گفتگو: خرم سہیل / عکاسی: شکیل قریشی
تعارف
برطانیہ میں بڑی تعداد ایسے پاکستانی نژاد برطانوی افراد کی ہے، جن کے آبائو اجداد کا تعلق تو پاکستان سے ہے، مگروہ خود انگلستان ہی میں پیدا ہوئے۔ انگلینڈ کے موجودہ ادبی منظرنامے پر حنیف قریشی بھی ایسا ہی ایک نام ہیں، جو پاکستانی نژاد ہیں۔ ان کو 2008 میں برطانوی شاہی اعزاز سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ وہ موجودہ دور کے عالمی شہرت یافتہ ایسے پاکستانی نژاد برطانوی ادیب ہیں ، جن کو انگلینڈ کے 50 بہترین ادیبوں میں بھی شمارکیاگیا ہے۔

پاکستانی نژاد برطانوی ادیب اور فلم ساز ۔ حنیف قریشی
حنیف قریشی 5 دسمبر 1954 کو لندن (برطانیہ) میں پیدا ہوئے۔ 1947 میں ان کے والد’’رفیع الشان‘‘ انڈیا سے ہجرت کر کے پاکستان آئے۔ 1950 میں وکالت کی تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے برطانیہ چلے گئے۔ وہ بطور طالب علم مالی وہاں مشکلات کا شکار تھے، تلاشِ معاش میں برطانیہ میں قائم پاکستانی سفارت خانے سے وابستہ ہوگئے، یہیں ان کی اپنی ہم پیشہ برطانوی خاتون سے شادی ہوئی۔ حیرت انگیز بات یہ ہے، حنیف قریشی کے والد کا خواب تھا کہ وہ ایک ادیب کے طور پر زندگی گزاریں، لیکن ایسا نہ ہوسکا، مگر ان کے بیٹے’’حنیف قریشی‘‘ اب برطانیہ کے ایسے معروف ترین ادیب ثابت ہوئے ہیں، جنہیں انگریزی زبان کو تخلیقی پیرائے میں برتنے پر کمال حاصل ہے۔
حنیف قریشی کے دادا’’ایم اے قریشی‘‘ قیام پاکستان سے قبل ہندوستانی فوج میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔ ان کے والد کے بھٹو خاندان سے بھی ذاتی مراسم تھے۔ ان کے ایک عزیز پاکستان کے معروف کالم نویس بھی رہے، ان کا نام عمر قریشی تھا، جو کچھ عرصہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہمراہ انتظامیہ کا حصہ بھی رہے۔ ٹائمز میگزین نے 1947 سے لے کر 2008 تک 50 معروف برطانوی ادیبوں کی فہرست جاری کی، تو اس میں حنیف قریشی کا نام بھی شامل تھا۔ ان کی کہانیوں میں بہت سارے کردار ایسے ہیں، جن کا تعلق ان کی ذاتی زندگی اور آبائواجداد سے ہے، جس کی وجہ سے، وہ اپنے خاندان کی طرف سے تنقید کا نشانہ بھی بنائے جاتے رہے۔
ہماری زندگی میں چاروں طرف کرداربکھرے ہوں تو ان کو بیان کرنے میں کیا حرج ہے
حنیف قریشی نے کنگز کالج، لندن سے فلسفہ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور 1970 میں لکھنے سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا۔ اپنے لکھنے کے ابتدائی دور میں، انہوں نے نہایت سطحی اور کمرشل تحریریں لکھیں، مگر حقیقی نام کی بجائے کئی فرضی نام استعمال کیے۔ انتہائی کم عمری میں تھیٹرکے لیے کھیل بھی لکھے۔ 80 کی دہائی میں فلم نگاری کی شروعات بھی کی۔ ان کی پہلی ہی کامیاب لیکن متنازعہ فلم’’مائی بیوٹی فل لانڈریٹ‘‘ تھی۔ یہ کہانی ان کے نیم سوانحی تجربات پر مبنی تھی۔ یہ فلم آسکر ایوارڈ برائے’’بہترین اوریجنل اسکرین پلے‘‘ کے لیے بھی نامزد ہوئی تھی۔ انہوں نے ایک فلم’’لندن کلنگ می‘‘ کو لکھنے کے علاوہ اس کی ہدایات بھی دی تھیں۔

تیرہویں کراچی لٹریچر فیسٹیول کے ایک سیشن میں حنیف قریشی اپنے خیالات کا اظہار کررہے ہیں
حنیف قریشی بطور ناول نگار، فلم نویس، ڈراما نگار، افسانہ نویس اور مضمون نگار بہت کامیاب رہے۔ ان کی کہانیوں کو تھیٹر، ٹیلی وژن اور فلم کے شعبے میں بہت ساری کامیابیاں ملیں۔ وہ اپنی عام زندگی میں بہت سادہ اور کم گو ہیں۔ زندگی میں ایک طرف ان کو ازدواجی دکھ اٹھانے پڑے، دوسری طرف ان کو ایک فراڈ کے ذریعے زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم کر دیا گیا۔
ان کو پیشہ ورانہ اور ذاتی زندگی میں پاکستانی نژاد ہونے کی سزا بھی ملتی رہی، ان کو نارواں رویوں کا سامنا کرنا پڑا، مگر وہ ڈٹے رہے، پھر زندگی نے ان کو ممتاز برطانوی شہریوں کے ساتھ لاکھڑا کیا۔ وہ پاکستان کے تعلق کو مانتے اور اس پر مسرت محسوس کرتے ہیں۔ وہ پہلی بار 2012 میں پھر رواں برس 2022 کو کراچی لٹریچر فیسٹیول میں تشریف لائے۔
ان کی شخصیت سادہ لیکن بے باک ہے۔ وہ کچھ بھی کہنے سے گریز نہیں کرتے، ایک چھوٹا ساواقعہ ہے، جس سے اس بات کو گہرائی میں سمجھا جاسکتا ہے۔ وہ لندن کی ’’کنگز یونیورسٹی‘‘ سے بطور سربراہ’’کریٹیورائٹنگ‘‘ (تخلیقی لکھائی) منسلک ہوئے۔ لندن میں ہونے والے ایک ادبی میلے میں، انہوں نے کہا’’میرے پاس بہت سارے طالب علم ’’کریٹیو رائٹنگ‘‘ سیکھنے آتے ہیں، مگر ان میں اکثریت کو کچھ نہیں آتا، وہ صرف اپنا وقت ضائع کرتے ہیں، کیونکہ ان کے خیال میں کسی جامعہ میں داخلہ لے کر اس طرح کی لکھائی نہیں سیکھی جاسکتی‘‘۔ 2014 میں برٹش لائبریری نے حنیف قریشی کے تخلیقی کام کے حوالے سے ایک آرکائیوسیکشن بنانے کا اعلان بھی کیا، اس سے ان کے تخلیق کیے ہوئے ادب کے معیار اور برطانوی قدرشناسی کا اندازہ ہوتا ہے۔
فرانس میں ہونے والے 62 ویں انٹرنیشنل کانزفلم فیسٹیول کی جیوری ممبران میں دنیا بھر کے منتخب ستاروں میں سے پہلے برطانوی فلم ساز اورادیب حنیف قریشی، دوسری بھارتی اداکارہ شرمیلا ٹیگور، تیسری چینی اداکارہ شوچی اور دیگر معروف فلمی ستارے موجود ہیں۔
حنیف قریشی نے 9 ناول لکھے ہیں، جبکہ ان کی مختصر کہانیوں کے کئی مجموعے شائع ہوئے ہیں۔ تھیٹر، ٹیلی وژن اور فلم کے لیے لکھی گئی کہانیوں کی تعداد درجن بھر سے زیادہ ہے اور مضامین پر مبنی، ان کی متعدد کتابیں چھپ چکی ہیں، ایک کتاب کی تدوین بھی کرچکے ہیں۔ انہوں نے ناول نگاری کے بعد فلم نگاری کے شعبے میں زیادہ لکھا، لگ بھگ درجن فلمیں ہیں، جن کے اسکرپٹ بھی لکھے۔ ان میں کئی فلموں کو پذیرائی بھی ملی۔ مہورت کو دیے گئے اس انٹرویو میں انہوں نے اسکرپٹ نویسی کے ساتھ ساتھ ناول نگاری ، کہانی نویسی اور دیگر تخلیقی جہتوں کو بہت عمدگی سے بیان کیا ہے ، صرف یہی نہیں بلکہ بطور تخلیق کار اپنے احساساست کے زاویے سے بھی براہ راست اور اثرانگیز گفتگو کی ہے۔
فلموگرافی
مائی بیوٹی فل لانڈریٹ ۔ 1985 سیمی اور روزی گیٹ لیڈ ۔ 1987 لندن کلز می ۔ 1991 (ڈائریکٹربھی) دی بدھا آف سبربیا ۔ 1993 مائی سن دی فینیٹک ۔ 1997 موویشے پاسے ۔ دی اسکارٹ، دی رونگ بلونڈ ۔ 1999 دِس اِز مائی چوکے میسج ۔ 2001 دی گاڈ آف سمال ٹیلز ۔ 2003 دی مدر ۔ 2003 نوٹ سنزا فائن ۔ 2004 وینس ۔ 2006 ویڈنگز اینڈ بیہیڈنگز ۔ 2007 اے میٹنگ ایٹ لاسٹ ۔ 2004 لی ویک اینڈ ۔ 2013 اِنٹی میسی ۔ 2001 (مرکزی خیال) سوینیئر ۔ 2006 (پروڈیوسر) کرائیز ۔ 2011 (پروڈیوسر)
منتخب پوسٹرز
حنیف قریشی کی پیشہ ورانہ کامیابیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کو متعدد اعزازات بھی مل چکے ہیں، جن میں ملکہ برطانیہ کے ہاتھوں ملنے والا شاہی اعزاز شامل ہے۔ ان کی لکھی ہوئی فلموں، ڈراموں، ناولوں، افسانوی اور غیر افسانوی مجموعوں کو مقبولیت مل چکی ہے۔ انہوں نے فلموں کے لیے جو اسکرین پلیزلکھے اورجو ناول نگاری کی اورمختصر کہانیاں لکھیں،ان کی ایک ممکنہ فہرست یہاں درج ذیل ہے، جس کی مدد سے آپ ان کے تخلیقی کام سے متعارف ہوسکتے ہیں اور ان کی علمی جہتوں سے روشناس ہوا جاسکتا ہے۔
ناول نگاری
دی بدھا آف سبربیا ۔ 1990 دی بلیک البم ۔ 1995 اِنٹی میسی ۔ 1998 گبرائیلز گفٹ ۔ 2001 دی باڈی ۔ 2003 سمتھنگ ٹو ٹیل یو ۔ 2008 دی لوسٹ ورڈ ۔ 2014 دی نتھنگ ۔ 2017 وَٹ ہیپنڈ ۔ 2019
افسانوی مجموعے
لو اِن بلیو ٹائم ۔ 1997 مڈ نائٹ آل ڈے ۔ 1999 شی سیڈ ، ہی سیڈ ۔ 2019
انٹرویو
س: آپ اسکرین پلے، تھیٹر رائٹنگ اور ناول نگاری میں سے، جذبات کا اظہار کرنے کے لیے، بہترین ذریعہ کس میڈیم کو سمجھتے ہیں؟
ج: اچھا سوال ہے۔ میں نے جب تھیٹر میں کام کرنے کا آغاز کیا، تو مجھے کسی نے کہا کہ تمھیں فلم لکھنا چاہئے۔ میں ویسے بھی اداکاری سے تھک چکا تھا، لہٰذا میں نے پھر کئی ڈرامے لکھے اوران کی ہدایات بھی دیں، یوں میں نے اس طرح کے کئی کام مختلف میڈیمز میں کیے۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ کوئی ایک میڈیم ضروری ہے، آپ مختلف اصناف میں بھی اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے جوہر دکھاسکتے ہیں۔
س: لیکن آپ کس میڈیم میں کام کرنے کو سہل جانتے ہیں؟
ج: میں تمام میڈیم میں آسانی محسوس کرتا ہوں، لیکن ایک مصنف کے طور پر، لکھنے میں کئی بار خود کو اکتاہٹ کا شکار پاتا ہوں۔ اسی وجہ سے مزاج میں تبدیلی کے لیے میں نے مختصر کہانیاںلکھیں، یوں میری دلچسپی سینما میں بڑھی اور میں نے اسکرپٹ رائٹنگ کی طرف اپنی توجہ کو مبذول کیا۔ یہ سب میرے موڈ پر منحصر ہوتا ہے۔ اس سے میں کافی لطف اندوز ہوتا ہوں۔

حنیف قریشی اپنے کمرہ مطالعہ میں
س: آپ کے خیال میں ایک اچھی کہانی لکھنے کے لیے کن پہلوئوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے؟
ج: یہ بھی عمدہ سوال ہے۔ آپ وہ کہانی لکھیں، جس کو آپ سننا یاپڑھنا چاہتے ہوں۔ میں مختلف جامعات میں بھی پڑھاتا ہوں، مجھے طلبا جب اپنا اسائنمنٹ بھجواتے ہیں ، تو اس اسائنمنٹ کا پہلا صفحہ سب بتا دیتا ہے کہ آگے کا صفحہ پلٹنا ہے یا نہیں۔ اچھی کہانی آپ کو مائل کرتی ہے کہ آپ اگلے صفحے تک اس کو پڑھتے ہوئے جائیں اور اس کہانی کا مطالعہ مکمل کریں۔

خرم سہیل اور حنیف قریشی ۔ دورانِ مکالمہ
س: آپ کی کافی کہانیاں متنازعہ موضوعات پر ہوتی ہیں۔اس پہلو کو آپ کس نگاہ سے دیکھتے ہیں؟
ج: ـمیں وہ لکھتا ہوں، جو میرا دل کرتا ہے۔ یہ پہلو میرے لیے اہم نہیں کہ وہ متنازعہ ہے یا نہیں، میری نظر میں کہانی صرف کہانی ہے۔ میں صبح اُٹھ کر میں اپنے ٹیرس پر کافی پینے کے دوران بیٹھا ہوتا ہوں، کھڑکی سے باہر سڑک پر دیکھتا ہوں،اسی موڈ میں لاشعوری طور میں لکھنا شروع کرتا ہوں اور اس سے لطف کشید کرتا ہوں۔ یہ اہم نہیں ہوتا کہ جو میں لکھنے بیٹھا ہوں وہ متنازعہ ہوگا یا نہیں، یہ تخلیق کار کامسئلہ نہیں ہے۔
س: میرے خیال میں پچھلی صدی کتاب پڑھنے کی تھی، جدید دور میں پڑھنے کے رجحان سے زیادہ دیکھنے کا رجحان بڑھ گیا ہے؟ آپ کیا کہتے ہیں؟
ج: آپ نے بالکل ٹھیک فرمایا۔ ہم ڈیجیٹل دور میں رہ رہے ہیں، ہر کوئی ٹوئیٹر ،فیس بک استعمال کرتا ہے۔ عوام نیٹ فلیکس دیکھ رہے ہیں۔ قاری آئی پیڈ پر ناول پڑھ رہا ہے۔ لوگ یوٹیوب دیکھ رہے ہیں، ہزاروں سے زیادہ پلیٹ فارمز صارفین کے لیے میسر ہیں، جن سے معلومات پہنچتی ہے یا کہانیاں بیان ہوتی ہیں۔ مجھے خود ٹی وی شوز اور فلمیں دیکھنا پسند ہے۔ مجھے اخبار پڑھنے کی بھی عادت ہے، میں اخبار کے صفحات شوق سے پلٹتا ہوں۔ ساتھ ساتھ ان تمام جدید پلیٹ فارمز پردستیاب معلومات اور کہانیوں سے بھی مستفید ہوتا ہوں۔
س: آپ کی لکھی ہوئی کہانیاں، آپ کی زندگی کے ارد گرد گھومتی نظر آتی ہیں؟ کیا یہ ایک محض افواہ ہے یا اس میں کتنی صداقت ہے؟
ج: میں یہ بات میں جانتاہوںکہ میںاپنے سے جڑے لوگوں پر لکھتا ہوں، ضروری یہ ہوتا ہے کہ مجھے پتہ ہو کہ میں لکھ کیا رہا ہوں، اگر میں کسی کردار کا بتا رہا ہوں، تو مجھے یہ پتہ ہو کہ وہ رہتا کہاں ہے؟ اُس کے والدین کون ہیں؟ وہ کون سی زبان بولتا ہے؟ اس کا لباس کیا ہے؟ یہ سب جاننے کے بعد میں اتنا پراعتماد ہوجاتا ہوں کہ لکھ سکوں۔
س: ایک مشکل سوال پیش خدمت ہے۔ــ’’شہوت ایک انسانی جبلت ہے‘‘ کئی افراد اس جبلت کا اظہار نہیں کرپاتے۔ آپ نے برملا اپنی کہانیوں میں کھل کر اس جبلت پر بات کی ہے۔ کیا آپ کولکھتے ہوئے کبھی خوف محسوس نہیں ہوا یا کسی طرح کی کوئی جھجک نہیں ہوئی؟
ج: میں 1960 کی دہائی میں انگلینڈ میں پلا بڑھا ہوں۔ وہاں 70 کی دہائی میںجنسی کشادگی کی تحریک چل پڑی تھی۔ عوام جنسیت پر کھل کر اظہار کرنے لگے تھے، ان میں ہومو، ٹرانس جینڈر، لیزبین، بلوغت، شادی وغیرہ جیسے بے باک موضوعات شامل تھے۔ لوگوں کی اکثریت ان موضوعات پر سوچنے لگی تھی، مجھ پر بھی اس فضا نے اپنے اثرات مرتب کیے۔ میں نے ان موضوعات کو قلم بند کیا، یہ اسی ماحول کاعکس ہے، جسے آپ میری ہاں تخلیقی عمل میں دیکھ سکتے ہیں۔
س: کیا یہی وجہ ہے کہ آپ نے لکھنے کا آغاز پورنوگرافی سے کیا تھا؟
ج: میں نے 70کی دہائی میں پورنو گرافی کو پڑھا اور اُس کو لکھنے کا اپنا ہی ایک مزہ ہے، ہرچند کہ میں نے اس صنف میں بہت کم لکھا۔ میرے بیٹے نے انگلینڈ میں سوپ اوپرہ لکھا اور وہ اس حوالے سے بہت مقبول بھی ہوا۔ جب آپ جوان ہوتے ہیں، تو آپ نئے نئے موضوعات کو آزماتے ہیں، صرف محض ایک موضوع تک ہی محدود نہیں رہتے۔
س: آپ کی تمام کتب کا کئی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے، لیکن اردو زبان میں کوئی ترجمہ نہیں ہوا۔ اس حوالے سے آپ کی کوئی منصوبہ بندی ہے؟
ج: مجھے خوشی ہوگی ،اگر اردو زبان میں بھی میری کتب کا ترجمہ کیا جائے۔
س: مثال کے طور پر، اگر میں آپ کے ناولوں کا ترجمہ اردو میں کرنا چاہوں، تو کیا آپ مجھے اجازت دیں گے، اس کام کو کرنے کا طریقہ کیا ہوگا؟
ج: اس مقصد کے لیے میرے ایجنٹ سے بات کرنا ہوگی۔ ایک پریزینٹیشن تیار کرنا ہوگی، اس میں جرمن، اطالوی، اردو اور جو بھی زبان شامل ہو، اس میں اگر ترجمہ کرنا ہوگا، تو اس سلسلے میں میرے ایجنٹ سے بات کی جاسکتی ہے۔ یہ میرے لیے باعث مسرت ہوگا اور مجھے امید ہے،اردو زبان میں آپ یہ کام بہتر طور پر کرسکتے ہیں۔
س: شکریہ سر۔ میرے خیال میں جو آپ کی کہانیوں کے کردار ہوتے ہیں، وہ زیادہ تر اداس طبیعت کے مالک ہوتے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ آپ کے کردار واقعی اداس ہوتے ہیں یا آپ کی ذات کی اداسی ایسے کرداروں کو جنم دیتی ہے؟
ج: میں آپ کی بات سے اتفاق کروں گا۔ آپ میرا ناول ’’دا بدھا آف سبربیا‘‘ پڑھیں، تو آپ کو اندر سے خوشی محسوس ہوگی۔ میرے کردار کبھی مزاحیہ ہوتے ہیں، کبھی ڈیپریشن میں چلے جاتے ہیں، کبھی خوش ہوتے ہیں، کبھی غمگین ہوتے ہیں، کبھی الجھن میں گھرے ہوتے ہیں۔ میں خوش رہتا ہوں اور شاید میں اپنے کام کو لیکر غلطی کامرتکب بھی ہوسکتا ہوں، لیکن یہ بات درست ہے کہ ان میں سے بہت سارے کرداروں کا تعلق میری ذات اور کیفیات سے ہوتا ہے۔

معروف پاکستانی انگریزی ادیب محمد حنیف کے ساتھ
س: میں انٹرویو کے اختتام پر ہوں، آپ نوبیل انعام برائے ادب کے بارے میں کیا کہیں گے؟
ج: میرے خیال میں ایک اچھا قدم ہے، اگر کسی غریب لکھاری کو اچھے پیسے مل جاتے ہیں۔ مجھے یہ نہیں پسند کہ جو پہلے سے امیر لکھاری ہوں انہیں یہ پیسے دیے جائیں۔ ہمیں نوجوان لکھاریوں کا حوصلہ بڑھانا چاہیے۔ جامعات میں لکھنے سے متعلق کورسز شامل کیے جانے چاہیے۔ خاص طور پر اردو زبان کے لکھاریوں پر توجہ دینی چاہیے، اس سے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
س: انگریزی ناول لکھنے والوں میں، پاکستانی یا انڈین رائٹرز میں پسندیدہ ادیب کون ہے؟
ج: میں کاملہ شمسی کا بے حد مداح ہوں، مجھے محمد حنیف اور محسن حامدبھی پسند ہیں۔ ان کے علاوہ بھی دیگرکافی اچھے ہیں، جو سائوتھ امریکا، انڈیا اور پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ میرے نزدیک لکھاری کا بیک گرائونڈ اہمیت نہیں رکھتا۔ یہ اہمیت رکھتا ہے کہ کتاب کتنی اچھی یا بری ہے۔
س: آپ بھی خاندانی پس منظر کے لحاظ سے، پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں اور اس کا برملا اعتراف کرتے ہیں؟
ج:جی ہاں، میری فیملی کراچی میں رہتی ہے اور مجھے اُن کی کہانیاںکہنا سننا پسند ہے۔ میرے والد کا تعلق پاکستان سے تھا، میری پیدائش تو برطانیہ کی ہے، لیکن میں اس پس منظر کو اپنی ذات کاحصہ سمجھتاہوں اور اس کامجھے اعتراف بھی ہے۔
س: آج کل سینما میں آپ کی کیا مصروفیات ہیں؟
ج: آج کل میں ایک ٹی وی شو کررہا ہوں، جو میرے ناول’’دا بدھا آف سبربیا‘‘ پر ہے۔ میں اس شو کی پہلی قسط لکھ رہا ہوں، جو چھ سے سات حصوں پر مشتمل ہوگی۔

معروف انڈین اداکار اوم پوری سمیت کئی پاکستانی اورانڈین اداکاروں نے یورپی سینما میں حنیف قریشی کی فلموں کے ذریعے رسائی حاصل کی
س: ڈائریکشن میں کام کر رہے ہیں؟
ج: مجھے ہدایت کاری نہیں پسند، البتہ میں نے ایک فلم بھی ڈائریکٹ کی تھی، مگر میرے لیے یہ تجربہ اچھانہیں رہا۔
س: آسکرایواڈ زکے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
ج: جن فلموں کو آسکر ایوارڈ زدیے گئے، وہ میں دیکھتا ہوں۔ اس حوالے سے مجھے کئی فلمیں پسند ہیں۔
س: سینما میں آپ کا پسندیدہ اسکرین پلے رائٹریا فلم ساز کون ہے؟
ج: یہ سوال بھی مجھے بہت اچھا لگا۔ مجھے ’’ایمابرمن‘‘ کی فلمیں کافی پسند ہیں۔ اس کا کام مجھے پسند ہے۔
س: میرا آخری سوال یہ ہے کہ نوجوان لکھاری جو ناول لکھ رہے ہیں، چاہے وہ اردو زبان میں ہوں یا انگریزی، آپ اُن کو کیا مشورہ دیں گے؟
ج: میں یہ کہوں گا، یہ بہت اچھا وقت ہے، جو ٹی وی کے لیے کام کررہے ہیں۔ آپ اگر ٹیلی وژن کے لیے لکھ رہے ہیں، شاعری کررہے ہیں، ناول لکھ رہے ہیں، تو آپ کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ آپ انٹرنیٹ پر اپنا مواد ڈال سکتے ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا، وہ مواد نیٹ پر موجود ہوگا، اگرچہ صارف اُس کو پڑھے یا نہیں، لیکن اُس کی نظر سے گزر ضرور جائے گا۔ پرانے وقت میں آپ کو پبلشر کے پاس جانا پڑتا تھا ، اُس کی منت سماجت کرنی پڑتی تھی کہ وہ آپ کو پیسہ دے گا یا نہیں، لیکن اب آسانی اور آزادی ہے، کیونکہ آپ مختلف ذرائع سے اپنی تخلیقی محنت کی کمائی حاصل کرسکتے ہیں اور اپنا کام سب کے سامنے پیش کرسکتے ہیں۔
س: سر بہت شکریہ ، آپ نے اپناقیمتی وقت عنایت کیا۔
ج: آپ کا بھی شکریہ اچھے سوالات پوچھنے کے لیے۔
۔۔۔۔ ختم شد ۔۔۔۔
حنیف قریشی کی کہانیاں ، بھلے وہ لکھی گئی ہوں یا پھر ان پر فلمیں بنائی گئی ہوں ، دونوں صورتوں میں یہ کہانیاں اور کردار ، ایک عام انسان کے جذبات ، احساسات کے نشیب و فراز کو بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف اپنے ذاتی تجربات کو تخلیقات میں شامل کیا بلکہ اپنے اردگرد سے بھی یہ کہانیاں مشاہدے کی بنیاد پر جمع کیں اور ان سے سماج کی عکاسی کا کام لیا۔ سعادت حسن منٹواور عصمت چغتائی کی طرح ، ان کو بھی معاشرتی دباو کا سامنا رہا ، لیکن انہوں نے جو کچھ دیکھا ، محسوس کیا ،اس کو اپنی کہانیوں میں بیان کردیا ۔
ان کی ایک کہانی کے مرکزی خیال پر بنائی گئی فلم ”انٹیمیسی“ جو 2001 میں ریلیز ہوئی تھی ، اس کہانی میں حنیف قریشی کے بطور تخلیق کار اذیت کو محسوس کیا جاسکتا ہے اور ان کے اندر پنہاں ایک عام انسان کے احساسات کی شدت بھی محسوس کی جاسکتی ہے ۔ بے شک وہ اپنی کہانیوں اور کرداروں کو بیان کرنے میں بے باک مگر غیرجانبدار ہیں۔