں۔ مجھ میں گلیمر نہیں ہے، پارٹیز میں جانے سے گھبراہٹ ہوتی ہے، ایوارڈز وغیرہ کی تقریبات میں بہت مشکل سے شرکت کرتا ہوں۔ میرے چند بہترین دوستوں میں دو تو میرے بھائی علی طاہر اور مہران طاہرہیں، اتنے سال سے امریکا میں ہونے کے باوجود ان سے میں ہر روز بات کرتا ہوں۔

اہل خانہ کے ہمراہ
یہی میرے اصل دوست ہیں، کئی بار تو بچے آپ کو وہ بات سکھا دیتے ہیں، جو کوئی دوسرا نہیں سکھا سکتا، جس طرح میں اکثر اپنے بیٹے کی کہی ہوئی ایک بات بتاتا ہوں، اس کا فلم’’آئرن مین ون‘‘ میں ایک سین تھا، تو جب ہم شوٹنگ کے لیے جا رہے تھے تو اس کا نام جاوان ہے، میں نے اس سے کہا۔’’تم نے اپنے دوستوں کو بتایا کہ تم سپر ہیرو فلم میں کام کر رہے ہو؟‘‘ اس وقت وہ آٹھ سال کا تھا۔ میں نے کہا۔’’تجھے بتانا چاہیے تھا، تمہارے دوستوں کو بھی خوشی ہوتی۔‘‘ تو وہ بولا۔’’پھر مجھے یہ معلوم نہ ہو سکے گا کہ میرا اصل دوست کون ہے۔‘‘ میں یہ بات سن کر حیران ہوگیا، اس عمر میں اسے یہ احساس ہے کہ اصل دوست کون ہوتا ہے۔ لوگوں سے تعلقات بہت ہوتے ہیں، لیکن اصل جانچ پڑتال کے بعد جو چند ایک دوست رہ جاتے ہیں، وہی اصل دوست ہوتے ہیں اور اتنے ہی ہونے چاہییں۔
س: پھر بھی چند ایک نام، جن سے آپ کی بہت زیادہ دوستی ہے، ان کے نام بتائیے، ہمارے قارئین جاننا چاہیں گے؟
ج: اگر میں ہالی ووڈ میں اپنے چند قریبی دوستوں کے نام یہاں بتائوں تو ان میں آئرن مین کے ہیر”رابرٹ ڈائونی جونیئر“سے میری زیادہ دوستی ہے۔ اسی طرح میرے دوستوں میں”جیف بریجز“ اور دیگر ہیں، ٹیلی وژن کے شعبے سے ”کولن آرتھر اوڈونوگھیو“ہیں، انڈین اداکاروں میں میری اوم پوری سے بہت دوستی تھی۔
س: امریکی لوگ پاکستانی اور انڈین شناخت کا فرق جانتے ہیں، بالخصوص شوبز کی صنعت میں؟
ج: فرق سمجھتے نہیں ہیں، لیکن انہیں سمجھایا جائے تو سمجھ لیتے ہیں۔ میں ان سے کہتا ہوں، ہم ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں، لیکن ایک جیسے نہیں ہیں۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ پاکستانی نژاد یا پاکستان اداکاروں کی تعداد بہت کم ہے، اس حوالے سے انڈینز بہت زیادہ ہیں،وہ اپنے لوگوں کو معاونت بھی فراہم کرتے ہیں۔

پاکستانی فلم ساز شرمین عبید چنائے کے ساتھ
س: آپ کا تعلق چونکہ براہ راست ہالی وڈ سے ہے، آسکر ایوارڈز کی شفافیت کے حوالے سے بتائیے، کیا طریقہ کار ہے اور پاکستان میں شرمین عبید چنائے کو دستاویزی فلمیں بنانے پر دو ایوارڈز ملے، جس پر تنقید زیادہ ہوئی،آپ کا کیا موقف ہے؟
ج: پہلی بات تو میں شرمین کے حوالے سے کروں گا، میں سخت نا امید ہوا، جب شرمین پر پاکستان میں تنقید ہوئی، کیونکہ ہم لوگ اپنی خامیوں کو ہر وقت چھپا کر نہیں رکھ سکتے، شرمین نے اگر پاکستان میں تیزاب پھینکنے والوں پر دستاویزی فلم بنائی، تو یہ حقیقت تھی، اس نے کیا جھوٹ بولا۔ ہمیں اپنی خامیاں تسلیم کرنا پڑیں گی اور ان کے خاتمے کے لیے کام کرنا پڑے گا، پھر شرمین اگر کوئی کام ایسا کر رہی ہے، آپ کو لگتا ہے کہ ویسانہیں بلکہ کچھ اور ہونا چاہیے تو آپ کام کیجیے، صرف اکیلی شرمین ہی کیوں، میری نظر میں یہ غلط بات ہے۔
اب جو یہ سمجھاجاتا ہے، شرمین کو پاکستان کی ایک کریہہ حقیقت دکھانے پر آسکر ایوارڈ ملا تو یہ بھی غلط طرز فکر ہے، آسکر ایوارڈز کا طریقہ کار بالکل مختلف ہے۔ یہ ایوارڈ ز کسی ایک دو لوگوں کی مرضی پر نہیں دیے جاتے، بلکہ اس کے طریقہ کار میں 700 لوگ شامل ہوتے ہیں، جن سے گزر کر ایوارڈ کا فیصلہ ہوتا ہے۔ یہ ایک آدمی بیٹھ کر نہیں بناتا، اس میں مختلف رنگ و نسل اور زبانوں کے لوگ بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہ ایوارڈز کسی ایجنڈے کے تحت نہیں دیے جاسکتے، البتہ اگر آپ کی چیز نامزد ہو جائے تو پھر آپ تشہیری مہم چلائیں، تاکہ آپ کویہ ایوارڈ مل سکے، لیکن اس سارے مرحلے سے گزر کرایوارڈز دیے جانے کا فیصلہ ہوتا ہے۔
س: شرمین عبید چنائے کے آسکرایوارڈ دیے جانے پر میرا بھی اعتراض ہے کیونکہ دوسری طرف کینیڈا میں موجود ایک فلم ساز’’ڈرون‘‘ فلم بنا دیتا ہے، جس میں پاکستان میں ڈرون حملوں میں بے گناہ مرنے والوں کی کہانی ہے، تو کیا تیزاب سے جلنے والے چہروں کے سامنے، ڈرون حملوں میں مرنے والوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے، یہ بھی تو زمینی حقیقت ہے اس معاشرے کی، اس پر کیا کہیں گے؟
ج: یہ بات ٹھیک ہے، لیکن میں یہ کہتاہوں، اگر آپ کو یہ لگتا ہے، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے، یہ کہانی اگر آپ کے پاس ہے تو آپ کی ذمے داری بنتی ہے کہ اس پر آپ فلم بنائیں۔ دوسرے نے وہ فلم اس لیے نہیں بنائی کہ میں وہ دکھاؤں گا، بلکہ اس لیے بنائی کہ میں یہ دکھا سکتا ہوں یا دکھا سکتی ہوں۔ ہم پاکستانی اکثر یہ بھی کہتے ہیں کہ ہالی ووڈ ایک خاص ذہنیت رکھنے والے یا اسلام مخالف طبقے کے قابو میں ہے، تو بھائی بات یہ ہے کہ اتنا ہی پیسہ مسلمانوں کے پاس بھی ہے، وہ کیوں نہیں بناتے، ہم دوسروں پر ذمے داری ڈالنے کی کوشش کیوں کرتے ہیں کہ ہمارے موقف پر بھی وہ فلمیں بنائیں۔
س: لیکن ہالی وڈ پروپیگنڈہ سینما بھی تو تخلیق کر رہا ہے، یہ بات آپ مانتے ہیں؟ امریکی جنگ جس خطے میں پہنچتی ہے، اس جنگ اور خطے پر فلمیں بننا شروع ہو جاتی ہیں، جو اپنا موقف ہالی وڈ کے ذریعے فلم بینوں کے دماغ میں انڈیلتے ہیں، جس طرح اب افغانستان اور عراق ان کا موضوع ہیں، کبھی ویت نام ان کا موضوع ہوا کرتا تھا۔ اس حوالے سے کیا کہیں گے؟
ج: دیکھیں اگر ہم یہی بات کر رہے ہیں تو ہالی وڈ ایک امریکی فلمی صنعت ہے، یہ آپ جانتے ہیں۔ وہ تو وہی کریں گے، ان کے ملک کے لیے جو بہتر ہے۔ ہم بھی تو یہاں بیٹھ کر امریکیوں کے بارے میں فلمیں نہیں بنا رہے، ہم بھی وہی کریں گے جو پاکستانیوں کے لیے بہتر ہے۔ یہ ذمے داری امریکا یا ہالی وڈ پر عائد نہیں ہوتی، انہیں اپنا بزنس بھی دیکھنا ہوتا ہے۔ وہ اپنے ناظرین کے لیے فلمیں بناتے ہیں۔ اب آسکر ایوارڈز کی ذمے داری نہیں ہے کہ وہ غیرملکی فلم کو بھی ایوارڈ دے مگر وہ دیتے ہیں، میں مانتا ہوں، ہالی وڈ کا کچھ سینما پروپیگنڈہ سے متعلق بھی ہے لیکن وہ ہمارے بارے میں کیوں فلمیں بنائیں گے، یہ کام ہمیں سوچنا، کرنا اور دیکھنا ہوگا۔
س: پاکستانی اور انڈین فلمی صنعت میں مستقبل میں کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ ہالی ووڈ میں تو آپ کا کام تو بھرپور انداز میں چل ہی رہا ہے۔
ج: جی ہاں، کچھ بات چیت ہو رہی ہے، دیکھتے ہیں۔ میری چارپانچ درخواستیں ہوتی ہیں، اگر قبول کرلی جائیں تو پھر میں کام کرسکتا ہوں۔ میں ضرور چاہوں گا کہ میں اپنے تجربات پاکستانی فلمی صنعت کے ساتھ بھی شیئر کروں، اگر یہاں کے فلم ساز چاہیں گے۔
س: موجودہ پاکستانی سینما دیکھا، کیا رائے ہے؟
ج: جی، میں نے فلم ’’خدا کے لیے‘‘ دیکھی، جس میں میرے والد نے بھی کام کیا ہے۔ اس کے علاوہ’’شاہ‘‘ اور’’مور‘‘ دیکھیں۔ یہ ذرا مختلف فلمیں ہیں، پاکستانی فلمی صنعت کو اپنی انفرادیت قائم کرنی چاہیے، وہ دھیرے دھیرے ہو رہی ہے۔ ہمیں اپنے ہمسائے ملک سے متاثر ہوئے بغیر اپنے انداز میں کام کرنا چاہیے۔ ہمیں نئے راستے اور زاویے بنانے چاہییں، اب ہماری فلمی صنعت میں یہ تبدیلی آرہی ہے۔ امید ہے مستقبل میں اس انفرادیت میں اور اضافہ ہوگا۔