تعارف
آپ بھارت میں اترپردیش کے ایک نواحی علاقے بارہ بانکی میں 20 جولائی 1950 کومسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کا آبائی علاقہ میرٹھ کے قریب سردھانا ہے۔ والد فوجی افسر تھے۔یہ تین بھائیوں میں سے یہ سب سے چھوٹے تھے۔ان کی ابتدائی تعلیم نینی تال کے علاقے میں ہوئی۔1971 میں انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے آرٹس میں گریجویشن کیا اوردہلی میں نیشنل اسکول آف ڈراما میں داخلہ لے لیا۔ وہاں سے فارغ التحصیل ہونے کے بعدبھارتی فلمی صنعت میں قدم رکھا ۔ فلموں کے ساتھ ساتھ تھیٹر کے لیے بھی اداکاری جاری رکھی۔ بالی وڈ کے علاوہ ہالی وڈ اور لالی وڈسمیت بھارت کی مختلف زبانوں میں بننے والی فلموں میں بھی کام کیا۔ نصیرالدین شاہ کے بڑے بھائی ضمیر الدین شاہ فوج میں اعلیٰ عہدے پر ملازم رہے،اس کے علاوہ علی گڑھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی ہوئے تھے۔ان کا بھتیجاسلیم شاہ بھی ٹیلی وژن اورفلم کا اداکار ہے۔ پاکستان کے مقبول اداکار سید کمال ان کے ماموں تھے۔ انہوں نے دو شادیاں کیں۔ پہلی بیوی کانام مانارا سیکری تھا،ان کے انتقال کے بعد دوسری شادی رتنا پھاٹک سے کی،جو خود بھی اداکارہ ہیں۔ نصیرالدین شاہ کی ایک بیٹی اوردو بیٹے ہیں۔ ان کا تعلق بھی اداکاری کے شعبے سےہے۔ نصیرالدین شاہ نے تقریباً 250 فلموں میں کام کیا۔ یہ 60 کی دہائی سے فن اداکاری سے وابستہ ہیں، مگر انہیں شناخت کئی برس کے بعد حاصل ہوئی۔ وہ خود بھی کہتے ہیں ، میں نے کئی ایسی فلموں میں بھی کام کیا، جنہیں فلم بینوں نے بھی توجہ نہ دی۔ ان کی پیشہ ورانہ زندگی میں دو فلمیں ایسی بھی ہیں، جن میں انہوں نے مختصر کردار کیا، مگر فلم کے اداکاروں کی فہرست میں ان کانام شامل نہیں کیاگیا۔ ان کی یہ ابتدائی دور کی فلمیں ہیں۔ پہلی فلم، جس کا نام”امن“تھا۔1967میں بنی اوردوسری فلم”سپنوں کے سوداگر“تھا، جس کو 1968 میں نمائش کے لیے پیش کیاگیا، پھر 1972 میں ایک فلم”آن بان“میں بھی انہوں نے اداکاری کی۔ 1975 میں ان کی فلم”نشانت“ریلیز ہوئی، جس سے یہ باقاعدہ فلمی دنیا سے متعارف ہوئے، ورنہ اس سے پہلےتھیٹر کی اداکاری تک محدود تھے۔ یہ خود بھی اپنی اسی فلم کو باقاعدہ پہلی فلم مانتے ہیں۔ ایک عرصے تک گوشہ گمنامی میں تھے،ان کو باقاعدہ کامیابی فلم”معصوم“سے ملی۔نصیرالدین شاہ کی دیگر فلموں میں جنون، سُنینا، آکروش،بے قصور، خواب، ہم پانچ، کنہیا، چکرا، امراؤجان ادا، بازار، ستم، جانے بھی دو، خطا، معصوم، وہ سات دن، پار، موہن جوشی حاضر ہو، ہ ولی، غلامی، خاموش، کرما، جلوہ، اجازت، ہیروہیرالال، دل آخر دل ہے، سوامی دادا، شامل ہیں۔ اس فہرست میں جو مزید فلمیں ہیں، ان میں دل آخر دل ہے، حادثہ، مان مرادھا، گدھ، بہو کی آواز، مثال، شرط، اک پل، مرچ مسالحہ، یہ وہ منزل تونہیں،مالامال،لباس،کھوج،پناہ،چمتکار،بے دردی،مہرہ، چاہت،ڈھونڈتے رہ جاؤگے،سرفروش،ہے رام،بھوپال ایکسپریس،مجھے میری بیوی سے بچاؤ،مقبول،میں ہوں نا،پہیلی،اقبال،کرش،اوم کارہ، دس کہانیاں،فراق، آ وینس ڈے،پیپلی لائیو،زندگی نہ ملے گی دوبارہ،عشقیہ،راج نیتی، دی ڈرٹی پکچر،چالیس چوراسی،زندہ بھاگ،ڈیڑھ عشقیہ ودیگر ہیں۔ نصیر الدین شاہ کی مزید فلموں میں فائنڈنگ فنی، خاصی کتھا، ڈرٹی پولیٹکس، ویلکم بیک، چارلی کے چکر میں، ویٹنگ، تیراسرور کے ساتھ ساتھ کچھ اور اہم فلموں میں مینگوڈریمز، ارادہ، جیون ہاتھی، گرداب، بیگم جان،اوکے جانو،دی ہنگری،ہوپ اورہم،دی تاشکنت فائلز،رام پرساد کی تیرہویں،می رقصم اورگہرائیاں سمیت دیگر فلمیں شامل ہیں۔ انہوں نے شعیب منصور کی فلم”خدا کے لیے“ اور نوجوان ہدایت کاروں ”مینو“اورفرجاد نبی“ کی فلموں میں بھی اداکاری کی۔ کراچی اورلاہور میں اپنی تھیٹر کمپنی’’موٹیلی تھیٹر‘‘کے ذریعے اب تک کئی ڈرامے پیش کرچکے ہیں۔ نصیرالدین شاہ کی اس ناٹک کمپنی کو بے حد پسند کیاگیا، جن کاانداز داستان گوئی والاتھا،جس میں ایک یا دوکرداروں کے ذریعے کہانی بیان کی جاتی ہے۔اس موقع پر نصیرالدین شاہ صاحب نے خرم سہیل سےخصوصی گفتگو کی تھی۔ پاکستان میں انہوں نے معدودے چند ہی ایسے تفصیلی مکالمات کیے ہیں۔یہ خصوصی گفتگوپیش خدمت ہے۔

اردو سینما کے عہد ساز بھارتی اداکار ۔ نصیر الدین شاہ
سوال:آپ نے اپنے پیشہ ورانہ کیرئیر میں اب تک اتنے کردار اداکیے ہیں، ان میں کہیں حقیقی نصیرالدین شاہ گم تو نہیں ہوگیا؟
جواب:اس سوال کا جواب میں ایک جملے میں نہیں دے سکتا۔وہ سارے کردار جنہیں میں نے اداکیا،ان کو کامیابی ملی اوربہت سارے ناکام بھی ہوئے،ان سب کرداروں میں کہیں نہ کہیں میری ذات کے وجود کاحصہ بھی شامل ہے۔آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی ،مجھے اپنی زندگی سے قریب ترین کردار جو لگتاہے،وہ فلم’’نشانت‘‘کاکردار ہے۔یہ ’’شیام بینگل‘‘کے ساتھ میری پہلی فلم تھی۔اس فلم میں میراکردار ایک زمیندار گھرانے کے سب سے چھوٹے بھائی کاہے،جو تھوڑا بیوقوف بھی ہے ،کیونکہ کم عمر ہونے کے باوجود وہ ایک شادی شدہ عورت پر فداہوجاتاہے۔
یہ صورتحال میرے لیے بالکل اجنبی نہیں تھی ،کیونکہ میں اپنے خاندان میں بھی تین بھائیوں میں سب سے چھوٹاتھا۔ہمیشہ بیوقوفیاں کیاکرتاتھا۔اس لیے میں اس کردار کے ساتھ اپنے آپ کو جوڑ سکتاہوں۔یہ میری پیشہ ورانہ زندگی کا پہلافنکارانہ مظاہرہ تھا،جس پر مجھے ہمیشہ فخر رہا۔یہ فخر اس لیے نہیں کہ یہ میری پہلی فلم تھی اورمیں اس سے جذباتی طورپر وابستہ تھا،بلکہ اس فلم میں کام کرنے سے پہلے پانچ سال تک میں’’ نیشنل اسکول آف ڈراما‘‘سے جو کچھ سیکھاتھا،اس تجربے کواس فلم میں دکھانے کا موقع ملا۔میں نے اس بات کو بھی سمجھا کہ کوئی بھی کردار باہر سے متصور نہیں کیاجاتا،میں اس طرح بھی نہیں سوچتاکہ آپ کے ذہن میں کسی کردار کی تصویربنے ،پھروہ حقیقت میں ڈھالی جائے۔کوئی بھی کردار جو آپ کو دیا جائے،اس کو اپنے اندر کھوجناچاہیے ،وہ یقیناً وہیں ملے گا،کیونکہ ہر ایک کے اندر ہر طرح کا انسان ہونے کی گنجائش ہوتی ہے۔

نصیرالدین شاہ کی زندگی کی مختلف جھلکیاں
سوال: پہلے آپ نے بات کی باہر سے متصور کرنے کی اور اب اداکار کواپنے اندر سے ہی کردار کھوجنے کے مشورہ ،کیا دونوں باتیں ایک دوسرے سے متصادم نہیں ہیں؟
جواب:نہیں۔یہ دونوں ایک جیسی باتیں ہی ہیں،لیکن میں یہ کہہ رہاہوں کہ تصورکے زور پر کچھ تخلیق کیاجائے،یہ ضروری بھی نہیں۔تصور کی صلاحیت کو قدم بہ قدم استعمال ہونا چاہیے ،آپ کے اندر کے کردار کو نبھانے کے لیے،جس کا سراغ آپ نے اپنے اندر سے ہی لگاناہوتاہے۔کردار کو واضح اور غیر واضح کرنے کے لیے اس طریقے سے خود کو اس سے جوڑ نا ہوتاہے۔تصور اور مشاہدہ ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔یہ دونوں اپنی جگہ اہم ہیں اوردونوں ہی آپ کے کام بھی آتے ہیں،لہٰذا کچھ حقیقی مثالوں کاحوالہ دیاجاسکتاہے،مگر کسی بھی کردار یافنکاری کو کسی حقیقی واقعہ سے جوڑ دینے سے میں اتفاق نہیں کرتا۔

پیررل سینما میں کام کرنے کے باوجود ، جدید سینما کے بدلتے ہوئے تقاضوں کو بھی نصیرالدین شاہ نے نبھایا
سوال:آپ نے کہا، اپنے خاندان میں آپ سب سے چھوٹے اور بیوقوف بھائی تھے،پھر اسکول میں ہم جماعتوں میں بھی سب سے پیچھے رہ جاتے تھے،شاید آپ کو لگتاتھا اورکچھ نہیں ہوسکتا،تو آپ نے اداکاری کرنے کا فیصلہ کیا،آپ کے خیال سے اداکاری اتناآسان کام ہے؟
جواب:شروعات تو بہت غیر یقینی کیفیت سے دوچار تھی۔میرے دوبھائی تھے،ایک پڑھائی میں تیز تھا،دوسرا کھیلوں میں ماہر تھا۔دونوں دراز قد اوروجیہہ شخصیت کے مالک تھے،جبکہ میں کسی بھی چیز میں ٹھیک نہ تھا۔اس لیے مجھے یہ کہیں نہ کہیں لگتاکہ میری ذات میں غیر مطمئن ہونے کااحساس حاوی تھا۔یہ وہ درد تھا،جس کی دوا مجھے اداکاری کے شعبے میں ملی،کیونکہ یہ وہ زمانہ تھا،جب میں میں فلمیں بہت دیکھتاتھا۔ ہمارے اسکول میں کافی ڈرامے وغیرہ بھی ہوتے تھے،جن میں طلبا حصہ لیتے تھے،البتہ اس وقت مجھے کسی ڈرامے میں کوئی کردار نہیں دیاگیا۔مجھے اس قابل ہی نہیں سمجھاگیا کہ میں یہ کام کروں،مگراس وقت جو فلمیں میں دیکھتاتھا،انہوں نے مجھے بہت متاثر کیا۔ خاص طورپر امریکی اوربرطانوی فلموں نے مجھے بے حد متاثر کیا،ہندی فلموں سے میں کبھی متاثر نہیں ہوا۔
اب بھی ہندی فلمیں مجھے زیادہ پسند نہیں ہیں اورنہ ہی میں انہیں دیکھتاہوں،حالانکہ وہ فلمیں بھی نہیں دیکھتا،جن میں خود میں کام کرتاہوں۔میرے لیے یہ بہت آرام دہ تھا کہ میں اپنی بیوقوف سی شخصیت کو چھپا کرمیں کرداروں میں پناہ لے لوں۔ اپنے خوابوں میں”اسپارٹکس“ یا ”ہرکولیس“ بن جاؤں ، یا پھر مجھے”ٹارزن“ کا کردار ملے، میں اس کے لبادے میں اپنا آپ چھپا لوں۔ یہی وہ نکتہ تھا،جہاں سے میں اداکاری کی طرف راغب ہوا۔ دھیرے دھیرے مجھ میں جتنا اعتماد آیا،اس کی وجہ تھیٹر میں اداکاری کرناتھا۔میری جتنی فنکارانہ تعلیم و تربیت ہوئی ،اس کی وجہ میں تھیٹرکے لیے کیے گئے کام کو ہی سمجھتاہوں۔

نصیرالدین شاہ اپنے والدین اور بھائیوں کے ہمراہ
سوال:اداکاری کی طرف آنے کی خواہش کے پیچھے کون ساجذبہ متحرک تھا،اپنی شناخت یا اعتماد کا حصول ؟
جواب:اس خواہش کے پیچھے بنیادی جذبہ شناخت پانے کاہی تھا۔اعتماد تو مجھ میں رتی بھر نہیں تھا۔کسی کے سامنے میرا منہ نہیں کھلتاتھااورآواز نہیں نکلتی تھی۔اکیلاہوتاتھا،توآئینے کے سامنے میں پورے کا پورا’’فرینڈز رومن اینڈ کنڑی مین‘‘جیسا ڈراما اپنے آپ کو سنادیاکرتاتھا،لیکن جب کوئی میرے مقابل سننے والا ہوتا،توایسا لگتا، میرے گلے میں کچھ اٹک گیاہے،آواز تک نہیں نکلتی تھی،اعتماد نام کی کوئی چیز نہیں تھی اورشدید خواہش تھی کہ میں لوگوں کی توجہ حاصل کرسکوں اوراس کے لیے شناخت حاصل کرنا بے حد ضروری تھا۔میں مانتاہوں کہ اداکاری کی شروعات کہیں نہ کہیں اسی نکتے سے ہوتی ہے ۔کوئی بھی اداکار اس شعبے میں اداکاری کی خدمت کرنے کے لیے نہیں آتایاوہ اس لیے اداکاری شروع نہیں کرتاکہ وہ فن اداکاری کی خدمت کرناچاہتاہے۔وہ اداکار اس لیے بنتا ہے کہ لوگ اس کی طرف دیکھیں،اس کو پسند کریں،اس سے محبت کریں،اس کو دعائیں دیں،اس سفر میں کچھ اور معنویت سے بھرپور مل جائے،جیسا کہ مجھے ملا،تو وہ ایک اضافی انعام ہے۔

قمقموں کی طرح قہقہے جل بجھے ۔ میز پر چائے کی پیالیاں رہ گئیں (خالداحمد)
سوال:اگر اداکار کی شروعات ’’پہچان کوپانے کی خواہش‘‘سے ہے، تواس کے بعد وہ بڑا اداکار ہونے تک کا سفر کیسے طے کرتاہے؟
جواب:اداکار کو اپنے خیالات پیش کرنے کا موقع نہیں دیاجاتا۔اداکار کابھی کام اپنے خیالات کو پیش کرنا نہیں ہے۔ایک دوسرے انسان کے خیالات،اس کے تصورات،الفاظ کو حاضرین اورناظرین تک پہنچاناہوتاہے ۔معیاری کام،خالص نیت اورمکمل انداز میں اپنے فن کو پیش کرنا،یہ اداکار کاکام ہے بس،تو کسی بھی آدمی کو اچھا یا برا اداکار کہنابنیادی طورپر ناانصافی ہے،کیونکہ صحیح حالات میں تمام سہولیات کے ساتھ کوئی بھی اچھی کارکردگی کامظاہرہ کرسکتاہے اوراسی طرح غلط ماحول اورتکنیکی فقدان کے ساتھ کوئی بھی اداکار بری اداکار کرسکتاہے۔یہ حالات پر منحصر ہے۔دنیا کے بڑے بڑے اداکاروں نے بری اداکاری کے مظاہرے بھی کیے،جب انہیں برے ماحول اور سہولیات کے ساتھ کام کرناپڑا۔اس لیے کسی اداکار کو مخصوص نہیں کیاجاسکتاکہ وہ اچھا یا برااداکار ہے،جو بھی اداکار اپنے کام میں پوری جان لگاتاہے،میں اسے بڑا اداکار مانتاہوں،اسے شہرت چاہے ملے یانہ ملے،بشرطیکہ اس کی لگن بناوٹی نہ ہو۔یہ بات سب سے اہم ہے۔

تھیٹر سے ٹی وی اور فلم تک کامیابی سے کام کیا
سوال:آپ کسی اداکار کو اس تناظر میں بڑا مانتے ہیں؟
جواب:جی ہاں۔ایک اداکار ،جن کانام ’’جیفری کینڈل‘‘ہے۔وہ انگریز تھے۔ان کی ایک تھیٹر کمپنی تھی۔وہ تھیٹر کمپنی انڈیا،پاکستان،سنگاپوراورپورے ایشیامیں شیکسپیئر کے ڈرامے پیش کیاکرتی تھی۔میں اس وقت کمسن تھااوراس اسکول میں زیرتعلیم تھا۔وہ ہر سال ہمارے ہاں بھی آتے تھے ۔میں ان کے ناٹک دیکھاکرتاتھا۔مجھے ان کی یہ بات بہت متاثر کرتی تھی کہ یہ اتنابڑا اداکار ہے، ہمارے پاس آتاہے،ہمارے لیے ڈراما کرتاہے،ہم سے پیسے بھی نہیں لیتا۔پانچ سال کی عمر سے ہر برس میں نے ان کے ڈرامے دیکھے۔وہ میرے لیے گرو کی حیثیت رکھتے ہیں،میں ان کی زندگی سے بے حد متاثر ہوا۔وہ ہمہ جہت فنکارانہ صلاحیتوں کے مالک اداکار تو تھے ہی، لیکن ان کی ایک اور عظمت مجھے بہت بعد میں پتا چلی کہ ان کو دیکھ کر کبھی بھی یہ احساس نہیں ہوتاتھا کہ وہ اپنافن دکھارہے ہیں،جبکہ ان کا ہر ڈراما اسکرپٹ کی بنیاد پر ہواکرتاتھا۔
یہ ایک عمدہ بات تھی،جسے میں نے ان کے ہاں پایا۔انہوں نے کبھی زندگی میں کوئی کمرشل ڈراما نہیں کیا،صرف طلبا کے لیے ڈرامے پیش کرتے تھے،یہ عظیم ڈرامانگاروں کے لکھے ہوئے ڈرامے ہوتے تھے۔اس لیے ان کا کوئی گھر نہیں تھا۔وہ ہر وقت حالت سفر میں رہتے تھے۔وہ اوران کی بیوی، دوبیٹیاں اورکچھ دوسرے لوگ،یہ سب مل کر ان ڈراموں میں کردار نبھایاکرتے تھے۔ان دونوں میاں بیوی نے ایک طویل زندگی بسر کی،ان کے ساتھ پھر اورلوگ بھی شامل ہوتے گئے ،یوں یہ تھیٹر کے چاہنے والوں کا ایک قافلہ بن گیا۔میں نے بمبئی میں ان کا آخری ڈراما دیکھا،تووہ دونوں بوڑھے ہوچکے تھے۔انہوں نے جو کچھ مجھے دیاہے،وہ کوئی دوسرا نہ دے سکا۔مجھے کئی اوربھی اداکار پسند آئے،مگرمیری زندگی میں ’’رول ماڈل‘‘کا لفظ صرف ان کے لیے ہے۔

نصیرالدین شاہ نے ہالی وڈ میں عظیم اداکار سین کونری کے مشترکہ فلم ”دی لیگ آف ایکسٹرا آڈنری جنٹلمین“ میں کام کیا ، یہ فلم 2003 میں ریلیز ہوئی
سوال:کیاآپ نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں اس طرح کا کوئی ہدف مقرر کیا؟
جواب:میرے ذہن میں یہی ہدف ہے ،مجھ میں جتنا اورجیسا اداکاری کافن موجود ہے،میں اس کے ذریعے بہتراور معیاری کام کرسکوں،جو مجھے اب بھی لگتاہے کہ پورا نہیں ہوا،لیکن کسی مخصوص کردار کوکرنے کی کوئی ایسی خواہش بھی نہیں ہے، جس کی چاہ مجھے بے قرار کیے رکھے،کیونکہ کئی برس کام کرنے کے بعد مجھے یہ احساس ہوگیاہے ،آپ کاانفرادی کردار کبھی مکمل کام نہیں ہواکرتا،اس لیے مجھے کسی خاص کردار کوکرنے کا لالچ بھی نہیں ہے۔ویسے بھی بڑے بڑے کردار کرنے کے میرے سارے شوق پورے ہوگئے ہیں۔اب میں اجتماعی حیثیت میں دیکھتاہوں،میں کن کے ساتھ کام کررہاہوں ،یہ میرے لیے اہم ہے ،اگر میراکردار مختصر بھی ہے،تو مجھے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔میں بخوشی اسے نبھاتاہوں اوراگر اس بات سے کچھ نوجوان اداکاروں پر اثر پڑے،تو مجھے بہت خوشی ہوگی،البتہ ان کی سمجھ میں یہ بات ضرور آجائے کہ اداکارصرف ایک اداکار ہوتاہے،جو کسی کام کی تکمیل میں اپنا کردار نبھاتاہے۔یہ بہت قابل فخر بات ہے،اگر وہ اسے سمجھ لیں۔
سوال:آپ نے ایک مکمل کام یعنی’’غالب‘‘کاکردار نبھایا۔اس ڈرامے میں کس کوکامیابی کی ضمانت سمجھتے ہیں،اپنے آپ کو ؟
جواب:کبھی بھی نہیں،مگر میں یہ جانتاتھاکہ میں کیاکام کررہاہوں۔میں نے اس میں اپنا ذہن استعمال کرتے ہوئے جذبے کی سچائی کو بیان کیا۔بس اسی بات میں ساری بات ہے۔اس شاہکار کام میں سب سے کلیدی اہمیت گلزار بھائی کی ہے،جنہوں نے اس ڈرامے کوسب کے لیے لکھا۔غالب کے بارے میں وسیع مطالعہ کیا،اس کے پس منظر سے آگاہی حاصل کی۔مجھے تو غالب کا ایک شعر بھی پوری طرح سے یاد نہیں تھا ،میرے اسکول میں ہم جماعت طلبا وہ شعراکثر پڑھتے تھے۔’’ایک ڈھونڈوہزار ملتے ہیں‘‘اس طرح کا کوئی شعر تھا۔(قہقہہ)
گلزار بھائی نے مجھ سے کہا’’تم گلزار کاکردار کروگے۔‘‘میں نے انہیں جواب دیا۔’’مجھے تو غالب کے بارے میں کچھ بھی پتا نہیں ہے۔آپ مجھے کچھ بتائیں۔‘‘گلزار بھائی کہنے لگے۔’’تمہیں غالب کے حوالے سے جتنی معلومات چاہیے ،وہ اس ڈرامے کے اسکرپٹ میں مل جائے گی،بس تم یہ کردار کرو۔‘‘اس طرح میں غالب کا کردار کرنے کے لیے رضا مند ہوا۔یہ میری خوش نصیبی تھی، انہوں نے مجھے منتخب کیا۔فاروق شیخ،پنکج کپور یہ اس لیے اچھے اداکار تھے،کیونکہ ان کے دیے گئے کردار بہت اچھے لکھے گئے تھے۔

بالی وڈ میں تین عمدہ کلاکار ۔ تین شاندار دوست ۔ نصیرالدین شاہ ، اوم پوری اور انوپم کھیر
سوال:آپ نے پیررل اورکمرشل سینما دونوں طرز کے سینما میں کام کیا۔یہ بتائیے کہ ہندوستانی سینمانے فلم کے شائقین کو کیادیا؟
جواب:ہالی وڈ کی نقل،شیکسپیئر سے چوری ،بس فل اسٹاپ۔اس کے بعد کچھ کہنے کو باقی نہیں رہتا۔
سوال:آپ کمرشل سینما میں کام کر کے لطف حاصل کرتے ہیں؟
جواب:نہیں۔البتہ میں فلموں کے انتخاب میں کافی احتیاط کرتاہوں۔مثال کے طورپرمیں نے فلم’’ڈرٹی پکچر‘‘میں اس لیے کام کیاکہ مجھے فلمی اداکاروں کی نقل کرنے میں بہت مزا آتاہے،اکثریت ایسی ہے بھی ،جن کی نقل ایک مزیدار سرگرمی ہے۔میں نے یہ فلم اس لیے کی کہ یہ فلمی سینما کے ماضی کے اداکاروں کی عکاسی کرتی تھی۔یہ ایک شاندار فلم تھی،اسی لیے اس نے کامیابی بھی حاصل کی۔ہمارے فلم سازوں کاموجودہ کام مرے ہوئے دماغ کی سرگرمی سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔
یہ دعویٰ کہ ساری دنیا میں ہندوستانی سینما میں فلمیں دیکھی جارہی ہیں اوران کو یہ غلط فہمی بھی ہوگئی ہے کہ ساری دنیا کو پتا چل گیاہے،ہم کیسی کمال فلمیں بناتے ہیں۔سچی بات یہ ہے کہ امریکا،کینیڈا ،چین اوردیگر ممالک میں جتنے ہندوستانی کھانوں کے ریستوران کھلے ہیں،ان کی وجہ سے وہ ہندی فلمیں بھی دیکھتے ہیں۔ہندوستانی کھانے لذیذ، چٹ پٹے ہیں ،مگر یہ کھانے روز تونہیں کھاسکتے ناں؟یہی نوعیت ہندی فلموں کی بھی ہے۔عالمی سطح پر ان کی شہرت کاعرصہ بہت مختصر ہے،یہ الگ بات ہے کہ کوئی ایسا کام کرے جو بہت ہی اعلیٰ اور منفرد ہو۔
سوال: آپ کو اپنی فلم’’ڈیڑھ عشقیہ‘‘میں ’’مادھوری ‘‘کے ساتھ کام کرکے کیسالگا؟
جواب: بہت اچھا۔(قہقہہ)
سوال:کیافلمی دنیا صرف بناوٹ ہی کا دوسرا نام ہے یا کوئی حقیقت بھی ہے کہیں؟

میزبان اور مہمان ایک ساتھ
سوال:بناوٹ بھی نہیں کہہ سکتے ،کیونکہ جو کامیاب کمرشل فلمیں ہوتی ہیں،وہ اپنے یقین کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی بنائی جاتی ہیں۔’’منموہن ڈیسائی‘‘ ایک صاحب تھے،جنہوں نے ’’امراکبرانتھونی‘‘جیسی فلم بھی بنائی۔اس فلم میں کچھ ایسے مناظر ہیں ،جن کو دیکھ کر انسان ہکابکا رہ جائے کہ یہ کیسے ہوسکتاہے،مگر ناظرین ایسے مناظر پر بھی تالیاں بجاتے تھے۔اس لیے کہ منموہن ڈیسائی صاحب ایک یقین کے ساتھ ایسا کچھ تخلیق کرتے تھے کہ اسے کامیابی مل جائے گی۔وہ ناظرین کو بیوقوف بنانے کے لیے فلمیں نہیں بناتے تھے۔اب عام طورپر یہ ہوگیاہے، اچھا یہ چیز چل جائے گی، اس کو فلم میں ڈال دو،اس فلم میں جذباتیت نہیں ہے،اس کی کہانی میں ایک اندھی ماں کا کردار ڈال دو۔اس میں دیش بھگتی نہیں ،تھوڑی وہ ڈال دو ۔ فلم ساز یہ سب اس لیے کرتے ہیں تاکہ فلم بین کو اس میں ہرطرح کے مسالے مل جائیں اورناظرین اس گمان میں رہیں کہ انہوں نے بہت اچھی فلم دیکھی۔اسی دھوکے میں تین گھنٹے یوں کٹ گئے۔
”ستیا جت رے“نے ایک بات اپنی لکھی ہوئی ایک کتاب’’اَوّورزفلمز دیئر فلمز“ کہی تھی۔ ’’مشکل یہ ہے کہ ہمارے فلم بین بڑ ی آسانی سے خوش ہوجاتے ہیں۔‘‘اب تو ناظرین کے ذوق کو بھی اتنا خراب کردیاگیاہے ،بلکہ میں اگر کہوں ناظرین کو بیوقوف بنادیاگیاہے توبے جانہ ہوگا۔یہ شعوری طورپر کیاگیاہے ہمارے فلم سازوں کی طرف سے تاکہ وہ مزید کچھ اور مطالبہ نہ کریں اور جو کچھ بکواس فلمیں ہم دے رہے ہیں،یہ انہی کو دیکھتے رہیں۔یہ کتنی عجیب بات ہے، فلم بین جس فلم کو براکہتے ہیں،اسی کوبھی باربار دیکھتے ہیں ،ان کو اس چیز کا اتنا عادی بنادیاگیاہے۔یہ بہت خطرناک صورت حال ہے ۔فلم بینوں نے سوچنا چھوڑ دیاہے۔کمرشل سینمااور خبروں کے چینل ایک کام ہی کررہے ہیں۔
سوال:آپ کے خیال میں خبروں کے چینل جس طرح بری چیزوں کی تقسیم میں شریک کار بنے ہوئے ہیں،انہوں نے ناظر ین کو کیادیا؟
جواب: یہ بھی فلم والوں کی طرح پیسے کمانے میں لگے ہوئے ہیں۔اداکار کو چھینک بھی آتی ہے،یہ اسے بھی خبر بناکر پیش کرتے ہیں۔اہم موضوعات اور خبروں سے ناظرین بے خبر ہی رہتے ہیں،پیسوں سے محبت کی یہ مریضانہ سطح ہے۔مجھے نہیں پتا،اس سلسلے کا اختتام کہاں ہوگا۔
سوال:آپ نے پاکستان میں آخری جس فلم میں کام کیا،اس کانام’’زندہ بھاگ‘‘تھا،اس فلم میں کام کرنے کی وجہ کیاتھی؟
جواب:مجھے نوجوانوں کے ساتھ کام کرکے ہمیشہ مزاآتاہے۔میں نئے لوگوں کی مدد کرنے میں کوئی عار نہیں سمجھتا۔اس فلم کے موضوع اورنوجوانوں کی لگن سے مجھے بے حد دلچسپی تھی،انہوں نے بے شمار رکاوٹوں کے باجود اس فلم کو بنایا۔اس فلم کے پروڈیوسر ’’مظہر زیدی‘‘اور ہدایت کار’’مینو گوہر۔فرجاد نبی‘‘یہ تینوں بے حد اپنے کام سے لگن رکھنے والے اور جنون کے حامل لوگ ہیں۔مجھے صرف اس فلم میں کام کرتے ہوئے ایک مشکل کاسامناتھاکہ میں پنجابی زبان ٹھیک سے بول نہیں پاتا،اس پہلو پر میں نے محنت کی اوراس فلم کی کہانی سے میں جذباتی طورپر وابستہ بھی ہوگیا،اس لیے مجھے اس فلم میں کام کرکے لطف حاصل ہوا۔یہ پاکستان کی ایک بہت اہم فلم ہے۔
سوال: مزید پاکستانی فلموں میں کام کریں گے تو کیا شرط ہوگی؟
جواب:شرط یہ ہوگی کہ محسوس کروں کہ میں وہ کردار جو مجھے دیاجارہاہے،اسے میں بخوبی کرسکتاہوں۔یہ فلم پاکستان کے حوالے سے کچھ مقصدیت پیدا کرسکے گی تو میں ضرور کروں گا،جیسے فلم’’زندہ بھاگ‘‘آج کے پاکستان کے حالات کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔میری نظر میں سینما صرف آرٹ نہیں ہوتا،تعلیم دینا بھی کوئی اس کا فرض نہیں،بلکہ اگر اس کو کوئی مقصد ہے تو وہ ہے کہ جس زمانے میں بنایاگیا۔اپنے عصری دور کی سچائیوں کی عکاسی کرے۔پاکستانی فلم ’’زندہ بھاگ‘‘میں کام کرنے کی وجہ بھی یہی تھی، مجھے اس فلم کے بارے میں یہ محسوس ہوا کہ یہ فلم بننی ضروری ہے،کیونکہ یہ ایک موجودہ پاکستان کے حقایق کے بارے میں بات کرتی ہے اوراگر سو سال بعد کوئی جاننا چاہے کہ دوسوتیرہ کا پاکستان کیساتھاتو اس وقت ’’اچھا گجر ‘‘نام کی فلم ہی اسے نہ ملے۔اس سے مختلف بھی کسی دوسری نوعیت کی فلم ہوسکتی ہے،اچھی اورمعیاری کہانی اس کی بنیادی شرط ہے اورسب سے بڑھ کر میرا جی چاہے۔
سوال:آپ نے ہالی وڈ میں بھی کافی فلموں میں کام کیا،وہاں ایسا کیاتھا، جو آپ کا جی چاہا، ان کی فلموں میں کام کریں؟
جواب:ہالی وڈ جانے کا سپنا کس کے پاس نہیں ہے۔میرے پاس بھی یہ سپنا تھا۔میں بمبئی میں بھی ہیرو بننا چاہتاتھااور ہالی ووڈ میں بھی ہیرو بننا میرا خواب تھا،پھرمجھے ایک تجسس بھی تھا کہ یہ لوگ جو اتنے بھاری سرمائے کی فلمیں بناتے ہیں،یہ پیسا جاتاکہاں ہے؟ان تمام معاملات کا انتظام کیسے سنبھالتے ہیں؟ہالی وڈ جانے کی تیسری وجہ ’’سین کونری“سے ملاقات کی خواہش تھی۔چوتھی وجہ یہ تھی کہ مجھے بہت پیسے مل رہے تھے۔(قہقہہ)

فلم کے ایک منظر میں اداکارہ ریکھا کے ساتھ
سوال:ہالی وڈ اور بالی وڈ میں کیافرق محسوس کیا؟
جواب:کوئی فرق نہیں،جس طرح میں بمبئی میں دھرمیندر کے ساتھ کام کرتاتھا۔سین کونری بہت منکسرالمزاج انسان تھے،لیکن ان میں ایک رکھ رکھائو تھا، جس کی وجہ سے بے تکلف ہونا ممکن نہیں تھا۔میں نویں جماعت میں تھا،جب میں انہیں جیمز بونڈ کے کردار میں دیکھاتھا۔وہ بہت عمدہ شخصیت کے مالک ،مگر مزاج کے تابع شخص تھے۔کبھی بہت اچھا اورکبھی خراب مزاج ان پر حاوی رہتاتھا،جیسے ہمارے انڈین اداکاروں کا معاملہ ہے۔البتہ دونوں فلمی دنیائوں کے درمیان جو ایک فرق اگرہے، تووہ یہ ہے کہ ہالی ووڈ والے اکثر اپنا اسٹنٹ خود کرتے ہیں، جبکہ بالی ووڈ میں اسٹنٹ مین اداکار کو اسٹار بناتاہے۔یہ اسٹنٹ مین(خطرناک سین عکس بند کروانے والے اداکاروں کے متبادل)صحیح معنوں میں کام کرتے ہیں بالی ووڈ میں ،مگر انہیں کوئی نہیں جانتا۔ان کی زندگی ہر وقت خطرے میں رہتی ہے،کوئی کمپنی ان کا انشورنس نہیں کرناچاہتی،یہ مرجائیں تو کسی کو قصور وار نہیں ٹھہراسکتے۔اسٹنٹ کے کام کامعیار ہی واحد فرق ہے جو ان دونوں فلمی دنیاؤں کے درمیان ہے۔
سوال:آپ کی نظر میں تھیٹر کی کیاتعریف ہے اور اس فن کو کن جہتوں میں دیکھتے ہیں؟
جواب:جب میں نوجوان تھا،تو میں نیشنل ڈراما اسکول میں گیا،جہاں مجھے ابراہیم الغازی تھے،جو بہت ہی شاندار قسم کی تھیٹر پروڈکشن کیاکرتے تھے۔جس میں چالس پچاس گلوکار ہوتے تھے اورہر چیز کی باریکی کا خیال رکھاجاتاتھا۔وہ قلعوں اورمحلوں کے بڑے بڑے سیٹ بناتے تھے۔ایک ڈراما انہوں نے دلی کے قدیم کھنڈرات میں بھی کیا۔مجھے یہ انداز بہت پرکشش لگتاتھا،لیکن بعد میں احساس ہوا کہ یہ خیالات کافی پرانے تھے۔یہ اس وجہ سے ہو اکہ میں جب بھارت سے باہر گیا،بالخصوص انگلینڈ میں تو مجھے وہاں مختلف قسم کے تھیٹر ناٹک دیکھنے کو ملے اورمیں انہیں دیکھ کر دنگ رہ گیا۔
وہ سب اس قدر جدید انداز کا تھا۔موٹرسائیکل،کاریں،ہوائی جہازکھینچ کر اسٹیج پر لائے جاتے ہیں اور پل بھر میں سمندر کی جگہ جنگل لے لیتاہے۔اسی طرح میں نے ایک کتاب’’ٹوورڈز آ پوئر تھیٹر“پڑھی،جسے پولینڈ کے تھیٹر کے ایک معروف استاد’’جیرزی گروتوسکی‘‘نے لکھی تھی۔وہ ہمیں بتاتا ہے، جب عام آدمی کے پاس ذرایع نہ ہوں اور وہ تھیٹر کرنا چاہے تو پھر اسے اپنی غریبی کو اپنی کمزوری نہیں بلکہ طاقت بنالینا چاہیے۔انہوں نے یہ نظریہ بھی پیش کیا کہ تھیٹر کا فلم سے کوئی مقابلہ نہیں ہے۔یہ دونوں مختلف جہتیں رکھتے ہیں۔

فلمی دنیا سے اداکار کے مختلف کرداروں کی جھلکیاں
سوال: کیاسینمااور تھیٹر جس طرح کرنے میں فرق ہے،کیا دیکھنے میں بھی کوئی فرق ہوتاہے؟
جواب:جی ہاں۔سینما تو آپ ایسے دیکھ رہے ہیں،جیسے خواب دیکھ رہے ہوں۔ایک طبی تحقیق نے یہ دریافت بھی کیا کہ ٹیلی ویژن دیکھتے وقت آپ کا دماغ اتنا ہی متحرک ہوتاہے،جتنا جب آپ سورہے ہوں۔اسی لیے ٹیلی ویژن لوگ آٹھ آٹھ گھنٹے تک لگاتار دیکھ سکتے ہیں،کیونکہ دماغ پہ ذرا بھی بوجھ نہیں پڑتا۔دماغی مشقت نہیں کرنا پڑتی۔تھیٹر اس حوالے سے تھوڑا مختلف ہے۔یہ آپ سے توجہ مانگتاہے۔آپ کرسی پر بیٹھے ہوئے پاپ کارن کھاتے ہوئے تھیٹر نہیں دیکھ سکتے۔
سوال:تھیٹر ناظرین میں فلموں کی طرح کیوں مقبول نہیں ہوسکتا؟
جواب:اس لیے کہ ایک جگہ پر ایک رات میں صرف ایک ہی تھیٹر دکھایاجاسکتاہے۔فلمیں ایک ہی وقت میں سینکڑوں مقامات پر دکھائی جاسکتی ہیں۔مجھ سے ایک سوال اکثر پوچھا جاتاہے ،ہمارے ہاں تھیٹر مغرب کی طرح کیوں نہیں پیش کیاجاتا،ایک ہی ڈراما کئی مہینوں تک کیوں نہیں چلتا۔ا س کی وجہ یہ ہے ،ہمارے ہاں اس کی جگہ فلموں نے لے رکھی ہے ،اگر ہم اپنی ہندی فلموں جیسا تھیٹر کرنا شروع کردیں ،تو پھر اس کی مقبولیت بھی فلموں کی جیسی مقبولیت حاصل کرسکتی ہے اورمیرا نہیں خیال کہ اس کی خواہش کوئی کرے گا۔براڈ وے تھیٹر کی نقل یا ہندی سینما کی نقالی سے تھیٹر کی ترقی نہیں ہوگی،ہمیں کوئی جداگانہ راستہ اپناناہوگا،جس میں ہماری اپنی تہذیب اور شناخت ہی معاون ثابت ہوسکتی ہے۔

اپنے اہل خانہ کے ہمراہ
سوال: اگلے بیس برس میں آپ کہاں دیکھتے ہیں خود کو؟
جواب:آج اکثر سڑک کنارے بچے مجھے دیکھ کرفلم‘‘ڈرٹی پکچر ‘‘کاگانا گنگناتے ہیں۔تقریباً بیس برس پہلے ایک فلم’’پری دیو‘‘بنی تھی،اس میں بھی ایسا ہی ایک گانا تھا،جو بہت مقبول ہواتھا،لہٰذا مجھے لگتاہے ،بیس سال بعد ایک اورایسا ہی گانا آئے گا،جسے سننے کے بعد سڑک پر لوگ مجھے دیکھ کر گانا گایاکریں گے۔جب میں تقریباً85سال کا ہوں گا،ہاں میں اس وقت بھی ایسا کام کرلوں گا۔(قہقہہ)میں نے اداکاری کے شعبے میں ہر نوعیت کے کردار اداکیے ہیں،اس لیے اب کوئی ایسا ہدف نہیں ہے۔بس اب جہاں جہاں میری ضرورت ہو،وہاں میں کچھ کام کرسکوں،یہی کرناچاہوں گا۔
سوا؛:آپ نے ایک فلم’’اقبال‘‘میں کام کیا،یہ کرکٹ کے موضوع پر بنائی گئی ایک فلم تھی۔آپ کو کرکٹ بہت پسند ہے؟
جواب:بہت زیادہ پسند ہے۔سڑک پر بچے کرکٹ کھیل رہے ہوں ،تو میں رک کر انہیں بھی دیکھنا شروع کردیتاہوں۔میں کسی زمانے میں کرکٹر بننا چاہتاتھا،لیکن پھر یہ خواب میں جلدی ترک کردیا۔اس کی وجہ ایک خیال تھا ،وہ یہ کہ اتنے کروڑوں لوگوں کے ملک میں سے صرف گیارہ لوگ چنے جاتے ہیں،اس میں میرا نمبر توآنے والانہیں تھا۔یہ الگ بات ہے کہ پرجوش اور بہت اچھی کرکٹ کھیلنے والا کھلاڑی تھا۔اب بھی میں اسی اشتیاق کے ساتھ کرکٹ دیکھتاہوں،جیسے کسی زمانے میں کھیلتاتھا۔اس کھیل میں کوئی جادو ہے۔دنیا میں کوئی دوسرا ایسا کھیل نہیں ہے،جس کے بارے میں لوگ یہ کہیں کہ مجھے اس کھیل سے نفرت ہے۔کرکٹ ہی ایک ایسا کھیل ہے،جس کے بارے میں اکثر یہ فقرہ سننے کو ملتاہے کہ مجھے کرکٹ سے نفرت ہے۔فٹ بال یا ہاکی سے کسی کونفرت کرتے نہیں دیکھا۔مجھے لگتاہے، کرکٹر بننے کے لیے دوبارہ جنم لینا پڑے گا۔(قہقہہ)
سوال:آپ کی کیاخواہش کیاہے۔دنیا آپ کو کیسے یاد رکھے؟
جواب:دنیا اگر مجھے یاد رکھے گی ،تو میرے کام کے ذریعے ہی مجھے یاد رکھے گی۔یہ میں نہیں طے کرسکتاکیسے یادرکھے گی۔اداکار کو اس کے کام کے ذریعے ہی یاد کیاجاتاہے۔کوئی اداکار چاہے وہ کتنا ہی مشہور اورعظیم اداکار ہی کیوں نہ ہو،اگر اس نے کوئی اچھا کام نہیں کیاہواتو اسے بھلادیاجائے گا۔ہمارے ملک میں ایک ’’راجیش کھنہ‘‘نام کے صاحب تھے۔جن کے گھر کے باہر روز ہجوم ہواکرتاتھا۔جب ان کی شادی ہوئی تولڑکیوں نے خودکشیاں کیں۔لوگ اپنے خون سے انہیں خط لکھاکرتے تھے۔وہاں جہاں جاتے تھے،لاکھوں لوگ اکٹھے ہوجایاکرتے تھے۔
اس طرح 70 کی دہائی میں تقریباً پانچ سال یہ سلسلہ چلا اورآج ہمارے ملک کا نوجوان انہیں شکل سے بھی نہیں پہچانتا۔افسوس ہوتاہے یہ کہتے ہوئے،میں راجیش کھنہ کا مداح نہیں تھا۔بہت برے اداکار تھے،لیکن بہت کامیاب اورمقبول تھے۔پورا ملک انہیں جانتاتھا۔آج انہیں کوئی نہیں جانتا،کیونکہ انہوں نے کوئی ایسی فلم نہیں کی،جویاد رہے۔دلیپ کمار نے ایسی کچھ فلمیں کی ہیں، امیتابھ بچن نے بھی ایک آدھ فلم میں اس نوعیت کاکام کیاہے،جن کی وجہ سے انہیں یاد رکھا جائے گا،اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ وہ مجھے کیسے یاد رکھے ،تو میں کہوں گا کہ ایک ایسا انسان جس نے ہمیشہ پوری کوشش کی کہ وہ اپنے کام کو اچھے سے کرسکے۔
سوال: انڈین سینما میں کمرشل سینما کے مقابلے میں پیررل سینما کو کس طرح دیکھتے ہیں،اس تحریک میں کوئی دم تھا؟
جواب:کچھ انفرادی لوگ تھے،جو کمرشل ہندی سینما سے تنگ آچکے تھے،جنہیں یہ لگتاتھا،تفریح کے علاوہ بھی سینما کاکوئی مقصد ہوسکتاہے۔اتفاق سے 70 کی دہائی میں یہ سب کے سب آئے۔ان سب سے پہلے ’’خواجہ احمد عباس‘‘ تھے،جو 50 اور60 کی دہائی میں فلمیں بنایاکرتے تھے۔ان کے علاوہ کسی حد تک’’وی شانتا رام‘‘تھے،جو کسی حد تک سنجیدہ فلمیں بناتے تھے،لیکن ان فلموں کا انداز ناچ گانے والا ہوتاتھا،جبکہ عباس صاحب وہ پہلے رجحان ساز شخصیت تھے،جنہوں نے انڈین سینما میں پہلی مرتبہ باقاعدہ سنجیدہ فلمیں بنانے کی ابتداکی۔انہوں نے فلم کے شعبے میں کافی تجربات کیے۔وہ فلمیں بالکل نہیں چلیں ،ان کو کسی نے نہیں دیکھا۔اب وہ فلمیں تقریباً گم ہوگئی ہیں،ان کا کوئی وجود باقی نہیں رہا۔یہ بڑے افسوس کی بات ہے۔
ستر کی دہائی میں پیرریل سینما کی تحریک سے پھر بہت سارے لوگ سامنے آئے،جن میں ’’باسو چتر جی۔ ہری شیک مکھرجی۔ستیاجیت رائے۔شیام بینگل ‘‘جیسے تخلیق کار شامل تھے۔اس کو کوئی باقاعدہ تحریک بھی نہیں کہاجاسکتا،کیونکہ ان میں سے بہت سارے فلم سازوں نے اپنے اہداف تبدیل کرلیے۔اس با ت سے یہ شک ہوتاہے، یہ لوگ شروع میں ایسی فلمیں شاید اس لیے بنارہے تھے کہ کمرشل فلمیں بنانہیں پاتے تھے۔بڑے فلمی ستارے ان کے ساتھ کام نہیں کرتے تھے،اس لیے یہ نئے اداکاروں کو اپنی فلموں میں لیاکرتے تھے،کیونکہ جیسے ہی بڑے فلمی ستاروں نے دلچسپی دکھائی ان لوگوں کے ساتھ کام کرنے میں،تو انہوں نے فوراً ان ستاروں کو اپنی فلموں میں لینا شروع کردیا۔اس لیے میں یہ نہیں مانتاکہ یہ کوئی تحریک تھی۔مجھے ان فلم سازوں کی اپنے مقصد کے ساتھ مخلص نہ ہونے کابھی احساس ہوتاہے اورمیں نے ان میں سے بہت سارے فلم سازوں کے ساتھ کام کیا،اس لیے میں انہیں ذاتی حیثیت میں بھی جانتاہوں،اس لیے یہ بات کہہ رہاہوں،ان کی سچائی کے بارے میں مجھے معلوم ہے۔
سوال:فلمی دنیا میں اعزازات کی جو روایت ہے،بالی ووڈ میں بھی بے شمار اعزازات ہیں اور آسکر جیسے فلمی اعزاز بھی،ان کے بارے میں کیاکہتے ہیں کہ یہ غیرجانبداری سے دے جاتے ہیں؟
جواب:جو آدمی منجن بناتاہے یا ٹیلکم پوڈر بناتاہے یا پان پراگ بناتاہے،وہ ایک ایوارڈ دینے لگاآپ کو اورلوگ بڑی خوشی سے یہ ایوارڈ قبول بھی کرتے ہیں۔آسکر ایوارڈ بھی اتنا ہی بوگس ہے،جتنے یہ دوسر ے ایوارڈ،جن کا میں نے ابھی ذکر کیاہے۔یہ سب طے شدہ ہوتاہے۔آسکر کے لیے ایک سال پہلے سے کام شروع کردیاجاتاہے،فلم بننے سے بھی پہلے۔جب پاکستان سے فلم’’زندہ بھاگ‘‘کو بھیجاگیا،تو میں نے ’’مینو‘‘اور ’’فرجاد‘‘سے کہا،مبارک ہو لیکن کوئی امید مت رکھنا،تم اس ایوارڈ کوحاصل نہیں کرسکتے ،جب تک کہ تم پانچ کروڑ روپے خرچ نہ کرلو،لاس اینجلس جاکر اپنا حلقہ نہ بنالو،جو تمہیں یہ ایوارڈ دلوانے میں تمہاری مدد کرے اورتب بھی نہیں ملے گا۔جس کو تھوڑی شہرت چاہیے ،وہ ایک ایوارڈ دینا شروع کردیتاہے۔
سال کے آخر میں ہم سب ایک دوسرے کو ایوارڈ دے رہے ہوتے ہیں۔تقریب میں جوآجاتاہے،اس کو ایوارڈ مل جاتاہے۔اتنے شعبے بنادیے ہیں کہ کچھ دس سال بعد ایوارڈ ایسے ملا کرے گا’’پولیس کے کردار میں بہترین اداکار‘‘یاپھر’’ڈاکٹر کے کردار میں بہترین اداکار‘‘اور تو اورجتنے حاضرین موجود ہوں گے،ان سب کو بھی ایک ایک ایوارڈ مل جایاکرے گا۔مجھے اپنے کیرئیر کی شروعات میں ایسے کئی ایوارڈ ملے،میں بہت خوش بھی ہوا،لیکن پھر ایک دوسال کے اندر ہی مجھے پتا چل گیاکہ ان ایوارڈز کے پیچھے کیاراز ہے۔اب میں ان تقریبات میں جاکر اپنا وقت خراب نہیں کرتا۔

پیررل اور کمرشل سینما کے نابغہ روزگار ۔ نصیر الدین شاہ
سوال:آپ کو بھارتی حکومت نے جو ایوارڈ ز دیے،ان کے بارے میں کیاکہیں گے؟
جواب:وہ بھی جب تک کوئی آپ کے لیے لابنگ نہ کرے،نہیں ملتا۔کسی نے میرے لیے بھی یہ فریضہ انجام دیاتھا،لیکن میں اسے نہیں جانتا۔اتنے ہزاروں لوگ ہیں،جنہیں حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے،مگر انہیں کوئی نہیں پوچھتا۔جن کے کام کو ایک تعارف چاہیے،انہیں یہ ایوارڈز نہیں دیے جاتے۔

پیررل سینما کی جدید اداکارہ کنکناسین شرما کے ہمراہ
سوال:آپ کی پیدائش اترپردیش کے علاقے ’’بارہ بنکوی ‘‘کی ہے۔مشہور شاعر خمار بارہ بنکوی بھی وہیں کے تھے۔اس زمانے کی کیایادیں ہیں،شعروادب سے کوئی دلچسپی تھی؟
جواب:اس دور کی مجھے کوئی بات یاد نہیں ہے،کیونکہ میرے والد فوج میں تھے اورمیں ڈیڑھ سال کا تھا،جب والد کاوہاں سے تبادلہ ہوگیا۔میرے گھر میں بہت زیادہ شعروادب کا ماحول نہیں تھا۔میرے والد ایک حقیقی دنیا میں رہنے والے ایک عام سے آدمی تھے۔وہ انگلینڈ سے بھی ہوکر آئے،مگر انہیں لکھنے پڑھنے ،موسیقی یا ڈرامے وغیرہ سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔خوش قسمتی سے انہوں نے ہمیں جس اسکول میں داخلہ دلوایا،وہاں ہمارا تعارف ان اصناف سے ہوا۔پانچ سال کی عمر میں میراداخلہ ایک بورڈنگ اسکول میں ہوگیاتھا۔وہیں میں نے تھیٹر،فلم اورموسیقی وغیرہ سے متعارف ہوا۔میرے خاندان کا تعلق میرٹھ کے قریب ایک جگہ سے تھا۔مجھ پر خاندان کا اثر اس طرح پڑاکہ میرے نانا جو زمیندار تھے،وہاں میرابچپن بہت دلچسپ گزرا۔شکار،دعوتیں،لمبی چوڑی شادیاں،ماموں کی بندوقیں لے کر گھوماکرتے تھے۔ٹریکٹر اورگھوڑے کی سواری ہواکرتی تھی۔اب میں جو اپنی تھیٹر کمپنی’’موٹیلی تھیٹر‘‘کے لیے ڈرامے کرتاہوں،مثال کے طورپر عصمت چغتائی کے وہ ڈرامے جو میں نے نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس میں پیش کیے،ان میں میرے بہت سے خاندانی کرداروں کی جھلک ملتی ہے۔

خرم سہیل معروف پاکستانی براڈ کاسٹر رضا علی عابدی کی سوانح عمری نصیر صاحب کو پیش کرتے ہوئے ، وہ اس بائیوگرافی کے مصنف ہیں ، یہ کتاب سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور سے شائع ہوئی ہے
سوال: آپ اپنی خودنوشت لکھ رہے ہیں،جوجماعت میں پچھلی نشستوں پر بیٹھے ہوئے طالب علموں کے نام ہوگی؟
جواب: جی ہاں اورمیں اپنی زندگی کی کہانی لکھ چکا۔مجھے بہت سارے لوگوں نے کہا کہ تمہارے ساتھ لکھیں گے،میں نے نہیں کہ میں خود لکھناچاہتاہوں۔مجھے اس کو لکھنے میں دس سال لگے ہیں،اب وہ مکمل ہوگئی ہے۔رواں برس شایع کی جائے گی۔میں نے انگریزی میں لکھی ہے اوراس کا اردو ترجمہ کرنے کے لیے بھی کسی کو ڈھونڈ رہاہوں۔ناشر کاخیال ہے کہ پاکستان میں یہ خودنوشت کافی مقبول ہوگی،لہٰذا اردو میں بھی اس کا ترجمہ ہونا چاہیے اورمیں بھی اس بات سے اتفاق کرتاہوں۔اردو،ہندی،مراٹھی،بنگالی اورانگریزی زبان میں ایک ساتھ شایع ہوگی۔

عکس در عکس ۔ بیتے ہوئے زمانے کی پرچھائیاں
سوال:آپ کی تھیٹر کمپنی کی خیال کیسے آیااورعصمت چغتائی کی کہانیوں کا ہی انتخاب کیوں کیا؟
جواب:میں نے اپنا تھیٹر ایک دوست بینجمن گیلانی کے ساتھ مل کر بنایاتھا۔وہ اورمیںانگریزی ادب میںمیں گریجویٹ تھے۔ہم دونوں کے پاس خواہشات کی ایک بہت طویل فہرست تھی کہ ہم فلاں فلاں ڈرامے کریں گے۔ان میں زیادہ تر انگریزی ڈرامے تھے،خاص طورپر وہ ڈرامے جنہیں ہم نے نصاب میں پڑھاتھا،تو وہ سارے ہم نے کرلیے۔وہ فہرست ختم ہوگئی ،پھر ہمیں سمجھ نہیں آیاکہ کس طرح کے ڈرامے کریں۔ہمارا تھیٹر گروپ دھیرے دھیرے انگریزی تھیٹر گروپ کے نام سے مقبول ہونے لگا،جس سے مجھے بڑی تکلیف ہوئی،پھر ہم نے سوچا کہ ہمیں اپنی زبان میں کچھ کام کرنا چاہیے۔اردو زبان میں تو ڈرامے ہیں ہی نہیں،اب آغاحشر کے ڈرامے کتنی بار کریں اورمیرا جی بھی نہیں چاہا۔اتفاق سے عصمت آپا کی کچھ کہانیاں میں نے انگریزی ترجمے میں پڑھیں اورمیں نے اسی وقت یہ طے کرلیا،مجھے ان کو ڈرامائی اندا زمیں کرناہے۔

شریک حیات رتنا پھاٹک کے ہمراہ ۔ خوشگوار موڈ لیے

فلمی ہم سفر مادھوری ڈکشٹ کے ساتھ ۔ فلم ڈیڑھ عشقیہ کے ایک منظر میں
میں نے ان کہانیوں کو اردوزبان میں ڈھونڈا اورپہلی ہی جو تین کہانیاں پڑھیں،وہ یہی ہیں ،جنہیں میں نے ابھی کراچی میں نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس کے عالمی تھیٹر میلے میں پیش کیا۔ان کہانیوں کے کانام،چھوئی موئی،گھر والی اورمغل بچہ۔میں نے عصمت آپا کی ایک بات ان کے کسی انٹرویو میں پڑھی تھی ’’جب میں کہانی لکھتی ہوںتو مجھے ایسالگتاہے کہ میں پڑھنے والے سے باتیں کرتی ہوں۔‘‘میں نے بھی یہی سوچا کہ عصمت آپا کی تحریروں کو لے کر حاضرین سے باتیں کرتے ہیں۔سب نے کہا ،یہ کون دیکھنے آئے گا۔یہ زبان کون سمجھے گا۔میری بیوی ”رتنا“ تک نے یہ کہا۔
میں ان کی کہانیوں پر تنقید نہیں کرناچاہ رہا،ایک تو یہ کہانیاں بہترین لکھی ہوئی ہیں،دوسرے ان سب کہانیوں کے کردار جو ہیں،ان سب میں مجھے اپنا پورا خاندان دکھائی دیتاہے۔میرا یہ تجربہ اتنا کامیاب رہا۔میں پچھلے تیرہ سال سے یہ کہانیاں پیش کررہاہوں۔تقریباً ساڑھے تین سو شو ہم کرچکے ہیں،جہاں جاتے ہیں ،ہمیں لوگ دعائیں دیتے ہیں۔اس کے بعد ہم نے سعادت حسن منٹو،منشی پریم چند،ہری شنکر پارسائی،خلیل جبران اوردیگر کی کہانیوں کو بھی ڈرامائی انداز میں پیش کیا۔
سوال:’’ادا‘‘کو نبھاناہی’’اداکاری ‘‘ہے یا اس کے علاوہ بھی ’’اداکار ‘‘کچھ ہوتاہے؟
جواب: اسٹیج پر کام کرتے ہوئے یہ احساس ہوا، اداکار اس لیے اداکاری نہیں کرتاکہ سب اس کی اداکاری سے متاثر ہوں،بلکہ اس کو اداکاری اس لیے کرنی چاہیے کہ کوئی بات پہنچانی ہوتی ہے۔اداکار صرف ایک پیغام رساں ہوتاہے۔اب اداکاروں کو شہرت اتنی ملتی ہے کہ وہ سمجھنے لگتے ہیں، وہ خود کچھ ہیں۔میرے تھیٹر گروپ کے نوجوان یہ بات سمجھتے ہیں کہ اداکار ہی سب کچھ نہیں ہوتا۔آپ سے زیادہ لکھنے والا اہم ہے۔مجھے لگتاہے، میں زندگی بھر اس طرح کا تھیٹر کرتارہوں گا۔پاکستان میں مجھے لاہور اوراب کراچی میں کام کرنے کاموقع ملا۔خاص طورپرکراچی میں تھیٹر کیااور مجھے مزا آیا۔
یہاں کے شائقین کی سب سے خاص بات زبان کی سمجھ ہے۔ ہمیں یہاں ان جملوں پر بھی داد ملی، جو ممبئی،دہلی،نیویارک،لندن اورلاہور میں بھی نہیں ملی۔ کراچی والے غضب کے جملہ شناس ہیں۔ہمیں بہت خوشی ہوئی کہ آخرکار ان سطروں کو کہیں تو داد ملی اوریہ سطریں بہت خوبصورت ہیں ،جیسے ایک جگہ کردار شعرکاایک مصرعہ پڑھتاہے کہ ’’قسمت کی خوبی دیکھیے کہ ٹوٹی کہاں کمند‘‘اس پر حاضرین کی تالیوں کی گونج پہلی مرتبہ سنی۔میں جب بھی پاکستان آتاہوں ،مجھے بے حد مزا آتاہے اورامید ہے میں آیندہ بھی آتارہوں گا۔