تعارف
عجب گل معروف پاکستانی اداکار، کہانی نویس، فلم ساز، موسیقار اور فلمی ہدایت کار ہیں۔ فلم، ٹیلی وژن اور تھیٹر تینوں شعبوں میں گزشتہ تین دہائیوں سے بھی زیادہ عرصے سے اپنی صلاحیتوں کا جادو جگا رہے ہیں۔ انہوں نے زمانہ طالب علمی میں مارشل آرٹس سیکھا۔ پشاور یونیورسٹی سے پشتو زبان میں ماسٹرز کرنے کے بعد پاکستان ٹیلی وژن پشاور مرکز سے اداکاری کی ابتدا کی اور پہلے ڈراما سیریل”موسم“ میں کام کیا۔ اس کے بعد پاکستان کے تمام معروف ہدایت کاروں کے ساتھ کام کیا، جن میں جہانزیب سہیل، ممتاز علی خان، نصرت ٹھاکر، راشد ڈارکےساتھ ساتھ یاور حیات، اشفاق احمد اور دیگر شامل ہیں۔ ٹیلی وژن سے بطور میزبان بھی کئی یادگار پروگرام کیے، جن میں فلمی موسیقی کا ایک شاندار پروگرام ”ہر تان ہے دیپک“ پسندیدگی میں سر فہرست رہا۔ فلم کی دنیا میں بطور اسکرپٹ رائٹر، فلم ڈائریکٹر دو اردو فلمیں بھی بنائیں، جن کے نام ”کھوئے ہو تم کہاں“ اور”کیوں تم سے اتنا پیار ہے“ سمیت متعدد پشتو فلمیں بھی شامل ہیں۔ اسی طرح 1988 میں ان کی پہلی فلم ”قیامت سے قیامت تک“ تک تھی، جس سے یہ بطور ہیرو بھی فلمی صنعت میں متعارف ہوگئے۔ اردو کے علاوہ اور پشتو فلمیں ملا کر 50 سے زاید فلموں میں کام کیا، ان کی چند ایک مشہور اردو فلموں میںسر کٹا انسان، دختر، جانان اور سیلوٹ سمیت متعدد فلمیں شامل ہیں۔ اس عمدہ اداکار نے درجنوں ڈراموں میں بھی کام کیا، ان کے چند مشہور ڈراموں میں من چلے کا سودا، فریب، غلام گردش، شہر زاد، پیاس اور دیگر شامل ہیں۔ تھیٹر کے شعبے میں بھی فن کا جلوہ دکھایا اور ان کے مشہورکھیل”جنم جنم کی میلی چادر“ میں خیام سرحدی، قوی خان اور منور سعید جیسے منجھے ہوئے اداکاروں کے ساتھ کام کیا۔ یہ جتنے اچھے فنکار ہیں، اس سے کہیں زیادہ مثبت فکر کے حامل اور وضع دار انسان بھی ہیں۔ ان کی ایک شہرت امریکی اداکار ٹام کروز سے اسکرین پر ان کی مماثلت بھی ہے اوریہ اپنے ایکشن کے لیے فلمی صنعت میں مشہور بھی ہیں ، اس لیے ہم ان کو پاکستان کا ٹام کروز بھی کہہ سکتے ہیں ۔ گزشتہ دنوں ان سے تفصیلی ملاقات ہوئی، جس میں تفصیلی مکالمہ بھی کیا، ایک طویل عرصے کے بعد انہوں نے اپنا کوئی تفصیلی انٹرویو دیا۔

پاکستانی فلموں اور ڈراموں کے معروف اداکار ۔ عجب گل
س: زندگی کے ہر شعبے میں بشمول فلم، کیوں ہم غیر سنجیدہ ہوتے جا رہے ہیں، آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟
ج: ہر کام کے لیے ادارے بنائے گئے ہیں، اگر وہ فعال ہیں، اپنا کام کر رہے ہیں ، تو ہر چیز میں سنجیدگی بھی ہوگی، لیکن وہ اپنا کام ٹھیک سے نہیں کر رہے ، تو پھر مسائل پیدا ہوں گے۔ ویسے بھی ہم اچھے نقال ہیں، دیکھ کر نقل تو کر سکتے ہیں، مگر اپنے طور پر کسی نئی راہ کا انتخاب کرنا ہمارے لیے مشکل ہونے لگا ہے۔ دیکھ کر سمجھنا اور پھر اس کو پرکھنا یہ عمل ہے، تفہیم کا کسی بھی چیز کے لیے، لیکن ہم میں سوائے دیکھ کر نقل کرنے کے اور کچھ نہیں آیا ہے، ہم ان مراحل سے ہی محروم ہیں، جن کے ذریعے شعور اور ادراک آتا ہے۔ ہم صرف دیکھنے کی سیڑھی پر رک گئے، اس سے آگے سمجھنے اور پرکھنے کی سیڑھیاں تو چڑھی نہیں، اس لیے معاملات یہ شکل اختیار کرگئے، جن پر ہم ابھی بات کر رہے ہیں کہ کس طرح تخلیق اور شعور کاعمل رک گیا۔ ہمارے ہاں چیزیں زیادہ تر الٹ ہوئی ہیں، اسی لیے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان قائم ہوئے، اب اسی طرح ہمارا جو ادارہ یامیڈیم ہے، جس میں مجھے کام کرنے کا موقع ملا، یعنی جس کو شوبز کہتے ہیں، اس کی کارکردگی خراب ہونے کے پیچھے بھی یہی وجوہات ہیں۔ پاکستا ن کے قیام کے وقت ہندوستان سے ہنرمند اور فنکار یہاں آئے، انہوں نے تھوڑا بہت کام کیا اور اپنی صلاحیتوں کو اگلی نسل تک منتقل بھی کیا، اپنے شاگردوں کی ایک پیڑھی اپنے پیچھے چھوڑی، جنہوں نے ان کے کام کو آگے بڑھایا۔ انہوں نے بھی کچھ عرصہ کام کیا، مگر پھر ساٹھ کی دہائی تک آتے آتے یہ سلسلہ رُکنے لگااور ستر کی دہائی تک آکر بالکل اختتام پذیر ہوگیا۔ فلم کی لیگسی ختم ہوگئی۔ جو چند ایک گنے چنے لوگ آئے تھے، انہوں نے کام کیا، بعد میں ہمارے شعبے میں بہت بہتر لوگ پیدا نہ ہوسکے۔ اس لیے فلمی صنعت کا تخلیقی سفر بھی متاثر ہوا۔

فلمی دنیا کے دو فنکار ۔ رانی بیگم اور عجب گل ، ایک ڈرامے کے ایک منظر میں
س: آپ تو ساٹھ اور ستر کی دہائی کے اداکار نہیں ہیں، تو آپ نے کس طرح اس صورتحال کا ادراک کیا؟
ج: اس لیے کہ میں نے تاریخ کا بغور جائزہ لیا، اس کی تہہ میں پہنچا، اس وقت جو لوگ کام کر رہے تھے، وہ اس شعبے سے کما رہے تھے، لیکن یہ ضروری تو نہیں ، جو وہاں سے کما رہا ہو، وہ اس شعبے کی خرابیوں پر روشنی بھی ڈالے، ایسا ممکن نہیں ہے۔ وہ تو اس طرح کی کوئی بھی بات ہوگی، اس کو نظر انداز کرے گا، ان خرابیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرے گا، کیونکہ وہ خود اس دور کا حصہ رہا ہوگا، جس دور کی خرابی کی بات ہو رہی ہے، اگر میں مثال دوں کہ میں نوے کی دہائی میں فلموں کا ہیرو تھا، تو اب اس دور کی جو خرابیاں تھیں تو میں ان پر بھی بات کروں گا ، لیکن یہ تو اٹل حقیقت ہے، میں اس دور کا حصے دار رہا ہوں۔ اس دور میں میرے ساتھ جو لوگ کام کر رہے تھے، میں ان کے بارے میں زیادہ بہتر بتا سکتا ہوں۔

ٹیلی وژن کے معروف اداکاروں معین اختر اورطلعت حسین سمیت دیگر کے ہمراہ
س: تو کیا بنیادی سبب تھا، جس کی وجہ سے ہماری فلمی صنعت بری طرح زوال کا شکار ہوئی؟
ج: ہم نان پروفیشنل ازم کا شکار ہوئے۔ ہماری فلمی صنعت کی گاڑی میں بیٹری خراب ہوئی ، تو ہم نے دھکے سے کام چلایا، لیکن اس کی بیٹری خراب تھی، اس خرابی کو دور کرنے کا نہیں سوچا۔یہ طریقہ دور رس حل کے لیے نہیں ، مگر ایسا ہونا نہیں چاہیے تھا۔ ہماری گاڑی اگر خراب ہوتی ہے، تو ہمارے پاس اتنے وسائل ہونے چاہییں کہ ہم اس کو ٹھیک بھی کرواسکیں یا وسائل موجود ہیں ، تو ان کا بروقت استعمال کرسکیں۔ مجھے میڈم نور جہاں کی ایک بات بہت پسند ہے، جو میں نے ان کے ایک انٹرویو میں ہی سنی، جب ان سے پوچھا گیا، سب سے زیادہ آپ کو اپنی کون سی چیز پسند ہے ، تو وہ بولیں۔
’’میرے بننے سنورنے کی جگہ، میری ساڑھیاں، میری گاڑی جو مجھے میرے کام کی جگہ تک لے کر جاتی ہے۔‘‘ ہم نے اس طرح کی چیزوں کو غیر ضروری سمجھ لیا ہے، جبکہ یہ بہت ضروری ہیں۔ ہم نے اپنے کام میں رویہ بھی غیر سنجیدہ رکھا، مسائل کا حل نہیں تلاش کیا، ان مسائل کے متبادل اختیار کرلیے، پاکستانی شائقین تو بہت بڑے دل کے لوگ ہیں، وہ تو ایک چیز ہٹ ہوجائے تو وہ اس کواسٹار بنا دیتے ہیں، فلم اور موسیقی میں دیکھ سکتے ہیں، ایک اداکار یا گلوکار کسی ایک چیز پر مقبولیت حاصل کرتا ہے، تو وہ ساری زندگی اسی کا کھاتا ہے جبکہ باہر کی دنیا میں ایسا نہیں ہے، وہاں تو ہر بار آپ کو کچھ نیا کام کرکے دکھانا ہوتا ہے۔ اس لیے ہمارے پاس سہولت تھی، ہم بہت کام کرسکتے تھے اور معیار کو بھی بہتر کرسکتے تھے۔

دورحاضر کے معروف فنکاروں حمزہ علی عباسی اور مہوش حیات کے ساتھ
س: اب کہا جا رہا ہے، پاکستانی فلمی صنعت کی بحالی ہو رہی ہے، ریوائیول ہو رہا ہے، سنہری دور واپس آنے کو ہے، آپ کیا کہتے ہیں؟
ج: سینما کی بحالی کی یہ کہانی تو گزشتہ تیس پینتیس برس سے میں بھی سن رہا ہوں، لیکن میری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کیسی بحالی ہے، جو ہوکر ہی نہیں دے رہی، تین دہائیاں تو مجھے یہ باتیں سنتے ہوئے ہوگئیں۔ میں نے جب پاکستانی فلمی صنعت میں کام کرنا شروع کیا، تب سے میں سن رہا ہوں اور ابھی تک یہ بحالی کا سلسلہ ختم نہیں ہوا۔ بحالی تو ایک بار ہوتی ہے، ٹرین پٹٹری سے اترے تو اس کو دوبارہ اس کے ٹریک پر چڑھا دیا جاتا ہے اور بس، یہ کون سا راستہ ہے، جس سے ہم بے دخل ہوگئے اور اب ہماری واپسی اور بحالی نہیں ہو پارہی۔ مجھے تو لگتا ہے کہ سینما کے ریوائیول کاترجمہ کچھ غلط ہوگیا ہے، بحالی کے لیے اتنا وقت تو درکار نہیں ہوتا، جتنا اس میں صرف ہوگیا ہے۔

معروف اداکارہ صائمہ کے سنگ فلم کے ایک منظر میں
س:آپ کی نظر میں بحالی کی ضرورت اگر ہے بھی تو اس کے لیے کیا اقدامات ہونے چاہییں؟
ج: ہمیں دو چار اچھی فلمیں بنانے کی ضرورت ہے، اس سے یہ سلسلہ چل پڑے گا، آج موجودہ سینما کی جو شکل بنی ہے، وہ ایسے ہی چند ایک معیاری فلمو ں کے بننے سے بنی ہے۔ اچھی اور سپرہٹ فلم کا تو کوئی فارمولا طے نہیں ہے، اگر ایسا ہوتا تو ہالی ووڈ میں جیمز کیمرون کبھی کوئی ناکام فلم نہ بناتا اور نہ ہی ہم اور آپ بنائیں گے۔ یہ فارمولا صرف اور صرف ناظرین کے پاس ہے کہ وہ کیا دیکھتے اور پسند کرتے ہیں۔ ان کے ذوق کے مطابق فلم بنائیں، وہ ضرور پسند کریں گے۔
س: اس کا مطلب تو یہ ہوا، فلم کے ناظرین بھی ذمے دار ہیں فلمی صنعت کی تباہی کے، کیونکہ انہوں نے اپنی پسند اور ناپسند کے ذریعے فلمی صنعت کا توازن بگاڑا؟
س: ایسا نہیں ہے، کیونکہ انہوں نے تو پینتیس سال پہلے کہہ دیا تھا کہ ہمیں ایسی فلمیں نہیں دیکھنی، جو بنائی جارہی تھی۔ ستر کی دہائی میں جب بری فلمیں بننا شروع ہوئیں ، خاص طور پر پنجابی فلمیں ، تو پھر فلمی صنعت نے متاثر ہوتا تھا اور ناظرین نے ان کو مسترد بھی کرنا تھا۔ ستر کے عشرے میں بدمعاشی کے رویے کو ایک موضوع کے طور پر اپنا لیا گیا۔ کئی طرح کے مافیا فلمی صنعت میں شامل ہوگئے اور انہوں نے اپنے کالے دھن کو سفید کرنا شروع کیا۔ چھوٹے چھوٹے مافیاز، جنہوں نے اس صورتحال کو خراب کیا۔ مثال کے طور پر سلطان راہی، جو بہت عمدہ انسان تھے، لیکن وہ اپنے ابتدائی فلمی دور میں عام سے ایکشن کردار کیا کرتے تھے، لیکن پھر ان کو ہیرو بنا دیا گیا، یہ ہیرو شپ پاکستانی سینما میں بغاوت کے طور پر ابھری، وہ لوگوں کو بھاگئی، وہ زمانہ ایسا تھا، عوام بھی پریشان تھے، انہوں نے اس کو بغاوت کے استعارے کے طور پر لیا، اس طرح یہ فلمیں فروغ پانے لگیں۔
ماحول ایسا خراب ہوا کہ ہمارے اچھے اچھے اداکار گھر بیٹھ گئے، جیسے محمد علی اور ندیم جیسے اداکار شامل ہیں۔ اس ماحول میں فنانسرز اور پیسہ لگانے والوں نے اس میں کھیلا اور اپناپیسہ وصول کیا، جس میں نقصان صرف فلمی صنعت کا ہوا۔ ہمارے ہاں ستر کی دہائی سے دو ہزار تک کے دور کو فلم کا سنہری دور بھی سمجھا جاتا ہے، میری نظر میں یہ بدترین دور تھا۔ پاکستانی فلمی صنعت اس دور میں برباد ہوگئی، البتہ میوزک بہت اچھا تھا، پنجابی فلموں کی جان وہی میوزک تھا، چند ایک فلمیں اچھی بھی بنیں لیکن تناسب منفی ہی رہا البتہ پنجابی فلموں کے میوزک کی تعریف نہ کرنا ناانصافی ہوگی، اسی پر کئی فلمیں ہٹ بھی ہوئیں۔

میزبان اور مہمان کی یادگار تصویر
س: موجودہ فلمی صنعت پر ڈرامے کی چھاپ بھی ہے، اس پر آپ کی کیارائے ہے، آپ نے بھی ٹیلی وژن اور فلم دونوں میڈیم میں کام کیا؟
ج:جی ہاں میں نے راشد ڈار، نصرت ٹھاکر، یاور حیات، اشفاق احمد، اصغر ندیم سید اور دیگر کے ساتھ کام کیا، تو جب میں ان سے کام کرکے فلمی صنعت میں آیا ، تو مجھے ایک خلا محسوس ہوا، میں فلم کے شعبے میں اس لیے مطمئن نہیں تھا۔ میں سوچتا تھا، میں خود کوئی ایسا کام کروں، میں خدا سے دعا کرتا تھا، مجھے کوئی موقع ملے، تو پھر یہ ہوا کہ میں نے یکے بعد دیگرے دو فلمیں، کھوئے ہو تم کہاں، کیوں تم سے اتنا پیار ہے، بنائیں پھر جاوید شیخ کی فلم یہ دل آپ کا ہوا اور شعیب منصور کی فلم’’خدا کے لیے‘‘ بنیں، ان فلموں نے پاکستانی فلمی صنعت کی صورتحال بدل دی۔ یہ سب فلمیں بہت مقبول ہوئیں، ان فلموں نے فلمی صنعت لاہور سے اکھاڑ کر کراچی والوں کو دے دی، کراچی والوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ یہ فلمی صنعت کراچی مرکز کو یونہی منتقل نہیں ہوئی، ان فلموں کی وجہ سے یہ اہمیت ملی اور یہ مقام انہوں نے خود سے حاصل نہیں کیا بلکہ ان کو دیا گیا، ہم جیسے فلم سازوں نے ان کے لیے ماحول سازگار بنایا، اردو فلمیں بنائیں۔
اس صورتحال میں واضح تبدیلی آئی اور معاملات بہتر ہوئے، کیونکہ لاہور کے پنجابی انداز کے فلم سازوں نے جب قومی زبان میں فلمیں بنانے کی کوشش کی توان سے نہیں بنیں اور یوں صورتحال اردو والوں کے حق میں ہوگئی اور کراچی فلم کا مرکز بن گیا، مگر اب بھی کراچی والوں کو فلم بنانے نہیں آرہی، ہم اگر فلمیں نہیں بنارہے تو اس کا مطلب نہیں کہ ہم مرگئے، ہم بھی یہیں ہیں۔ ہم نے کام کیا، میں اپنے کام سے ریٹائر نہیں ہوا، آج بھی میں اپناکام کر رہا ہوں، اب کراچی والے اچھی فلمیں بنائیں، فلم بنانے کی تکنیک سیکھیں۔ فلم کے تمام مراحل کو سیکھیں، تاکہ آپ باقاعدہ طور پر سے فلم بنائیں، فلم کے موڈ کو سمجھیں ، اس کے مطابق کام کریں، لیکن اب یہ جیتی ہوئی بازی ہار رہے ہیں، کیونکہ ان کا تجرباتی دور ختم ہی نہیں ہو رہا، اتنے عرصے سے فلم کی بحالی کا نعرہ ہی لگ رہا ہے۔ سال میں تیس فلمیں ریلیز ہوتی ہیں اور اگر ایک فلم ہٹ ہوجاتی ہے تو اس میں کیا کمال کیا ہے۔

عجب گل اپنی مختلف فلموں کے مناظر میں دیگر فنکاروں کے ہمراہ
س: گزشتہ پانچ دس سال میں جو فلمیں بنی ہیں، آپ کو ان میں سے کون سی فلم یا کسی ہدایت کار کا کام پسند آیا؟
ج: میں نے اس عرصے میں ایک بھی فلم نہیں دیکھی۔ میں یہ بات حلفیہ کہہ رہا ہوں مگر میں فلمی صنعت کی صورتحال سے اس لیے واقف ہوں کیونکہ میں نے عوام کی رائے اور ردعمل کوسنا اور دیکھا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ فلمی صنعت کس روش پر ہے اور کس طرح کا کام ہورہا ہے۔زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو والی بات ہے۔اس کے علاوہ ایک بات اور جوقدرے بہترفلم ہوتی ہے، اس کی خوشبو ہی الگ ہوتی ہے، پتہ چل جاتا ہے۔
س: اس کا مطلب یہ ہوا، ہم جو جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہو رہے ہیں، نئی نسل کے ہنرمندوں میں بہت سارے فلم سازی کی تعلیم حاصل کرکے اس شعبے میں قدم رکھ رہے ہیں، ان سب چیزوں کے باوجود معاملہ ادھورا ہے؟
ج: جی ہاں، مشین نے سب کچھ نہیں کرنا ہوتا، انسانی دماغ کا استعمال بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ ذہنی استعمال اور تخیل کا بھی کام ہوتا ہے، ان کے پاس مشینیں تو ہیں لیکن ان کے مقصد سے واقف نہیں ہیں۔ اپنے راستے کا تعین خود کرنا پڑتا ہے، جس طرح میں نے اپنے راستے کا تعین کیا، اسی طرح کام کر رہا ہوں۔ معاشرے میں توبہت عجیب سی تبدیلیاں ہو رہی ہیں، میں تیس چالیس سال پہلے اپنے لڑکپن میں سوچتا تھا ، معاشرہ بہت مثبت ہوگا، سماج معاشی ترقی کرچکا ہوگا، فلمی صنعت اپنے دور عروج پر ہوگی، اس طرح کی بہت ساری باتیں سوچا کرتا تھا، لیکن آج دیکھتا ہوں ، سارا منظرنامہ ہی منفی ہے۔ اتنا طاقتور میڈیا اس ملک میں آگیا، لیکن انہوں نے کیا کیا، معاشرے کی شکل کیا ہوگئی، سب طرف خرابی ہے، یہ بہت بری صورتحال ہے، ضروری نہیں ہے، جس طرح ہم سوچتے ہیں، سب کچھ ویسا ہی ہو۔ میں بھی اپنی امیدوں اوراندازوں میں غلط ثابت ہوا۔
اب تو ملک میں عجیب صورتحال ہے،اب دیکھیں قصور میں بچوں کی جنسی زیادتی کے واقعات ہیں اورمسلسل ہورہے ہیں ،آخرکار اسی علاقے میں ایسا کیوں ہو رہا ہے، کوئی اس پر سنجیدگی سے ایکشن کیوں نہیں لیتا۔ مجھے کچھ دن کے لیے پولیس کے اختیارات دے دیں، چاہے و ردی اور میڈل نہ دیں،پھر بھی میں ضمانت دیتا ہوں کہ میں اس معاملے کی تہہ تک پہنچ جاؤں گا اور اس سے متعلقہ مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچائوں گا۔ میں بیوقوف نہیں ہوں، سب زمینی حقائق سامنے رکھتے ہوئے یہ بات کر رہا ہوں۔ جن کی نیت ٹھیک ہوتی ہے تو ان کے کام بھی ٹھیک ہوجاتے ہیں۔
س:اس تمام صورتحال اور آپ کی اس گفتگو کے تناظر میں ہم کیا سمجھیں کہ فی الحال پاکستانی فلمی صنعت کا مستقبل روشن نہیں ہے ؟
ج: بہتری کے لیے ضروری ہے، ہم انتظامی طور پر ٹھیک ہوں، اپنی غلطیوں کونہ دہرائیں اور نیت ٹھیک رکھیں۔ اب اگر اس طرح رویہ تبدیل ہو جاتا ہے تو سب ٹھیک ہوتا چلا جائے گا۔
س: اب تک کی آخری کون سی فلم ہے، جس میں آپ نے کام کیا؟
ج: فلم ساز شہزاد رفیق کی فلم’’سیلوٹ‘‘تھی، جو ایک بچے اعتزاز حسن کی قربانی پر بنائی گئی، اس نے کس طرح بہادری سے اپنے اسکول کو خود کش بمبار سے بچایا، اپنی زندگی اس مقصد کے لیے قربان کردی۔اس فلم میں صائمہ اورمیں نے ساتھ کام کیا تھا۔

عجب گل کا ساتھی اداکاروں کے ہمراہ ایک انداز
س: کیا ضروری ہے، پاکستان میں بڑے بجٹ کی فلمیں بنائی جائیں ، تو ہی فلمی صنعت کی ترقی ہوگی، چھوٹے بجٹ کی فلمیں بنائی جائیں اور ایسے مسائل اور موضوعات پر کام کیا جائے جن کا تعلق عوام کی روز مرہ زندگی سے ہے ، تو کیا یہ نہیں ہوسکتا، جس طرح ہندوستانی سینما میں ہوتا ہے، وہ اپنے مسائل پر چھوٹے بجٹ کی بہترین فلمیں تخلیق کرتے ہیں، کیا کہتے ہیں، آپ تو خود پروڈیوسر اور ہدایت کار بھی ہیں۔
ج: بالکل بن سکتی ہیں، میں نے اردو کے ساتھ ساتھ پشتو فلمیں بھی بنائیں، ان سب کے بجٹ محدود تھے، لیکن پھر بھی انہیں کامیابی ملی۔ بجٹ وقت کے ساتھ ساتھ پھیل گیا ، لیکن فلم قابو میں نہیں آئی، ساٹھ ستر لاکھ روپے میں تو اب پشتو فلم بنتی ہے، ہم نے اس میں بھی کمایا ہے، اس میں کوئی ساؤنڈ ڈیجٹیل نہیں ہے، کوئی گرافکس نہیں ہے، عام سی فلم ہوتی ہے، آپ جن فلموں کی بات کر رہے ہیں تو تمام جدید لوازمات پورے کرنے پڑتے ہیں، چاہے وہ ڈائریکشن ہو، لائٹنگ ہو یا ڈیجیٹل تھیٹر سائونڈ وغیرہ ہوں۔ پاکستانی فلمی شائقین اب ان سب پہلوئوں سے واقف ہیں، اس لیے ہماری فلمیں تو ان کے سامنے کچھ بھی نہیں ہیں، یہ ایک حقیقت ہے۔ انڈیا میں جب ہماری فلمیں نمائش کے لیے جاتی ہیں تو وہ بہت ہلکی محسوس ہوتی ہیں۔

فلاحی سرگرمیوں میں بھی کوشاں
س: تو کیا انڈیا کی فلمیں پاکستان میں نمائش کے لیے لگنی چاہییں ؟ اب انڈین فلموں پر پابندی ہے، تو جو جدید سینما بنائے گئے ہیں، ان کا کیا ہوگا؟ پاکستانی سینما میں توابھی تسلسل نہیں ہے ، اس حوالے سے کیا کہتے ہیں؟
ج: ان جدید سینماؤں کو بنایا ہی انڈین فلموں نے ہے، ان کی وجہ سے تو یہ سینما بنائے گئے تاکہ لوگ آکر وہ فلمیں دیکھیں گے، پاکستانی فلم تو ابھی کہیں ٹک نہیں رہی کہ اسے جانا کس طرف ہے۔ انڈین فلمیں آج نہیں تو کل یہاں لگنی ہیں۔ اب تو ویسے ہی انٹرنیٹ پر سب کچھ آگیا ہے۔ کسی چیز کو کب تک روکا جاسکتا ہے۔ ہمارے فلم والے پہلے روتے تھے کہ سینما پرہماراپرائم ٹائم انڈین فلموں کو مل جاتا ہے۔ اب تو وہ غائب ہیں، سارا وقت آپ کا ہے، پھر بھی آپ کی اپنی کوئی پاکستانی فلم نہیں ٹک رہی، تو بہانے بازی کی بجائے حقائق کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
س: انڈیا کے ساتھ مشترکہ فلم سازی ہونی چاہیے ؟
ج: انڈینز نہیں کریں گے کیونکہ ان کی مارکیٹ بہت بڑی ہے، پوری دنیا میں ان کی فلم لگتی ہے، وہ ہم جیسی چھوٹی صنعت کے ساتھ کیوں برابری کی سطح پر یا مشترکہ فلم سازی کریں گے، اس میں ان کا نقصان ہے۔ وہ ہمیں اپنے اتنے بڑے نفع میں کبھی شریک نہیں کریں گے، انہوں نے بڑی محنت کرکے اپنی فلموں کی مارکیٹ بنائی ہے، راج کپور اپنی فلموں کے پرنٹ اٹھا کر ایسے ایسے ملکوں میں لے کر گیا، جہاں سے ایک پیسہ انہیں ملتاتھا،پھر بھی وہ فلم لگاتے تھے، اس طرح انہوں نے دنیامیں اپنی فلم کے لیے گنجائش پیدا کی۔ ان کے ہاں ہمارے اداکار جاکر کام کریں، یہاں تک توٹھیک ہے، بلکہ ان کو بھی یہاں مدعو کریں کام کے لیے، موسیقی کا تبادلہ کریں، یہ کوئی بری بات نہیں ہے۔

عجب گل کا ساتھی فنکاروں کے سنگ ایک اور انداز
س: فلم اور ٹیلی وژن کااداکار الگ الگ ہوتاہے؟
ج:جی ہاں، فلم کے لوگ الگ ہوتے ہیں، آپ پڑوسی ملک کے اداکار امیتابھ بچن کی مثال لے لیں، ساری زندگی فلموں میں ہی کام کیا، اسی طرح کئی اور اداکار ہیں، ہمارے ہاں ندیم بیگ نے اب اپناخرچہ چلانے کے لیے ٹیلی وژن کا کام شروع کر دیا ، ورنہ وہ صرف فلم کا کام کرتے تھے، انہوں نے کبھی ٹیلی وژن کی طرف دیکھا بھی نہیں تھا۔ محمد علی روشن مثال ہیں، انہوں نے کبھی ٹیلی وژن کے لیے کام نہیں کیا، ایسی بہت ساری مثالیں ہیں۔ہمارے ہاں ٹیلی وژن والوں نے فلم والوں کے ساتھ بڑی ناانصافی کی، دوسروں کی بنائی ہوئی فلموں پر اپنے چینلوں کے ٹھپے لگا کر آگے بھیج دی، اس میں زیادہ فلمیں چل بھی نہ پائیں ، اس لیے ان کی یہ والی حکمت عملی ناکام ہوگئی، اب تو ٹی وی والے جتنا بھی اپنے چینل سے دکھالیں کہ فلاں فلم معیاری ہے، ضروری نہیں ہے کہ شائقین ان کی باتوں پر کان دھریں، وہ ان کی اصل حقیقت سے واقف ہوچکے ہیں۔
س: آپ نے بطور فلمی ہدایت کار اپنے کیرئیر کا آغا ز ’’کھوئے ہو تم کہاں‘‘ فلم سے کیا، کیسا تجربہ رہا؟
ج: میرے لیے تو بہت اچھا تجربہ رہا۔ میری ہدایت کاری میں بننے والی پہلی ہی فلم کو اس قدر پذیرائی ملی، یہ میرے لیے واقعی بہت خوشی کی بات تھی۔ میں خود بھی دل سے چاہتا تھا ، ایک اچھی فلم بناؤں، یہ بات ذہن میں رکھتے ہوئے میں نے فلم بنائی، وہ ہٹ ہوگئی۔ میں نے بطور ایکشن ہیرو تو کام کیا، لیکن اپنی ہدایت کاری میں رومانوی سینما کو ترجیح دی۔ نئے آوازوں کو بھی تلاش کیا، جس طرح موسیقار زین ایک مثال ہے ، جس نے میری فلموں میں بہت اچھے گانے گائے، سامعین نے ان کو بے حد پسند کیا۔ یہ الگ بات ہے کہ زین پھر الگ راستے پر چل نکلا،میں نے اس کو بہت سمجھایا مگر اس سے شہرت سنبھالی نہ گئی۔
س: آپ کو فلمی صنعت میں کون لایا، کیسے آمد ہوئی؟
ج: میرے استاد کا نام’’ممتاز علی خان‘‘ ہے، جن کی بدولت میں فلمی صنعت میں وارد ہوا۔ پشتو سینما کے بہت بڑے فلم ساز، جنہوں نے مشہور زمانہ اردو فلم ’’دلہن ایک رات کی‘‘ بھی بنائی تھی، پھرا ن کی دیگر مشہور فلموں میں درہ خیبر، یادوں کی بارات، راکا، ڈاکو کی لڑکی، گہرے زخم، میری دشمنی، باغی قیدی اور ایسی کئی فلمیں ہیں، انہوں نے مجھ سمیت کئی فنکاروں کو فلمی صنعت میں متعارف کروایا، جس طرح بدر منیر، اسماعیل شاہ، ہمایوں قریشی، نعمت سرحدی اور کئی لوگوں کو فلمی صنعت میں متعارف کروایا۔ میری پہلی فلم’’قیامت سے قیامت تک‘‘ بھی انہی کی فلم تھی۔
س: آپ کیا معاشرے سے اور پاکستانی فلمی صنعت سے ناراض ہیں، ایک طویل عرصے سے آپ کو کہیں مصروف عمل نہیں دیکھا، آپ منظر سے ہٹے ہوئے کیوں ہیں؟
ج: معاشرے سے ناراض نہیں ہوں ، لیکن ہاں، فلمی صنعت سے ضرور ناراض ہوں۔ میری ناراضگی اسی دن شروع ہوگئی تھی، جس دن میری سوچ کے مطابق مجھے کام ملنا بند ہوگیا تھا۔ وہ میری ناراضگی ہی تھی کہ میں نے سوچا کہ خود ایسا کام کر کے دکھاؤں جو مجھ میں صلاحیت ہے، میرے اداکاری اور فلم سازی کے تمام منصوبے اور کام ریکارڈ پر ہے۔
نوے کی دہائی میں فلمی صنعت سے فاصلہ کرلیا تھا۔ افضال صاحب نے تھیٹر کے ڈرامے’’جنم جنم کی میلی چادر‘‘ کے لیے مجھے بلایا ، ساڑھے تین سال ایک ہی کھیل مسلسل چلتا رہا، یہ بھی ایک ریکارڈ ہے۔ اس میں ہمارے ساتھ خیام سرحدی، قوی خان، منور سعید، صبا پرویز اور دیگر بھی موجود تھے۔میں نے تھیٹر کا ورلڈ ٹوئر بھی کیا، پھر وہیں مجھے ایک جگہ میرے پروڈیوسر ملے، یوں میں نے ان کے ساتھ مل کر دو فلمیں بنائیں اور ان سے اجازت لے لی کہ مزید فلمیں فی الحال نہیں بناؤں گا۔ اردو فلموں کے بعد پشتو فلمیں بنائیں۔ اس صنعت میں بھی کام کیا اور اس میں بھی کامیابیاں ملیں۔ میرے نصیب میں جوہے، وہ مجھے ملتا ہے، میں نے کسی سے کام نہیں مانگا، مجھے ہمیشہ بلایا جاتا ہے تو ہی میں کام کرتا ہوں، یہ مجھ پر اللہ کی رحمت ہے۔

پاکستان کے ٹام کروز ایک فلم کے منظر میں
س: آپ نے اداکاری کے کیرئیر کی ابتدا کہاں سے کی، کچھ تفصیلات ہمارے قارئین سے شیئر کیجیے۔
ج: 1984 میں پہلا ڈراما سیریل’’موسم‘‘ تھا، جو میں نے پی ٹی وی، پشاور مرکز کے لیے کیا تھا۔ اس کے ہدایت کار جہانزیب سہیل تھے۔ یہ وہ زمانہ ہے، جب میں اپنی تعلیم سے فارغ ہوا تھا، میں نے پشاوریونیورسٹی سے پشتو زبان میں ماسٹرز کیا تھا۔ 1975 سے ساتھ ساتھ مارشل آرٹس بھی کررہا تھا۔ مجھے بنیادی طور پر لکھنے کا شوق تھا، وہ کہانی لے کر میں ٹی وی پر گیا، وہاں انہوں نے مجھے اداکاری کی طرف لگا دیا، بس پھر کام چل نکلا۔ یہی وہ پہلا کھیل تھا ’’موسم‘‘ اور جہانزیب سہیل مجھے اداکاری کی طرف لے آئے۔ پشاور مرکز سے میرا آخری کھیل تین کبوتر تھا، جو ڈاکٹر ڈینس آئزک کا لکھا ہوا۔ یہ 1986 کا سال تھا، اس کھیل کو دیکھا لاہور مرکز پر مستنصر حسین تارڑ اورراشد ڈار نے، انہوں نے مجھے پھر مزید کام کرنے کا موقع دیا۔ ان کا ڈراما سیریل ’’سورج کے ساتھ ساتھ‘‘ تھا جس میں خیام سرحدی، عابد علی، ظل سبحان اور ان کے ساتھ جونیئر اداکاروں میں سونیا، ولید اقبال اور میں تھا، اس طرح میری لاہور سے کام کی ابتدا ہوئی، پھر نصرت ٹھاکر صاحب کا ڈراما سیریل’’پیاس‘‘ ملا، جس کے مصنف اصغر ندیم سید تھے۔ اس کے بعد پھر پہلی فلم’’قیامت سے قیامت تک‘‘ ملی۔ لکھنے کا کام بھی کیا، اپنی دونوں فلمیں جو میں نے ڈائریکٹ کیں، وہ بھی خود ہی لکھیں۔
س: آپ کے مداح کس طرح آپ سے رابطہ کرسکتے ہیں، کوئی طریقہ ؟
ج: سوشل میڈیا یعنی فیس بک پر میری صرف ایک ہی آئی ڈی ہے ، جو میری ہے، وہ’’عجب گل آفیشل‘‘ ہے، باقی سب جعلی ہیں، ان پر بالکل ایڈ نہ ہوں۔ ان پر بھروسہ نہ کریں۔ آپ سب کا بہت شکریہ ،مجھے ہمیشہ اتنی محبت دیتے ہیں۔