تعارف
پاکستانی اداکارہ منشا پاشا نے دنیائے شوبز میں تکنیکی شعبے سے اپنے کیرئیر کی شروعات کیں، پھر بہت جلد اداکاری کی طرف آگئیں۔ ٹیلی وژن سے شہرت ملی، فلم کے شعبے میں بھی قدم رکھا، اب تک کئی اشتہاروں میں ماڈلنگ کرنے کے علاوہ بطور اداکارہ جن ڈراموں میں اداکاری کی صلاحیتیں ثابت کیں، ان میں شہر ذات، زندگی گلزار ہے، وراثت، محبت صبح کا ستارہ ہے اور دیگر شامل ہیں۔ 2011 سے اب تک 30سے بھی زیادہ ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھا چکی ہیں، وہ فلموں میں ’’آلٹریٹڈ اسکن‘‘ اور’’چلے تھے ساتھ‘‘ کے علاوہ یہ فلم ’’لال کبوتر‘‘ شامل ہے، جس میں انہوں نے مرکزی کردار نبھا یا۔
انٹرویو : منشا پاشا

پاکستانی اداکارہ ۔ منشا پاشا
س: دورِحاضر میں پاکستانی سینما نئے عہد میں داخل ہو رہا ہے، جس میں مختلف نوعیت کی فلمیں بنائی جا رہی ہیں، آپ نے ابھی ایکشن فلم’’لال کبوتر‘‘ میں مرکزی کردار نبھایا، خاتون اداکارہ کا مرکزی کردار نبھانا بھی اب ایک نئی روایت ہے،یہ تجربہ کیسا رہا ؟
ج: مجھے لگتا ہے، مرکزی کردار ہو یا پھر معاون کردار، میں اپنے ہر کردار کو بہت سنجیدگی سے کرتی ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے، میں اپنے کام سے انصاف کرتی ہوں پھر میں کسی کردار کو کرنے کی حامی بھرتی ہوں، تو اس کے لیے محنت کرتی ہوں اور اسے کامیاب بنانے کی ہرممکن کوشش کرتی ہوں۔ مجھے لگتاہے ، کام سے محبت کرنے کا یہی اندازہی کام سے انصاف کرواتا ہے، ہاں البتہ مرکزی کردار مل جائے، جیسا میں نے اس فلم میں کیا، تویہ ایک ذمے داری ضرور ہے، مجھے اس کا احساس بھی ہوتا ہے، لہٰذا میں نے اپنی پوری توانائی صرف کی ہے۔ ہدایت کاری کی پسندیدگی بھی معانی رکھتی ہے، اگر انہیں میرا کام پسند آگیا ہے اور وہ مطمئن ہیں تو پھر میں سمجھتی ہوں کہ میں نے اپنی ذمے دار ی احسن طریقے سے نبھا دی۔
س: آپ کی شخصیت دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے، آپ بہت جلدی کسی سے گھلتی ملتی نہیں، وقت لیتی ہیں، شوبز کے شعبے میں، جہاں رنگا رنگی اور بات چیت کرنا لازمی ہے، وہاں اس مزاج کے لوگ کم دیکھے گئے ہیں، تو آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟
ج: میں ایسی نہیں ہوں(قہقہہ) ہاں یہ ضرور ہے، میں کچھ وقت لیتی ہوں، مگر میں بہت گفتگوکرتی ہوں اور اپنے خیالات کا اظہار بھی آسانی سے کرتی ہوں، جیسے کہ ابھی آپ سے کر رہی ہوں۔ فلمی صنعت میں بہت زیادہ گفتگو کرنے والے یا ایسے لوگوں سے موازنہ کریں گے، جن کے ساتھ تنازعات جڑے ہوتے ہیں، تو وہ اوربات ہے،پھر میں ان کے سامنے آپ کو بہت بردبار اور سمجھدار لگوں گی لیکن میں اپنی ذات میں ایک عام سی لڑکی ہوں، جو بات چیت کرنے سے بالکل نہیں گھبراتی ہے۔
س: آپ نے کیرئیر کی ابتدا ماڈلنگ اور ٹیلی وژن پر اداکاری سے کی، وہی آپ کا بنیادی حوالہ بھی ہے، اب یہ فلم’’لال کبوتر‘‘ آپ کی دوسری فلم ہے، تو اس حوالے سے آپ کیا سوچ رہی ہیں، پاکستانی سینما کے بحالی والے دور میں آپ کی شرکت کتنی ہوپائے گی، خود کو مستقبل میں اس سینما کے منظر نامے پر کہاں دیکھ رہی ہیں؟
ج: میں اتنا نہیں سوچ سکتی، البتہ میرا یہ یقین ہے، خدا آپ کے لیے بہتر سوچتا ہے، اگر وہ مجھے اس طرف لے جارہا ہے، تو یہ راستہ میرے لیے ٹھیک ہوگا، میں اتنی منصوبہ بندی کرنے میں ماہر نہیں ہوں، مجھے کوئی پیشکش ہوتی ہے تو میں سوچتی ہوں، مجھے یہ کام کرنا ہے یا نہیں کرنا ہے۔ میرا یہ سارا کام شوق کی حد تک ہے اور یہ میری خوش نصیبی ہے کہ میرے خواہشات پوری بھی ہوجاتی ہیں۔ مثال کے طور پر میں نے جب اس فلم کے ہدایت کار کمال خان کی میوزک ویڈیو دیکھی ، تو میں نے دل ہی دل میں خواہش کی، مجھے ان کے ساتھ کام کرنے کاموقع ملنا چاہیے اور پھر مجھے موقع مل بھی گیا۔

فلم ”لال کبوتر“ کے ہدایت کار کمال خان (درمیان میں سفید شرٹ میں ملبوس) اپنی پروڈکشن ٹیم ممبران کے سنگ
س: یعنی آپ پہنچی ہوئی بزرگ ہیں، کرامات بھی ہیں اداکاری کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ ؟(مسکراتے ہوئے)
ج: (قہقہہ) میں یہ بات اکثرکہتی ہوں کہ اللہ میاں مجھ سے پیار کرتے ہیں، اسی لیے میری ہر خواہش پوری ہوجاتی ہے۔ ویسے بھی آپ کی نیت صاف ہو تو منزل آسان ہوجاتی ہے۔ ہر صاف نیت والے کے لیے اس کے دروازے کھلے ہیں۔
س: فلم’’لال کبوتر‘‘ میں آپ کا کردار خاصا تھرلر ہے، اس کام سے جوآپ نے اب تک کیا، یہ اس سے مختلف تھا؟
ج: کام تو کوئی بھی آسان نہیں ہوتا ہے، ہر کام کرکے ہم کچھ نہ کچھ سیکھتے ہیں، اب جب میں نے اس فلم کا کام ختم کرنے کے بعد اس کا فائنل ٹریلر دیکھا، تو مجھے منفرد احساس ہوا، یہ میرے لیے ایک خوشگوارتجربہ ہے، کیونکہ یہ میری توقع کے بالکل برعکس تھا، میں نے بھی ایسا نہیں سوچا تھا، جیسے میرا کردار اسکرین پر نمایاں ہوا ہے، یہ پہلو بہت متاثرکن ہے کہ آپ کو بھی خبر نہ ہو، آپ جو کام کر رہے ہیں، وہ کیا تاثرقائم کرے گا۔ میں اس حوالے سے بہت خوشی محسوس کر رہی ہوں۔

مذکورہ فلم سے پاکستانی فلمی منظر پر ابھرنے والی ایک عمدہ جوڑی ۔ احمد علی اکبر اور منشا پاشا
س: ٹیلی وژن سے فلم کی طرف آنے والے اداکاروں کے لیے یہ بہت مشکل ہوتا ہے کہ وہ فلم کے مزاج کے مطابق خود کو ڈھالیں، مگر آپ اس میں کامیاب دکھائی دیں، تو یہ کوشش شعوری طور پر کی، یا خودبخود ہی سب کچھ ہوتا چلا گیا؟
ج: کچھ اداکار ہوتے ہیں، جو صرف اپنے چہرے کے تاثرات تک خود کو محدود رکھتے ہیں اور کچھ ہوتے ہیں، جو اپنی جسمانی حرکات و سکنات کے ساتھ کردار کو نبھاتے ہیں، لہٰذا میں دونوں باتوں کا خیال رکھتی ہوں،لیکن ایسا نہ کروں ،تو مجھے خود محسوس ہو جاتا ہے کہ کردارمیں کہیں کوئی کمی رہ گئی ہے۔ میں اپنا سین عکس بند کروانے کے بعد خود دیکھتی ہوں ، اگر مطمئن نہ ہوں ،تواس کو دوبارہ کرنے کا کہتی ہوں، خود کو مطمئن کرنے کی عادت نے شاید مجھے اپنے کام پر گرفت رکھنے میں کافی مدد دی ہے۔ ٹیلی وژن کے زیادہ تر اداکار باریکیوں کا خیال نہیں کرتے، مجھے چونکہ اس بات کی عادت ہے ، تو چاہے ٹیلی وژن ہو فلم کی اسکرین، میں دونوں جگہ اپنے کردار کو اسی انداز میں نبھاتی ہوں، اس لیے دیکھنے والوں کو شاید میرا کام پسند آجاتا ہے۔ یہ میرے کام کرنے کی ایک تکنیک ہے، ہر اداکار اپنی تکنیک کے ساتھ کام کرتا ہے۔
س: آپ کی اداکاری کے لیے سنجیدگی ایسے ہے، جس طرح تھیٹر کے اداکاروں کی ہوتی ہے، تو کبھی تھیٹر میں کام کرنے کا اتفاق ہوا؟
ج: ابھی تک تو نہیں ہوا، لیکن میں تھیٹر کے میڈیم کو بہت پسند کرتی ہوں اور کام کرنا بھی چاہتی ہوں، لیکن معاملہ یہ ہے، اب تک میری جتنی بات چیت تھیٹر کے شعبے میں متعلقہ افراد سے ہوئی ہے، وہ ایک سال کی تاریخیں مانگتے ہیں، اب یہ میرے لیے ممکن نہیں ہے، اس فلم کی عکس بندی کے دوران بھی مجھے پیشکش ہوئی، مگر اس کی مدت ایک سال تھی، اس لیے وہ موقع میرے کام نہ آسکا مگر کم وقت والے تھیٹر منصوبے پر میں بہت زیادہ متجسس ہوں اور کام کرنا چاہوں گی، اگر مجھے کوئی پیشکش ہوئی۔

علی احمد اکبر ۔ علی کاظمی ۔ منشا پاشا
س: آپ کے ساتھ اس فلم میں دیگر جن اداکاروں نے کام کیا،جیسے راشد فاروقی اور سلیم معراج جیسے منجھے ہوئے اداکار بھی موجود تھے، ان کے ساتھ فلم میں اداکاری کرکے کیسا محسوس ہوا ؟
ج: راشد فاروقی کے ساتھ تو کام کرنے کا اتفاق ہوا، لیکن سلیم معراج کے ساتھ پہلا موقع تھا، یہ بہت بڑے اداکار ہیں، مجھے ان کے ساتھ کام کرکے واقعی بہت مزا آیا۔ میں نے ان کے ساتھ کام کیا اور بہت سیکھا۔ انہوں نے بھی میری اس فلم کے حوالے سے بھی حوصلہ افزائی کی، جو ظاہر ہے میرے جیسے نوآموز فنکار کے لیے بہت اہمیت کی حامل بات ہے، میں اس سے بہت خوش ہوں۔
س: پاکستانی سینما اور عالمی فلمی صنعت کے رجحان کو ساتھ ملا کر کیا سمجھتی ہیں، ہمارے ہاں کس طرح کی فلمیں بننی چاہیں بطور اداکارہ جس میں آپ کو کام کرنے کی مزید شدت سے خواہش پیدا ہو؟
ج: پاکستان کوضرورت ہے، یہاں مختلف انداز اور اقسام کی فلمیں بنیں تاکہ ہمارے فلمی صنعت ترقی کرے۔ دنیا میں تو بہت مختلف نوعیت کا کام ہو رہا ہے، ان کے بے شمار موضوعات ہیں، وہاں کامیڈی، رومانس، ایکشن، تھرلر، ہارر، سائنس فکشن، ہسٹاریکل اور دیگر شامل ہیں، پھر ان میں بھی ذیلی موضوعات ہیں، جس طرح اگر کامیڈی ہے ، تو اس میں بھی آگے مختلف اقسام ہیں، اس طرح پندرہ بیس قسموں کے موضوعات اور انداز ہیں، جن پر فلمیں بنائی جاتی ہیں، کسی بھی بڑی اور بین الاقوامی فلمی صنعت کے لیے یہ سب موضوعات ضروری ہیں، ہمارے ہاں تو صرف ایک دو موضوعات ہیں، جن پر زیادہ تر فلمیں بنتی ہیں، ہمیں بھی اپنا کینوس اتنا ہی کشادہ کرنا پڑے گا، پھر بات آگے بڑھ سکتی ہے۔
اس میں ایک بات اور یہ بھی ہے کہ فلم سازوں کے اپنے مخصوص انداز ہوتے ہیں، جن کے ذریعے وہ پہچانے جاتے ہیں، وہ اپنے طریقے سے سینما کے فروغ میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں، جس طرح اب اگر ہالی وڈ کے معروف فلم ساز اسٹیون اسپیل برگ کی فلمیں دیکھیں ، تو دیکھ پر پتہ چل جاتا ہے، یہ ان کی فلم ہے، اسی طرح کئی اور ہدایت کار ہیں، جن کا کام ہی ان کے ہونے کی علامت ہے، سینما کی ترقی میں یہ پیشہ ورانہ رویہ بھی بہت معاون ثابت ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی یہ رواج بنے گا، لیکن ابھی کچھ برس لگیں گے، لیکن ہم بھی یہاں تک پہنچ جائیں گے۔

نوجوان نسل پر مبنی ٹیم ۔ فلم کے ہدایت کار کمال خان ، پروڈیوسرز کامل چیمہ ، ہانیہ چیمہ اور فلم کے فنکاروں میں شامل علی احمد اکبر، منشا پاشا ودیگر
س: آپ کی عالمی سینما پر گہری نظر ہے، تو آپ کے پسندیدہ فلم ساز یا اداکار کون ہیں؟
ج: مجھے برطانوی نژاد امریکی فلم ساز اور ہدایت کار الفریڈ ہچکوک کی فلمیں بہت پسند ہیں، میں نے زمانہ طالب علمی میں ان کے کام کو بہت غور سے دیکھا۔ مجھے ایرانی فلم ساز و ہدایت کار اصغر فرہادی بہت پسند ہیں۔ ایسے بہت سارے اور نام ہیں، جن کے کام سے میں بے حد متاثر ہوں،ا یک دو ناموں تک خود کو محدود کرلینا اچھی بات نہیں ہوگی، میں بہت سارے فلم سازوں کا کام دیکھ چکی ہوں اور مزید دیکھنا چاہتی ہوں، مختلف موضوعات کے اعتبار سے مجھے کئی فلم ساز پسند ہیں۔
س: آپ کے مزاج کی گہری سنجیدگی اور موضوعات پر مکمل گرفت کا یہ رنگ بتاتا ہے، آپ پڑھتی لکھتی بھی ہیں، کچھ بلاگ جو آپ نے کچھ عرصہ پہلے لکھے، میری نظر سے بھی گزرے تو وہ کام کیسا چل رہا ہے؟
ج: سچ بات تو یہ ہے ،اب کچھ بھی ایسا کام نہیں ہو رہا، پہلے میں بہت کتابیں پڑھتی تھی، لکھنے کا سلسلہ بھی ساتھ ساتھ جاری تھا۔ اب مطالعہ تو ہوتا ہے، لیکن موضوعات اور نوعیت تبدیل ہوگئی ہے، اب میں اخبارات، رسائل و جرائد، آن لائن ویب سائٹس وغیرہ اور سوشل میڈیا پر بہت چیزیں پڑھتی ہوں، البتہ شعرو ادب وغیرہ نہیں پڑھ رہی اور دیگر سنجیدہ کتب کی طرف دھیان نہیں جا رہا ہے۔ دنیا میں کیا ہو رہا ہے، اس پرتوجہ زیادہ ہے۔ اپنے شعبے میں ہونے والے معاملات پر بھی نظر ہوتی ہے، کرنٹ افیئرز کے بارے میں بہت مطالعہ کرتی ہوں۔

خرم سہیل اور منشا پاشا ۔ دورانِ مکالمہ
س: بلاگ لکھنا کیوں چھوڑ دیا؟
ج: میں سچ لکھتی ہوں، وہ میرے لیے اورکیرئیر کے لیے شاید ناقابل برداشت ہوگا، میں ویسے ہی صاف اور سیدھی بات کرنے کی عادی ہوں، تو پھر اتنی سچائی کو سنبھالنا مشکل ہوگا، اس لیے لکھنا چھوڑ دیا۔ کسی بھی موضوع یا معاملے پر کچھ بھی کہہ دینا، بہت زیادہ بول دینا یا براہ راست کہہ دینے کی عادت میرے نزدیک ایک مسئلہ ہی ہے، جس سے اب میں اجتناب کرنے لگی ہوں، تاکہ زندگی پرامن رہے۔ کسی بھی معاشرے میں زیادہ سچ بولنا ہضم نہیں کیا جاتا، لوگ برا مان جاتے ہیں، مگر میں نے وقت کے ساتھ ساتھ خود کو ڈھال لیا ہے۔ شوبز کے شعبے میں میری اس سنجیدگی سے بہت فائدہ بھی اٹھایا گیا، مجھ سے لوگ جھوٹ بول رہے ہوتے تھے اور میں ان کو سچا سمجھ رہی ہوتی تھی۔

فلم کا ایک منظر
س: شوبز میں نئے آنے والوں کو لگتا ہے، اس شعبے میں بہت سفارش اور تعلقات کی ضرورت ہے اور کسی حدتک یہ بات درست بھی ہے ، تو ایسے ماحول میں وہ کیسے آگے بڑھ سکتے ہیں، کوئی تجویز ؟
ج: مشکل توہے لیکن لگن سچی ہو تو راستہ مل ہی جاتا ہے۔ آپ کا کام پسند آنا شروع ہوگیا تو آپ کو مواقع ملنا شروع ہوجائیں گے، اپنے کام کو ٹھیک سے سیکھیں اور محنت کرتے رہیں۔ یہ بات ٹھیک ہے، ہرکوئی تو پارٹیوں میں جاکر تعلقات نہیں بناسکتا، کچھ لوگ اپنی محنت اور صلاحیت ہی کے بل بوتے پر آگے آتے ہیں، تو اس لیے اپنے کام پر یقین ہونا چاہیے، تو کامیابی ضرور ملتی ہے۔
تعارف
احمد علی اکبر کا تعلق نئی نسل کے باصلاحیت فنکاروں سے ہے۔ وہ تھیٹر، ٹیلی وژن اور فلم تینوں میڈیم میں اپنی اداکاری کی صلاحیتوں کے جوہر دکھا رہے ہیں، تازہ ترین فلم لال کبوترمیں مرکزی کردار ادا کیا ہے جبکہ اس فلم کے علاوہ پرچی، کراچی سے لاہور اور دیگر فلموں میں کام کرچکے ہیں ۔ ٹیلی فلموں میں کام کرنے کے ساتھ ساتھ ٹیلی وژن کے کئی معروف ڈراموں کابھی حصہ رہے ،جن میں دوسری بیوی، شہر اجنبی، گزارش، پیوند اور دیگر شامل ہیں۔ ان کے والد محمد علی اکبر ٹینس کے معروف کوچ رہے ہیں اور علی خود بھی قومی سطح پر یہ کھیل کھیلتے رہے ہیں، اب ان کے بھائی پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ ان سے کیاگیا مکالمہ پیش خدمت ہے۔
انٹرویو: احمد علی اکبر

پاکستانی اداکار ۔ احمد علی اکبر
س: آپ اپنی فلم لال کبوتر تک کیسے پہنچے؟
ج: کئی برس پہلے میں ایک دوست کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، اس نے مجھے ایک میوزک ویڈیو دکھائی، میں اس سے بہت متاثر ہوا، میں نے کہا، اس طرح کے ہدایت کار کے ساتھ میں مجھے کام کرنا ہے، اتنی دیر میں کمرے کا دروازہ کھلا اور ایک شخص اندر داخل ہوا، اس کا نام کمال تھا، اس نے میرا تھیٹر کا کھیل دیکھ رکھاتھا،اسی موقع پر مجھے پیشکش کی ، وہ جب بھی فلم بنائے گا،مجھے ضرور اس کا حصہ بنائے گا، پھر آخرکار وہ وقت آگیا، میں نے آڈیشن دیا اور اس فلم کا حصہ بن گیا۔
س: اس فلم میں کام کرتے ہوئے کوئی مشکل پیش آئی؟
ج: بالکل، وہ یہ تھی کہ فلم کی کہانی کراچی شہر کے اردگرد گھومتی ہے، تو ایک کراچی کے لڑکے کی بول چال کیسی ہونی چاہیے، اس پر کام کیا، تاکہ میرا کردار متاثرکن ہوا ور اس میں کوئی تکنیکی جھول نہ رہے۔ اس کردار کواپنے اندر اتارنے میں کافی کوشش کی، میں نے کبھی سگریٹ نہیں پی نہ کان میں بالی پہنی، لیکن اس کردار کو نکھارنے کے لیے میں نے یہ کام بھی کیے۔ ریہرسل کے مراحل میں بھی بہت زیادہ سیکھا۔ تھیٹر میں کام کرنے کی وجہ سے مجھے کردار کو دریافت کرنا اور نکھارنا آتا ہے، اس لیے میں نے کافی محنت کی۔
اداکاری میں بھی پیررل سینما اور حقیقی اداکاری کو مدنظر رکھا، یہ ساری تعلیم تھیٹر کی دی ہوئی ہے، اگر اچھا اسکرپٹ مل جائے تو پھر آپ اپنی کہانی اور کردار کو بہت اچھے طریقے سے نبھاسکتے ہیں۔ تھیٹر نے ہمیں اپنی انا کو ہمیشہ کام سے دور رکھنا سکھایا، میں نے اپنے ہدایت کار کی صلاحیتوں پر اعتبار کیااور میں نے جو بھی کام اس فلم میں کیا، اس سے میں نے بہت سیکھا، یہ سب کچھ نیا تھا، تھیٹر ہمیشہ آپ کو توڑتا اور جوڑتا ہے، اس احساس نے بھی مجھے بہت سیکھنے میں مدد دی۔ ہدایت کار کی تجاویز اور کچھ فلموں کو دیکھنے کی ہدایت تھی، وہ فلمیں اور ان کے کردار دیکھے، پھر اپنے انداز میں ان کو اتارا، ہماری فلم ان سب سے مختلف اور منفرد ہے۔

علی احمد اکبر ، منشا پاشا ۔ 2019 میں پاکستان کی طرف سے آسکر ایوارڈز کے لیے بھیجی جانے والی آفیشل انٹری
س: آپ نے تھیٹر اور ٹیلی وژن کے ساتھ ساتھ ، اس فلم کے علاوہ چار فلموں میں کام کیا ہے، اس سب کام کی تفصیلات بتائیے
ج: میں نے جن فلموں میں کام کیا، ان میں سیاہ، کراچی سے لاہور، ہو من جہاں اور پرچی شامل ہیں۔ میں ہمیشہ نت نئے تجربات کرنے کا بہت شوق ہے اور میں ذاتی اورپیشہ ورانہ طورپر اس طرح کی سرگرمیاں دل سے کرتا ہوں۔ اس کے علاوہ میں نے دو ٹیلی فلموں میں بھی اداکاری کی ہے، جبکہ آٹھ نو ٹی وی ڈراموں میں بھی کام کرچکاہوں۔ میراتعلق راولپنڈی کے ٹینس اور کرکٹ کھیلنے والے گھرانے سے ہے اور جب میں تھیٹر میں کام کرنے کی غرض سے 2014 میں کراچی آیا، تو اس کے بعد سے اب تک یہاں ہوں اور کام کر رہا ہوں۔

خرم سہیل ، احمد علی اکبر ۔ دورانِ مکالمہ
س: ٹینس اور کرکٹ کے پس منظر کے بارے میں بتائیے۔
ج: اسکواش کے معروف کھلاڑی ماجد خان ہمارے عزیز ہیں، جبکہ میرے والد محمد علی اکبر خود ٹینس کے کھلاڑی رہے۔ میرے بڑے بھائی بابرعلی اور چھوٹے بھائی عابد اکبر نے قومی سطح پر کھیل کے اس میدان میں پاکستان کا نام روشن کیا۔ میں نے بھی مقامی طورپراسکواش کافی کھیلا ہے، اس سے مجھے بہت فائدہ ہوا، ہارنا جیتنا، ہمت کرنا سیکھا۔ میں نے جب ہوش سنبھالا ، تو میرے اردگرد ٹینس کے گیند اورمیدان موجود تھے، میں نے ساری زندگی یہ کھیل کھیلا، کرکٹ بھی کھیلی۔ میں نے 2004 میں ’’نفس‘‘نامی بینڈ کے ذریعے میوزک کے شعبے میں بھی کام کیا، پروگریسیو روک بینڈ کے طور پر کافی عرصہ فعال رہے، یہ سب کام کرنے کا بہت فائدہ ہوا۔
س: تھیٹر، ٹیلی وژن اور فلم کے میڈیم میں کس میں کام کرکے زیادہ لطف ملتا ہے ؟
ج: ایک اداکار کے لیے تھیٹر وہ شعبہ ہوتاہے، جس میں وہ مطمئن ہوتاہے،جبکہ فلم کو میں ڈائریکٹر کا میڈیم سمجھتا ہوں۔ ٹیلی وژن ڈراما رائٹر کا میڈیم ہے، وہ کہانی کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ چلتا ہے۔ فلم اور تھیٹر میری اداکاری کے لیے ایک ایسی جگہ ہے، جہاں ہم ناظرین کو اپنے کام سے حیران کرسکتے ہیں۔
س: کوئی بات جو نئے فلم سازوں اور قارئین سے کہنا چاہیں؟
ج: بس اتنا کہوں گا کہ اب کوئی وجہ نہیں بنتی کہ آپ معذرت کریں اور اپنی کہانی پیش نہ کرسکیں، جوآپ نے سوچ رکھی ہے۔ اب ہر طرح کی سہولت اور آلات موجود ہیں، جن کے ذریعے آپ اپنے وسائل کے مطابق بہترین طریقے سے اپنی کہانی کو پیش کرسکتے ہیں، بس آپ کے پاس اچھی کہانی ہونی چاہیے، اس کو تلاش کرلیں، باقی تو سب کچھ اب دستیاب ہے، جس کے ذریعے اچھی فلم بن سکتی ہے۔
تعارف
ہانیہ اور کامل دونوں باصلاحیت بہن بھائی اور نئی نسل سے تعلق رکھنے والے فلم پروڈیوسرز ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے ہارورڈ یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد پاکستانی فلمی صنعت میں قدم رکھنے کا تہہ کیا، اپنے پہلے پروجیکٹ سے یہ شوبز کے منظر نامے پر موجود ہیں اورکامیابی کے لیے پرعزم ہیں، اس موقع پر ان سے بھی گفتگو کی، وہ بھی پیش خدمت ہے۔
انٹرویو: کامل چیمہ اور ہانیہ چیمہ

کامل اور ہانیہ ۔ اپنے فلم کے کیرئیر کی پہلی فلم ”لال کبوتر“ کا مہورت کرتے ہوئے
س: آپ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آئے ہیں، اپنا اتا پتہ بتائیے(قہقہہ)
ہانیہ: یہ سوال کافی لوگوں نے پوچھا ہے کہ ہم کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں(قہقہہ)
کامل: فلمی دنیا میں ہماری جب کافی لوگوں سے دوستیاں ہوگئیں ، تب بھی ایک موقع ایسا بنا ، جب انہوں نے پوچھ ہی لیا کہ آپ کون ہیں اور فلمی صنعت میں ہی کیوں آئے ہیں(مسکراتے ہوئے)
س: آپ دونوں باصلاحیت بہن بھائی نے ایک جیسے کام کرنے کے بارے میں کیسے سوچا اور اس سفر کی ابتدا کیسے ہوئی؟
ج: کامل: ہماری پروڈکشن کمپنی کا نام ’’نہرگھر‘‘ ہے اور یہ نام اس لیے ایسے ہے کہ ہمارا گھرلاہور میں نہر کے کنارے تھا، جس میں ہم پلے بڑھے اور ہم نے ایک ساتھ لکھنا پڑھنا، سوچنا اور محسوس کرنا سیکھا۔ ایک عرصے تک ہم ایک دوسرے کے دوست نہیں بن سکے، ہم صرف بہن بھائی تھے، پھر ہماری دوستی ہوگئی اور ہم ایک ہی طرح سوچنے لگے۔ یہ زمانہ کالج کا تھا، جب ہم دوست بنے۔
ہانیہ: کیونکہ کالج کے دور میں کوئی اپنا نہیں تھا، اس لیے ایک دوسرے سے بات کی، تمام تفریق کو ایک طرف رکھ کر ایک دوسرے کو سمجھا اور پھر ایک ساتھ مل کر زندگی کے لیے جدوجہد کرنے کی ٹھانی اور پھر بس کام سے لگ گئے۔
س: ذاتی اور پیشہ ورانہ سفر کی شروعات کیسے ہوئیں؟
ج: کامل: میں نے ایچی ایسن سے پڑھائی مکمل کرنے کے بعد ہارورڈ یونیورسٹی میں اپنی تعلیم حاصل کی، ہانیہ بھی میرے ساتھ تھیں۔ یہ کانونٹ سے فارغ ہوکر ہارورڈ آئیں اور ہم نے اس طرح ساتھ تعلیم حاصل کی اور واپس آنے کے بعد آگے کام کرنے کی سوچ رہے ہیں، میں ہانیہ سے عمر میں ایک سال چھوٹا ہوں یہ مجھ سے بڑی ہیں۔

لال کبوتر کی تکون ۔ منشا پشا ، کمال خان ، احمد علی اکبر
س: عمومی طور پر نوجوان نسل جب پاکستان سے باہر جاتی ہے تو بہت کم ایسا ہوتا ہے، وہ پڑھائی کرکے مکمل طور سے واپس آجائیں اور مقامی طور پر اپنا کیرئیر شروع کریں، آپ دونوں نے اتنی اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور پھر واپس بھی آگئے، یہ واقعہ کیسے ظہور پذیر ہوا؟
ج: کامل: اس میں ہانیہ کا زیادہ ہاتھ ہے، انہوں نے مجھے تحریک دی۔ باہر رہنے میں کئی نقصانات بھی ہیں، وہاں رہنے کے لیے اداروں اور ملازمتوں کی پالیسی وغیرہ کے مطابق طرززندگی کو ڈھالنا پڑتا ہے، جو ہمیں پسند نہیں ہے، ہم آزاد پرندے ہیں، اس لیے اپنے وطن سے اچھی جگہ کوئی نہیں تھی کیونکہ یہاں میں اپنی مرضی سے کوئی بھی کام کرسکتا ہوں۔

احمد علی اکبر فلم کا مہورت کرتے ہوئے
ج: ہانیہ: میرے ذہن میں شروع دن سے بہت واضح تھا، مجھے تعلیم مکمل کرکے واپس آنا ہے اور اپنے ملک میں ہی کام کرنا ہے۔ میں چونکہ بڑی ہوں، اس لیے میں نے ہر موقع پہلے پایا، فیصلے بھی خود کیے اور پہلے کیے۔ میں بھی چاہتی تو نیویارک میں کوئی اچھی ملازمت کرسکتی تھی یہ بہت آسان تھا، لیکن میں نے اپنے ملک واپس آنے کو ترجیح دی۔ فلم کے شعبے میں دلچسپی تھی، اس لیے سوچا اس میں کام کیا جائے، پھر اب سینما کی بحالی کے بعد ہم پہلی ہی نسل سے ہیں، جو اس کے لیے عملی اقدامات کرنے میں اب کوشاں ہے۔
س: ہارورڈ یونیورسٹی سے آپ نے کن موضوعات میں تعلیم حاصل کی؟
ج: ہانیہ: میرا کلیدی موضوع تو سوشولوجی تھا لیکن ذیلی موضوع کے طور پر فلم کا مضمون بھی شامل تھا۔
ج: کامل: میرے مضامین پولیٹیکل تھیوری سے متعلق تھے۔
س: آپ دونوں نے پروڈکشن کے شعبے میں ہی کیوں آنے کا سوچا، جبکہ یہ شعبہ تو منجھے ہوئے لوگوں کا ہوتا ہے، جو اس میں یہ کام اس لیے کرتے ہیں کہ وہ پیسے کما سکیں لیکن آپ تو نوجوان ہیں اور پیسے کمانے کی خواہش بھی زیادہ محسوس نہیں ہورہی آپ کے خیالات میں، تو پھر ایسی کیابات ہوئی؟
ج: ہانیہ: ایک بات تو یہ ہے، پروڈیوسر کا کام اتنا تکنیکی طور سے کٹھن نہیں ہے، جتنا ڈائریکٹر، ڈی اوپی اور سائونڈ ریکارڈسٹ کا کام ہے۔ پروڈیوسرکو تمام معاملات کا اہتمام کرنا پڑتا ہے، اب ایک فلم پروڈیوس کرلی ہے تو میں کہہ سکتی ہوں، یہ کام اتنا مشکل نہیں ہے، جتنا فنکاروں اور ہدایت کار وغیرہ کا کام ہوتا ہے۔
ج: کامل: یہ الگ بات ہے کہ کئی سال سے چھٹی نہیں کی، مسلسل کام کرنا پڑا ہے۔
س: مالی اعتبار سے یہ مشکل شعبہ نہیں ہے کہ آپ کے پیسے خرچ ہو رہے ہوتے ہیں اور اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ ان کی واپسی ہوگی یا نہیں، خوش قسمتی ہوئی تو شاید منافع بھی مل جائے تو اس صورتحال کے باوجود کیسے اس شعبے میں قدم رکھنے کا خیال آیا؟
ج: کامل: ہم نے جب سوچا، فلم کے شعبے میں کام کیاجائے تو جائزہ لیا، ہمارے ہاں جوانی پھر نہیں آنی جیسی فلمیں بن رہی تھیں، اسی صورتحال میں کہیں سے ہمیں شروع کرنا تھا کہ کس شعبے میں اور کس موضوع یا کہانی کے ساتھ شروعات کی جائے تو پھر لال کبوتر سے ابتدا ہوئی، اب جو آپ کے سامنے ہے۔ ہم نے چھوٹے بجٹ کو ذہن میں رکھا، مگر معیاری فلم بنانامقصد تھا، اس لیے کافی سوچ بچار کی، ایسی کہانی ہو جو دیکھی جائے اور مقبول بھی ہو۔ ایک اچھی کہانی کی تلاش سے اس سلسلے کو شروع کیا۔ اسی میں ہمیں کمال خان ملے، اداکاروں سے ملاقاتیں ہوئیں اور آگے معاملہ بڑھتا چلاگیا۔ اس تلاش میں پہلے پہل ہمیں کچھ ایسے فلم ساز بھی ملے، جنہوں نے صرف کمانے کی غرض سے ہمارے لیے اپنی خدمات پیش کیں، مگر ہم چونکہ ایک اچھی فلم بنانے کی خواہش رکھتے تھے، اس لیے صرف کمرشل پہلوئوں سے کسی کے ساتھ کوئی کچھ طے نہ کیا۔

راشد فاروقی فلم کے ایک منظر میں
ج: ہانیہ: ہم نے خود کو سیکھنے کے لیے مہیا کیے رکھا، جب اس فلم پر کام شروع ہوا، تو اپنی انا بھی ایک طرف رکھ دی، اگر کہیں ہماری بات میں دم نہیں ہے تو اس کو مسترد کیا جاسکتا ہے، کمال کے ساتھ مل کر ہم نے کہانی کو مقدم رکھا، جس کی وجہ سے ہم بطور ٹیم ایک اچھی فلم بناپائے، کئی برس کی محنت ہے۔
س: اس فلم کی کہانی کی طرف کیسے ذہن گیا؟
ج: ہانیہ: اس فلم کاابتدائی خاکہ ہمارے ذہن میں تھا، پھر کمال سے بات ہوئی، اس میں مزید کئی کردار مل گئے اور یوں اس میں سات مختلف لکھاریوں نے مل کر یہ فلم لکھی ، پھر جس کا اسکرین پلے علی عباس نقوی نے لکھا۔
ج: کامل: اس فلم کی کہانی کو حتمی طور پر کمال نے ہی فائنل کیا کہ کہانی میں کس موڑ پر کہاں کیا کرنا تھا، کمال اور علی عباس نے مل کر کہانی کو حتمی شکل دی۔

فلم کا ایک منظر

لال کبوتر کے فلم ڈائریکٹر ۔ کمال خان
فلم کی ریلیز کے موقع پر فلم کے ہدایت کار ، جو بیرون ملک تھے،انہوں نے اپنا پیغام یہ دیا۔ میں یہ تونہیں کہتاکہ میں نے اچھی یا بری فلم بنائی ہے،البتہ ایک منفردفلم ضرور ہے،جس پر میں نے کئی سال کام کیاہے۔ہماری فلمی صنعت کو مختلف اقسام کی فلموں کی ضرورت ہے،اسی سے سینماکی حقیقی معنوں میں بحالی ہوسکے گی۔ہم سب کو کسی ایک طرزِ سینماپرکام کرنے کی بجائے مختلف موضوعات پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔